کالم/بلاگ

کھیلوں میں فکسنگ ،حقائق اور اندرون خانہ کہانیاں 4

حافظ شہباز علی

پاکستان کرکٹ میں فکسنگ اسکینڈل میں تیزی آتی جارہی ہے گو کہ یہ معاملہ تو سالوں پرانا ہے مگر جب بھی یہ معاملہ سامنے آتا ہے تو یوں ہی محسوس ہوتا ہے جیسے نئے سرے سے یہ مسئلہ کھڑا ہوگیاہے ،قومی ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک نے پی سی بی کے سوالنامے کا جواب تیار کرلیا ہے تو دوسری جانب عمر اکمل کے معاملے میں چیئرمین پی سی بی نے احسان مانی نے سپریم کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر کو ایڈجیوڈیکٹر مقرر کردیا ہے ۔عمراکمل اور سلیم ملک کے معاملے میں کیا فیصلہ ہو گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ہم انہی سطروں میںپاکستان کرکٹ اور فکسنگ کے حوالے سے بات کرچکے ہیں ،پی سی بی کی تمام تر کوششوں کے باوجود فکسنگ رکنے میں نہیں آرہی ۔کھلاڑیوں اور بکیز کی ملاقاتیں اور گراس روٹ کی سطح تک فکسنگ کس طرح پہنچی اور کس طرح کھلاڑیوں کے فکسرز سے تعلقات بنتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہم نے کھلاڑیوں اور بکیز کے درمیان کلب کی سطح سے ہی تعلقات استوار ہونے اور پھر اس کے طریقہ کار پر بات کی تھی ۔کلب کی سطح کے ٹورنامنٹس کے دوران بہت سے میچز کے نتائج پر بکیز اثر انداز ہوتے ہیں۔ان ٹورنامنٹس کے حوالے سے کچھ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان ایونٹس کے انعقاد میں کسی نہ کسی سطح پر بکیز یا پھر ان کے نمائندے مشاورت میں شامل ہوتے ہیں ۔ بات یہیں نہیں بلکہ اس سے اگلے مرحلے میں ان کلب ٹورنامنٹس میں بننے والے تعلقات آگے بڑھتے ہیں تو پھر ہمارے سامنے ایک کے بعد ایک معاملہ سامنے آتا ہے۔سپاٹ فکسنگ کے ساتھ فینسی فکسنگ کی بات کی جائے تو فکسنگ کی یہ صورت اس وقت بہت زیادہ قابل عمل ہے ۔فینسی فکسنگ میں شرط میں ایک کھلاڑی کے انفرادی اسکور،ہر دس اوور،ہر اوور اور اننگز کے ٹوٹل کا آخری ہندسہ بتایا جاتا ہے ،مثال کے طور پرشرط لگتی ہے کہ اننگز ٹوٹل کا آخری ہندسہ 9ہو گا یعنی کہ ٹوٹل کچھ بھی ہو آخر میں 9آئے گا،اسی طرح بعض اوقات بلے باز کا ٹوٹل بتایا جاتا ہے کہ اس کاٹوٹل یہ ہو گا ،فینسی فکسنگ میںبعض اوقات کھلاڑی بکیز کو اشارہ بتاتے ہیں ،ایک سینئر بلے باز کے بارے میں عام کہاجاتا ہے کہ جب بھی وہ ایک خاص رنگ کا آرم گارڈ پہنتے ہیں تو اُس میچ میںان کے آﺅٹ ہونے پر اکثر اعتراضات سامنے آتے ہیں۔بات یہیں ختم نہیںہوتی بلکہ اگر ہم ٹیپ بال کرکٹ کی بات کریں تو یہ باقاعدہ فکسنگ کی بہت بڑی انڈسٹری بن چُکی ہے ،ٹیپ بال کرکٹ میں پانچ ،چھ یا دس اوور کے میچ پر لاکھوں روپے کا جوا ہوتا ہے ،اس کرکٹ میںٹیپ بال کی بڑی ٹیمیں چلانے والے آرگنائزرز نامی گرامی کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے دے کر میچ کھیلنے کے لئے راضی کرتے ہیں۔بہت سے آرگنائزرکھلاڑیوں کو ایک ایک میچ میں لاکھوںروپے دیتے ہیں ۔اس میں کئی کھلاڑی کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک میچ سے لاکھوں روپے کماتا ہے ۔اس میں طریقہ کار کے مطابق کھلاڑی اگر میچ کھیلنے کا آرگنائزر سے ایک لاکھ روپے وصول کرتا ہے اور میچ پر لگنی والی شرط کے برابر پیسے اپنی جیب سے دے کر اپنی ٹیم کی شکست پر پیسے لگوادیتے ہیں اور پھر وہ کھیلنے کے پیسے وصول کرنے کے باوجود اپنی ٹیم کو شکست دلوادیتے ہیں ۔اسی طرح نیشنل اور نٹر نیشنل کرکٹ میں کئی کھلاڑی کمال مہارت سے بکیز یا فکسرز کی بجائے اپنے کسی قریبی دوست کے ذریعے اپنی جیب سے لاکھوں روپے دے کر ان کو مخصوص ٹپس دے کر میچ میں اپنی کارکردگی پر لاکھوں روپے کماتے ہیں ۔یہ ایک ایسا دھندہ ہے جس کو پکڑنا ایک انتہائی مشکل کام ہے مگر بدقسمتی ہمارے ہاں ابھی تک اس معاملے پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔
ہم نے پہلے بات کی کہ کلب یا ڈومیسٹک سطح کے ٹورنامنٹس ہی کھلاڑیوں اور بکیز کے رابطوں کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہیں ،
جدید دور میں کھلاڑیوں اور بکیز کے درمیان رابطوں کے طریقہ کاراور معاملات طے کر نے کی بات کی جائے تو میسجز میں آنے مختلف سائن طے کیے جاتے ہیں۔موبائل میں میسجز اور وٹس ایپ پر میسجز میں موجود مختلف سائن استعمال کئے جاتے ہیں جس میں نوبال ،وائیڈ بال ،سنگل ،آﺅٹ کے لئے مختلف سائن استعمال کئے جاتے ہیں ،اب یہاں ایک اہم بات یہ ہے موجودہ دور میں کراچی میںہونے والے رمضان ٹورنامنٹس کھلاڑیوں اور بکیز درمیان رابطوں کا ایک سب سے اہم ذریعہ ہیں،کچھ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ان ٹورنامنٹس کے آرگنائزر کے بکیز کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ گہرے مراسم ہیں ،اس سال تو کرونا وائرس کی وجہ سے رمضان کرکٹ نہ ہوسکی مگر گزشتہ برس ہونے والے اہم ٹورنامنٹس کے دوران کھلاڑیوں کی سرعام بولیاں لگانے کی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے پرائیویٹ ٹورنامنٹس کےلئے این او سی جاری کرنے کےلئے بہت سخت قواعد وضوابط متعارف
کروائے تھے،ان ٹورنامنٹس میں بہت بڑے پیمانے پر سپانسر شپ ہونے کی وجہ سے جواریوں کے معاملات کہیں نہ کہیں دب جاتے ہیں مگر ایک بات طے ہے کہ بہت سے ایونٹس صرف بکیز کو خوش کرنے کے لئے ہی کروائے جاتے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ واقفان حال بہت اچھے انداز میںجانتے ہیں کہ ایک عام کرکٹر رمضان ٹورنامنٹس سے ایک ماہ میں تین سے پانچ لاکھ روپے بآسانی کمارہا ہے اور بہت سے کرکٹرز ایسے ہیں جو کہ پورے سال کی کمائی رمضان کرکٹ سے کر لیتے ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ ان ٹورنامنٹس میں ملک کے کئی نامور کرکٹرز بھی ایکشن میں ہوتے ہیں اور اکثر نامور کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں اہم میچز میںجس انداز میں شکست کھاتی ہیں ان پر بہت سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں،اس کےساتھ ساتھ ان ٹورنامنٹس ملک میں موجود زیادہ تر سٹار کھلاڑیوں کا مسکن وہی شہر ہوتا ہے جہاں یہ ٹورنامنٹس ہورہے ہوتے ہیں اس لئے انہی ٹورنامنٹس کے دوران کھلاڑیوں کے بکیز کے درمیان روابط مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ہونےوالے قومی اور بین الاقوامی ایونٹس کے حوالے سے معاملات طے پاتے ہیں ،یہاں ایک بات بہت اہم ہے کہ کئی مرتبہ ان ٹورنامنٹس کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں ضرور آتے ہیں یہ صرف وقتی طور پر ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ان ایونٹس میں سامنے آنے والی شکایات پر بورڈ کی سطح پرسخت اقدامات نہ کئے جانا اس معاملے کے بڑھنے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔آئندہ دنوں میںہم بتائیں گے کہ میچ کے دوران کتنے لوگ کھلاڑیوں کو کنٹرول کرتے ہیں اور یہ میچز کے دوران کہاں موجود ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ ٹیموں کی سلیکشن اور سٹی ،ڈسٹرکٹ اور ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کے معاملات میںمعاملات پر یہ مافیا کس طرح حاوی ہوتا ہے ۔(جاری ہے)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button