کالم/بلاگ

کورونا وائرس اور مافیا

 

کورونا کیا آئے سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دیا ۔ انسان کا رہن سہن ، زندگی گزرنے کا طریقہ کار اور کاروباری معاملات سب تبدیل ہو کر رہ گیا ۔ پتہ نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر عذاب ہے جو شائد ہمارے کسی گناہوں کا کفارہ ہے ۔ جس وجہ سے ہر انسانی پریشان حال ہے ۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے پوری دنیا کے آج حالات بدل چکے ہیں ۔ جہاں ہر طرف رونق ہوتی تھیں اب وہاں پر سناٹا چھایا ہوا ہے ۔ انسان باہر نکلنے سے بھی گھبرا رہا ہے کہ کہیں سے کوئی کورونا نہ ٹکر اجائے جس سے ایک نئی مصیبت میں مبتلا ہو جائے ۔ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے آگے سربسجود ہو کر دعا کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں ہمارے گناہوں سے معافی دے اور اس آفت سے نجات دے ۔ یقینا اللہ بہت بڑا کارساز ہے اور وہ اپنے بندوں کی دعائوں کو رائیگاں نہیں جانے دیتا ۔
قارئین ! پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے جہاں کئی اموات ہوئیں اور کئی افراد اس میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور کئی مسائل سامنے آ چکے ہیں ۔ جو کہ حکومت پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے ۔ پہلے ادوار کی حکومتوں کو ایسے مسائل کا سامنا نہیں تھا جوموجودہ عمران خان کی حکومت کو درپیش ہیں ۔ اس مسائل کے نقصانات بیچاری عوام بھگت رہی ہے ۔ ایک تو جو لاک ڈائون رہا اس سے معیشت کا برا حال ہوگیا جو لوگ دیہاڑی لگا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے آج وہ بے روزگار ہو گئے ہیں ۔ انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔ جو چھوٹی علاقوں میں کھلی کریانہ وغیرہ کی دکانیں ہیں ان کے مالکان بھی اپنی بے بسی کا رونا رو رہے ہیں ۔
ان حالات کے ساتھ ساتھ جو ملکی سطح پر چیلنجز ہیں ۔ ایک طرف سے سندھ حکومت وفاق حکومت پر چڑھائی کئے ہوئے ہیں جبکہ سندھ حکومت کی کارکردگی ان حالات میں بالکل صفر ہے مجھے تو ایسا لگ رہا ہے اگلے الیکشن میں سندھ پیپلز پارٹی سے چھن جائے گا ۔ کیونکہ سندھ حکومت نے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا سوائے عوام کو بھوکا مارنے کے ۔ یہاں تک سپریم کورٹ آف پاکستان نے سوموٹا ایکشن لیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ سندھ پاکستان کا انتہائی کرپٹ ترین صوبہ ہے ۔ میرا خیال ہے پیپلز پارٹی کیلئے یہ انتہائی افسوسناک بات ہے ۔ اس کے باوجود ابھی تک سندھ حکومت اپنا قبلہ درست نہیں کر سکی صرف یہی کہہ رہی ہے کہ وفاق ہمیں پیسے دے تب ہے سندھ چل سکتا ہے ۔ 18ویں ترمیم کے بعد ہر صوبہ خود مختار ہے جبکہ صوبہ سندھ 18 ویں ترمیم ختم کرنے کے مخالف ہے اور خود بھی کچھ کرنے سے قاصر ہے ۔ صرف الزامات اور الزامات کی حکومت چل رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین آج تک پاکستان کی زبان ٹھیک طریقہ سے بول نہیں سکے وہ کیاصوبہ سندھ کو ٹھیک کریں گے ۔
اس کے علاوہ چینی مافیا ، آٹا مافیا ، پٹرول مافیا ، آئی پی پیز مافیا اس وقت یہ بہت بڑا چیلنج حکومت کیلئے بنا ہوا ہے ۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی یہ جو مافیا ہے جن کو پرانی حکومتوں نے پالا ہوا ہے یہ پاکستانی ہیں بھی کہ نہیں ؟
کیا یہ مسلمان ہیں کہ نہیں ؟
کیاان کو اللہ کا خوف ہے کہ نہیں ؟
کیا ان کے دل میں پاکستانی عوام کا درد ہے کہ نہیں؟
یہ وہ سوال ہیں جو میرے دل میں بار بار پیدا ہوتے ہیں ۔ عوام بھوک اور کورونا وائرس سے مر رہی ہے اور یہ مافیا ابھی بھی عوام کا خون چوسنے میں لگی ہوئی ہے ۔ حکومت جس چیز کو سستا کرتی ہے اس کو ہی ملک سے غائب کردیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ پٹرول سستا ہوا اور پٹرول پمپوں سے غائب ۔ آٹا مہنگا کر دیا 1000روپے میں 20کلو آٹے کا تھیلہ عوام کو مل رہا ہے ۔ چینی 90روپے کلو مل رہی ہے ۔ عوام جائے تو کہاں جائے یا بھوک سے مر جائے یا پھر کورونا وائرس سے مر جائے ۔ کوئی پرسان حال نہیں ۔ حکومت ان مافیا کا مقابلہ کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے ۔ آگے کیا ہو گا یہ وقت ہی بتائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button