کالم/بلاگ

کورونا وائرس میں اللہ کی حکمت کیا ہے۔۔۔؟

 

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں مختلف اوقات میں مختلف آزمائشوں کے ذریعے جانچ کی ہے۔ اس وقت کورونا وائرس کی وبا سے کائنات ارضی کا ہر انسان واسطہ اور بلاواسطہ متاثر ہے۔ اس طرح کی آزمائشوں میں اللہ تعالیٰ کی کیا مصلحت اور حکمت ہوتی ہے، اس عنوان کا جائزہ ہم قرآن مجید کی روشنی میں نذر قارئین کرتے ہیں:
اس دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ہو جس کو آزمائشوں سے نہ گزرنا پڑا ہو، ہاں یہ اور بات ہے کہ آزمائشوں کی نوعیت اور ان کی سختی اور مدت میں فرق ہو۔ کبھی اس آزمائش کا تعلق انسان کی اپنی عام مادی ضرورتوں کی تحصیل و تکمیل میں پیش آنے والی سختیوں سے ہوتا ہے اور کبھی حق کے راستہ میں پیش آنے والی مشکلات سے بہرکیف آزمائش سے دوچار ہونا اور سختیوں کو جھیلنا انسان کا مقدر ہے بلکہ اگر آپ ذرا غور فرمائیں تو نسان کی زندگی قرآن حکیم کی رو سے سراسر آزمائش و امتحان ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:

ترجمہ: ”اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں، اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ”ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے“ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایتیں اور مہربانیاں ہوں گی اور ایسے ہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔“
ان آیات میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کیا جا رہا ہے کہ ہر انسان کو آزمائشی دور سے گزرنا ہوگا، اگر وہ اس آزمائش پر پورا اترا تو اس کے نتیجہ میں اس پر دنیا اور آخرت میں رحمتوں کی بارش ہوگی اور وہ آزمائش کس طرح ہوگی؟ اس کے متعلق صاف صاف بیان کیا جا رہا ہے کہ کبھی تو وہ آزمائش خوف و خطر میں مبتلا کر کے لی جائے گی کہ دیکھیں ثابت قدم رہتے ہیں یا نہیں، حق کے راستہ میں قدم ڈگمگاتے تو نہیں اور کبھی یہ آزمائش جانی و مالی نقصانات پہنچا کر لی جائے گی کہ دیکھیں ان نقصانات کی کیا توجیہہ کی جاتی ہے اور ان نقصانات کی پا بہ جائی کے لیے غلط راستہ اختیار تو نہی کیا جاتا۔ اس کے بعد یہ بتلایا جا رہا ہے کہ ان آزمائشوں کے وقت گریہ و زاری، آہ و بکا اور فریاد و فغاں اور شکوہ و شکایت نہیں بلکہ صبر سے کام لینا چاہیے اور نہ صرف زبان سے بلکہ دل سے یہ کہنا اور سمجھنا چاہیے کہ یہ سب خطرات و مشکلات اور نقصانات غیر اختیاری ہونے کی صورت میں، اللہ کی طرف سے ہیں اور ان میں ضرور ہمارے لیے کوئی مصلحت و حکمت پوشیدہ ہے۔ایک دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے
ترجمہ: ”پھر کیا تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل ہو جائو گے حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزرا ہے۔ ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، مارے گئے، یہاں تک کہ رسول وقت اور ان کے اہل ایمان ساتھی پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ اس وقت انہیں تسلی دی گئی کہ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔“
یہاں اس آیت میں ایک اور قاعدہ کلیہ بیان کیا جا رہا ہے کہ فلاح و کامیابی کے حصول کے لیے سختیوں سے دوچار ہونا لازمی ہے اور جس قسم اور جس درجہ کی فلاح و کامیابی مطلوب ہوگی اسی درجہ کی آزمائش بھی موجود ہوگی۔ سمندری پانی کے ریلے میں بہہ کر آ جانے والے کنکر و پتھر تو ساحل سمندر پر بہت، لیکن سیپ میں بند موتی کا حصول بلا غواصی ممکن نہیں۔ اس کے لیے سمندر کی تہہ میں اترنا ہوگا اور جان جوکھوں میں ڈالنی ہوگی۔
ایک بات اور بھی ہے کہ آزمائش کھرے اور کھوٹے کی پہچان کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ ہماری عام زندگی میں جب کوئی مشکل آ پڑتی ہے اور ہم آزمائش سے دوچار ہو جاتے ہیں تو اس وقت دوست اور دشمن کی پہچان ہو جاتی ہے۔ اسی طرح قرآن حکیم کی روشنی میں آزمائش کی ایک حکمت یہ ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں اہل ایمان اور منافق کی پہچان ہو جاتی ہے اور دل کا کھوٹ بھی معلوم ہو جاتا ہے۔ مصائب اور آزمائش و امتحان کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ دیکھیں کون اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے اور کون مزید سرکشی، عصیان یا غفلت میں مبتلا رہتا ہے۔
کبھی کبھی حسن عمل کے لیے یہ آزمائش دنیاوی آسائشوں اور جاہ و منصب کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کبھی یہ آزمائش سختی اور دشواری کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کبھی یہ آزمائش کورونا وائرس کی وبا کی صورت میں لی جاتی ہے کہ اب بھی انسان اپنی نافرمانی کی زندگی چھڑنے پر آمادہ ہے یا نہیں؟ اسے اب بھی خدا یاد ہے یا نہیں؟
ایک مسلمان کے لیے یہ دنیا ایک دارالامتحان ہے اور اس کی یہ زندگی امتحان کی مہلت ہے اور دنیا کی ہر چیز ایک وسیلہ آزمائش ہے خواہ وہ علم ہو یا ہنر، دولت ہو یا منصب، خوشحالی ہو یا بدحالی، آزمائش کا یہ اصول صرف افراد تک ہی نہیں قوموں پر بھی حاوی ہے۔ جو قومیں آزمائش کے ان اصولوں پر پوری نہیں اترتیں ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جاتا ہے جو افراد کے لیے مقدر ہوتا ہے۔ اللہ کی جانب سے آزمائشوں کی اصل حکمت یہ جانچنا ہے کہ ہم میں کون شخص عمل میں اچھا ہے۔ یعنی کس شخص کا عمل اچھا ہے اور آخرت کا اعتقاد رکھنے کے بعد عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے کون مستعد ہے اور یہ بات خوب ذہن نشین رہنی چاہیے کہ وہی عمل اچھا، صحیح اور شرعاً معتبر ہوگا جو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر ہو، جس طریقہ پر صحابہ کرام کا اجماع ہے اور جو تابعین، تبع تابعین اور سلف صالحین سے ثابت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کورونا وائرس کی اس وبا میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت یہ ہو کہ انسانیت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائے اور گناہوں کو چھوڑ دے۔ جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر ظلم ترک کردیں۔ حرام جانوروں کا گوشت اور سوپ کا استعمال چھوڑ دیں۔ جو کورونا وائرس کے پھیلنے کا سبب بنا۔ اور پردہ جو اللہ کا صریح حکم ہے، اس پر عمل کریں۔ آج ماسک کی صورت میں جبراً کروایا جا رہا ہے۔ اس آزمائش کی گھڑی میں اللہ تعالیٰ بالخصوص امت مسلمہ کے خیر کے فیصلے فرمائیں اور بالعموم پوری انسانیت کو اس وبا سے جلد از جلد نجات عطا فرمائیں اور امت مسلمہ کو اس آزمائش میں سرخرو فرمائے۔ (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button