کالم/بلاگ

پروفیسرعبدالرحمٰن لدھیانویؒ_ ایک عہد تمام ہوا

 حافظ محمد یوسف

(شاگردِ خاص)

ایک عظیم معلم کا دنیا سے چلے جانا ایک ایسا نقصان ہے جسکی تلافی نہیں ہو سکتی اور معلم بھی ایسا جو دین و دنیا کی رہنماہی کرنے والا ہو۔
پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی ایک ایسی پہچان اور ایسا نام ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔


آپ نے اپنی تمام زندگی تعلیم و مزہبِ اسلام کے فروغ کیلیے صرف کر دی۔
ایف سی کالج اور گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور پروفیسر اپنی خدمات سر انجام دیں۔
مرکزی جمعیت اہلِحدیث پاکستان میں بطور کارکن کام کا آغاز کیا اور ناہب امیر آل پاکستان تک ترقی پاہی۔
پنجاب علماء بورڈ کے سرگرم میمبر رہے
ڈاہریکٹر کالجز پنجاب (DPI Colleges) کے عہدہ پر فائز ہوئے تو محکمہ کو زبوں حالی سے نکال کر خوشحالی کی طرف گامزن کیا۔ اسی دورانیہ میں متعدد مساجد و مدارس تعمیر کرائے،یتیموں، بے سہاروں اور کمزوروں کا سہارا بنے
؎ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

قرآن و سنت کا پرچار اس قدر آسان الفاظ میں کیا کہ سننے والے کے دل میں بات اترتی گئی، سینکڑوں نکاح و جنازے پڑھائے، دینی پروگرامز کیلئے مدعو کیے جاتے تو ہر حال میں وہاں پہنچتے۔

تحفظِ حرمین شریفین،صفِ اول میں
تحفظِ ختمِ نبوتﷺ، سر بکف سر بلند
پاکستان، جان سے بھی پیارا

قصہ مختصر:

اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے دیکھا اور ہر دعا میں اس پاک دھرتی کا زکرِ خیر کرتے رہے۔ دین کی خدمت ایسی کی کہ ہر اسلام پسند بلا تفریق مسلک آپکے علمی قد کا آشنا ہوا۔

مجھ ناچیز سے استادِ محترم کا رشتہ بہت گہرا تھا۔
چونکہ انکی مسجد ہمارے محلہ میں تھی تو بچپن سے ہی آپکو
دیکھتا رہا ہوں اور نمازیں، جمعے اور عیدیں آپ کے پیچھے ہی پڑھیں۔
گیارہ برس کی عمرمیں آپکے مدرسہ شعبہ حفظ القرآن میں داخلہ لیا تو آپکا رجسٹرڈ طالبعلم ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
مدرسہ سے سکول، سکول سے کالج اور پھر یونیورسٹی —
وقت اپنی تیزی سے گرزتا گیا اور استادِ محترم سے رشتہ بھی گہرا ہوتا گیا۔ پھر ہم نے میڈیا ٹیم بنائی جو کہ، روحان، زبیر اور مجھ پر مشتمل تھی۔ اس بنا پر پروفیسر صاحب کا قرب بھی شاملِ حال رہا، آپ جہاں جاتے ہمیں ساتھ لے جاتے، اس رفاقت میں سفر اتنا پر مسرت ہوتا جو کہ کبھی بھولایا نہیں جا سکتا۔ وہ ہمیں دینی اورعلاقائی معلومات فراہم کرتے جاتے جو کہ ہمیشہ علم میں اضافہ کرتی اور ہم ہر مصروفیت ترک کر کے ساتھ چلتے اور ریکارڈنگ کرتے۔ جہاں بھی گئے لوگ انتہائی مودبانہ انداز میں پروٹوکول دیتے ملے اور آپ کو "شَیخ صاحب” کہہ کر مخاطب کرتے۔
راستے میں جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا کار رکوا کر نماز پڑھاتے خواہ موسم و علاقہ کیسا بھی ہو

؎

آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز
قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

روحان اپنی پروفیشنل لائف میں گم ہو گیا، زبیر دبئ چلا گیا اورمیری بھی نائٹ شفٹ میں جاب لگ گئی۔
فاصلے آنے لگے اور سب کچھ بدلتا گیا
لیکن! اگرکچھ نہیں بدلا تو وہ اس ستر(70) سالہ جواں ہمت مردِ مومن کا معمول تھا۔
وقت کو اپنی تیزی سے گزرنا تھا سو وہ گزرتا گیا

؎
قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

مصروف معمولات میں بھی نماز جمعہ اور عیدین استاد جی کے پیچھے ہی پڑھتا اور سوچتا کہ وہ کیسے محبت سے سامعین کے عقائد پختہ کرتے اور نبیِ مہرباںﷺ کی محبت کی تعلیم دیتے۔
؎ نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے

میرے پورے خاندان میں پروفیسر صاحب کا ایک خاص مقام ہے حتٰی کہ رشتہ داروں سے جب بھی ملاقات ہوتی تو آپکی خیریت ضرور دریافت کرتے۔
اس زندگی میں سینکڑوں جنازے اور نکاح پڑھائے۔
جنازے میں ایسی دل جمعی سے دعائیں پڑھتے کہ ہمیں گمان ہوتا کہ پروردگارحاضر میت کے حق میں یہ دعاہیں ضرور قبول کرےگا۔
ایسے بابرکت نکاح پڑھائے کہ گھروں میں خوشحالی آجاتی۔
اپنی مسجد جامع رحمانیہ، محمدی پارک کی اتنی خدمت کی کہ پوراعلاقہ اسکا شاہد ہے۔ پلاٹ خرید کر مسجد کی توسیع کی، تزہین و آراہش اور پھر آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ہوا مینار جسنے مسجد اور علاقہ کی رونق کو چار چاند لگا دیے اور اسکے ساتھ ساتھ ہی مسجد کوعلاقہ کی سبسے بڑی اور خوبصورت جامع مسجد ہونے کا اعزاز بخشا۔ استاد جی کہا کرتے تھے کہ یہ بلند میناراللّٰه کی عظمت کی نشانیاں ہیں۔
بہرحال میری شادی پر بھی آپ چیف گیسٹ تھے، نکاح پڑھایا اور مجھے قیمتی نصیحتیں کیں۔
تقریباََ دو سال بعد میں نے موقع پاتے ہی دوبارہ ریکارڈنگ کا آگاز کیا اور اس بار میرا ساتھی، میرا ہمسایہ اور استاد جی کا شاگرد مبشر احمد تھا،
رکارڈنگ روم (آفس) اور پیج کی رونقیں بحال ہوہیں۔ رمضان بھی بہت اچھا گزرا، سوال و جواب کی نشستیں ہوتی رہیں۔ معتکف حضرات ( اعتکاف والے بھاہی)، مسجد کے آہمہ کرام، کچھ اہلِ علاقہ، صاحبزادہ عبدالمنان اور ہم ریکارڈنگ ٹیم والےسب پروگرام کا حصہ بنتے رہے۔
یوں تو آپ ہمیشہ ہی خوش رہتے تھے مگرمیرا آپکو قریب سے اتناخوش دیکھ کر کلیجہ ٹھنڈا ہو جاتا اسی ضمن میں ریکارڈنگ پروگرام کو وسیع کرنے اور دیگر منصوبوں پر خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے حمایت کی۔
قاری رضوان صاحب کے پیچھے نمازِ تراویح کا موسم آیا تو ایک بار پھر یہ جوان ہمت برزگ ڈیڑھ گھنٹہ کی نمازمیں کھڑے ہو کراپنے رب کے حضور حاضر نظر آیا جس پر مجھ جیسے نوجوان بھی رشک کرتے رہے۔
چاند رات پر آپکی طبیعت کچھ خراب ہوہی تو نقاہت محسوس کرتے ہوئے روہیتِ ہلال کمیٹی والوں کی فون پر سرزنش بھی کرتے رہے۔
دعا ہے کہ ﷲ تعالیٰ آپکی بشری خطائوں سے درگزر کرے اور دین کی خدمات کو قبول کرکے آپکو اعلیٰ علین میں بلند مقام عطا فرمائے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button