کالم/بلاگ

کورونا وائرس اور عید الاضحی …اللہ ہم پر رحم فرما

 

یا پروردگار! ہم سے اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہو ، ہم سے جانے یا نہ انجانے میں کوئی گناہ ہوا ہو تو اپنے پیارے نبی کریمؐ کے واسطے معاف فرمادے ۔ یااللہ ہم تمہارے بندے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں ، تو ہی ہمارا مسیحا اور سننے والا ہے ، ہمیں معاف فرما (امین) ۔
اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کی زد میں ہے ۔ یہ ایک ایسا وائرس جو نظر نہیں آتا ، جو شخص کورونا وائرس کا مرض ہے اس کو خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کورونا وائرس میں مبتلا ہے جس وجہ سے یہ وائرس ایک دوسرے میں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ پوری دنیا اس وائرس کی لپیٹ میں ہے ہر انسان پریشان حال ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں یہ وائرس سب سے آخر میں آیا ، اجب باقی ممالک میں لوگوں کی مرنے کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی تھی ۔اٹلی جیسے ترقی یافتہ ملک میں قبرستان کم پڑے گئے جس وجہ سے لوگوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا ۔ یہ صورت حال امریکہ کی بھی رہی وہاں پر بھی کورونا سے مرنے کی تعداد لاکھوں میں چلی گئی ، حالانکہ میں جن ممالک کی بات کر رہا ہوں یہ ممالک مالی طور پر اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بہت زیادہ ترقی پذیر ممالک ہیں لیکن اس وبا ء سے لڑنے میں ناکام رہے ۔ ہمارا ملک تو ایک غریب ملک ہے ۔ پاکستان میں رہنے والے زیادہ تر غریب مزدور افراد ہیں جو دن رات کی محنت کر کے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں ۔ کورونا وائرس کی وبا نے بری طرح اپنے پنجے گارڈھ دئیے ہیں جو غریب آدمی تھا وہ اب بے روزگار ہو چکا ہے ۔کورونا وائرس کی ڈر کی وجہ سے غریب آدمی گھر سے باہر جانے سے گھبراتا ہے اس وقت پریشانی شروع ہوتی ہے جب اس کے پاس گھر کو چلانے کیلئے کوئی پیسے نہیں ہوتے ۔
الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ اپنے بہن بھائیوں کی مدد کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے ۔ پوری دنیا نے دیکھا اور تعریف کی کہ پاکستانی قوم بہت بہادر قوم ہے جو ایک دوسرے کی مدد کرنے میں دوسری قومیں کو پیچھے چھوڑ گئے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بری آفت سے کافی حد تک بچارکھا ہے ۔ اس طریقہ سے ہمارے ملک میں تباہی نہیں ہوئی جیسے دوسرے ممالک میں ہوئی ۔
قارئین ! اس وقت پاکستان میں کورونا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ بہت زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں ، شائد اس کی وجہ کورونا ٹیسٹ کی استعداد کا بڑھنا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے عید الفطرکے دن سے ملک کے اندرلاک ڈائون کو نرم کیا تا کہ پاکستان قوم اپنے عید کے فریضہ کو ادا کر سکیں ۔ لاک ڈائون کو نرم کرنے کو ہماری عوام نے سمجھا شائد پاکستان سے کورونا وائرس چلا گیا ۔ عوام عید پر خریداری کے دوران حکومت نے جو ایس او پیر بنائے تھا ان کو پش پست ڈال کر گھروں سے نکل پڑے ، جس وجہ سے تیزی سے کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ۔ جس کا نتیجہ آج یہ نکلا کہ اب کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ چھ ہزاد چالیس ہو چکی ہے اور کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 3590ہو گئی ۔عیدالفطر کے گزر جانے کے بعد یہ حالات ہیں ۔
اب عید الاضحی آ رہی ہے لوگوں نے قربانی کے جانور خریدنے کے لئے مویشی منڈیوں کا رخ کرنا ہے ۔ جو سوچنے والی بات ہے کہ ہمارے ملک کے دیہات کورونا وائرس سے بچے ہوئے ہیں لیکن عید قربان پر انہی لوگوں نے اپنے دیہاتوں سے قربانی کے جانوروں کی فروخت کیلئے شہروں کا رخ کرنا ہے ۔ منڈی میں اگر 10ہزار افراد جانور لے کر آتے ہیں تو40سے 50ہزار افراد خریدنے کیلئے آتے ہیں ، اب ایک جانور کو چار سے پانچ افراد ہاتھ لگائیں گے تو کیا بنے گا ؟
دیہات کے لوگ کم پڑھے لکھے اور ان چیزوں سے لاعمل ہوتے ہیں آپ یوں کہہ لیں کہ سادہ لوح لوگ ہوتے ہیں ۔ لیکن شہر کے پڑھے لکھے لوگ کورونا وائرس کو بہت آسان لے رہے ہیں ۔ تو مجھے ڈر ہے عیدالفطر کے بعد جو تعداد بڑھی عیدقربان پر یا اس کے بعد یہی تعداد دوگنا یا تین گنا نہ ہو جائے ۔ حکومت پاکستان کیلئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج سامنے آ چکا ہے ، میں سمجھتا ہوں وزیر اعظم عمران خان پاکستانی قوم کے اندر کورونا وائرس کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں 50فیصد کامیاب ہوئے ہیں ہماری قوم کی سوچ کا یہ عالم ہے کہ کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ گورنمنٹ غیر ملکی امداد کیلئے یہ افواہیں پھیلا رہی ہے کورونا وائرس نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں ۔ یہی وجوہات ہیں کہ آج ہمارا ملک میں بھی تیزی سے کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔گورنمنٹ کو چاہیے کوئی ایسے ایس او پیز بنائیں جس سے پاکستانی قوم کورونا وائرس سے بچ سکے اور پاکستانی قوم سے التجا ہے خدارا! موجودہ حالات کا سمجھیں کورونا وائرس ایک حقیقت ہے کوئی جھوٹ نہیں ۔ اگر آپ دیکھیں اس وائرس میں بڑے بڑے لوگ بھی مبتلا ہو چکے ہیں جن میں سے کئی مر گئے ہیں ۔ اگر ہم نے بے حیثیت قوم ایک دوسرے کا خیال نہ کیا تو یہ نہ ہو ہمارا بھی حال اٹلی یا امریکہ جیسا نہ ہو ! ۔ گورنمنٹ جو ایس او پیز بنا رہی ہے اس پر مکمل عملدرآمد کریں اسی میں ہماری نجات ہے ۔ اگر ہو سکے تو گورنمنٹ مویشی منڈیوں کا ختم کر کے کوئی ایک طریقہ کار واضح کریں ۔ جیسے این جی اوز کے ذریعے بھی اس فریضے کو اد اکر سکتے ہیں ۔ کسئی لوگ تو اجتماع پیسے جمع کر کے یا کسی این جی او کے ساتھ رابطہ کر کے قربانی کا فریضہ ادا کر تے ہیں ۔ تو اس مرتبہ ساری قوم ایسے یہ فریضہ ادا کر سکیں ۔این جی اوز اگر متحرک ہو جائیں تو یہ جو مشکل وقت ا ٓرہا ہے اس سے بچا جا سکتا ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button