کھیل

کھیلوں میں فکسنگ ،حقائق اور اندرون خانہ کہانیاں 5

حافظ شہباز علی

hafee23@gmail.com

ہم فکسنگ اور پاکستان کرکٹ کے حوالے سے بہت سے معاملات اپنے قارئین تک پہنچا چکے ہیں۔گزشتہ ہفتے انہی سطروں میں ہم نے بتایا تھا کہ فینسی فکسنگ کس طرح ہوتی ہے اور کھلاڑیوں اور بکیز کے درمیان روابط معاملات کس انداز میں طے کئے جاتے ہیں ۔یہاں یہ بتاتے چلیں کہ بہت سے دوستوں نے کرکٹ میں فکسنگ کے حوالے سے معاملات پر اپنی رائے کا بھی اظہار کیا ہے ،معاملہ یہ ہے کہ 1979-80ء میں پاک بھارت سیریز اور پھر کیری پیکر کے انعقاد کے بعد سے کرکٹ میںفکسنگ کے حوالے سے ان گنت اسکینڈلز سامنے آئے بہت سے الزامات بھی لگے اور بہت سے کھلاڑیوں کو جرمانے ہوئے پابندیاں لگیں کئی کھلاڑیوں کے کیرئیر دائو پر لگے میڈیا میں زیادہ تر یہ چیزیں رپورٹ ہوتی رہیں میڈیا پر کھلاڑی بے نقاب بھی ہوئے مگر اتنے طویل عرصے میں کبھی اس قسم کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں کہ کھلاڑیوں کے معاملات کس طرح طے پاتے ہیں کس سطح سے فکسنگ شروع ہوتی ہے اور دیگر بہت سے معاملات کبھی اس طرح سامنے نہیں آئے جس وجہ سے یہ فکسنگ کی لعنت گراس سطح تک سرایت کرگئی ہے اور یہ معاملہ کنٹرول ہونے میں نہیں آرہا۔
اگر ہم یہ کہیں کہ انٹر نیشنل میچز کے دورن بکیز اور کھلاڑیوں کے درمیان رابطہ کار اسٹیڈیم کے اندر مختلف جگہوں پر موجود ہوتے ہیں تو اس پر آپ کو بالکل حیرانگی نہیں ہونی چاہیے ۔کیوں کہ یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے مگر اس حوالے سے لوگوں تک کبھی حقائق نہیں پہنچے ۔اس سلسلے میں ہماری اطلاعات اور معلومات کے مطابق میچز کے دوران بکیز کے نمائندے اسٹیڈیم کے مختلف انکلوژرز میں تماشائیوں کے درمیان موجو د ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اسٹیڈیم میں موجود کئی لوگ جن میں اسٹیڈیم کے اندر مختلف اشیا فروخت کرنے والے افراداور ذمہ داریاں نبھانے والے افراد بھی ان کے آلہ کار کے فرائض انجام دیتے ہیں۔معلومات کے مطابق میچز کے دوران اسٹیڈیم میں موجود بکیز کے نمائندے کھلاڑیوں کو کنٹرول کرتے ہیں ۔یہ نمائندے گرائونڈ کے چاروں اطراف میں موجود ہوتے ہیں اور جب بلے بازیا بائولر طے شدہ انداز میں ان کو اشارہ دیتا ہے تو یہ فوری طور پر اپنے بکی ساتھی کو طے شدہ طریقے سے پیغام پہنچا دیتے ہیں کہ اگلی گیند پر سنگل ہو گا ،ڈاٹ بال ہوگا ،یا بائولر نوبال یا وائیڈ بال کرے گا ،گرائونڈ سے موصولہ معلومات پر بکی اُس مطلوبہ گیند پر روٹین سے زیادہ رقم کا جوا کھیل کر بھاری رقم کماتے ہیں۔ یہ سارا معاملہ اتنی مہارت سے ہوتا ہے کہ عام آدمی کا ذہن اس چیز کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ ہوکیا رہا ہے ۔تمام تر کوششوں اور کارروائیوں کے باوجود بھی سپاٹ فکسنگ اور فینسی فکسنگ رکنے یا کم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ۔اس کی بہت سی وجوہات ہیں مگر دو بہت اہم وجوہات جن پر کبھی خاص توجہ نہیں دی گئی اور انہی کی وجہ سے یہ معاملہ دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے ۔گراس روٹ لیول پر بڑھتی ہوئی فکسنگ کی بہت بڑی وجہ ان ٹورنامنٹس کے ڈراز اور دیگر معاملات میںہونے والی غلطیاں ہیں کیوں کہ یہ ڈراز نکالنے کا کوئی طریقہ رائج نہیں ہے بلکہ ایونٹ آرگنائزرز اپنی مرضی سے بیٹھ کر ٹیموں کے میچز نکال دیتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ایونٹس کی آرگنائزنگ کمیٹی میں شامل اراکین کے مختلف مشکوک لوگوں سے رابطے ہونا بلکہ کئی مرتبہ تو آرگنائزرز کے براہ راست نام بھی ان سرگرمیوں میںسامنے آتے ہیں اور پھر کئی ایسے لوگ جو کہ براہ راست کلب کے ساتھ منسلک ہوتے ہیںوہ بھی ان مشکوک سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں۔کچھ ایسی معلومات ہیںکہ پاکستان میں کئی کلبوں کے عہدیداران بھی مشکوک دھندے میں شامل ہوتے ہیں ،ماضی میں ایک ریجن کے صدر کو اپنی ٹیم کے ہمراہ چیمپئنز لیگ میں منیجر بن کرجانے سے آئی سی سی نے روک دیا تھا جس کے بعد اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ مذکورہ ریجنل صدر کے مشکوک معاملات پر آئی سی سی کے پاس بہت سی معلومات موجود تھیں اور اسی لیے ان صاحب کو ٹیم کامنیجر بننے سے روک دیا گیا تھا ۔ مذکورہ شخصیت کے خلاف بعد میں خفیہ طور پر انکوائری بھی کی گئی تھی جس کے بعد اس شخصیت نے ریجنل کرکٹ کی سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ مذکورہ شخصیت کی ملک کے ایک بڑے سیاسی گھرانے کے ساتھ قریبی رشتے داری بھی ہے۔اس ایک واقعہ سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فکسنگ مافیا کس قدر مضبوط اور اس کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔ا س کے ساتھ ساتھ کئی مرتبہ اہم ایونٹس سے قبل اچانک کوئی نہ کوئی کھلاڑی پیراشوٹ کے ذریعے ٹیم میں منتخب ہوجاتا ہے کہا یہ جاتا ہے کہ ایسا کھلاڑی عام طور پر کسی بڑی شخصیت کی مداخلت پر ٹیم میں منتخب ہوتا ہے اگر ورلڈکپ 2011,ورلڈکپ2015اور ورلڈکپ 2019کے لئے قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کا جائزہ لیں تو تینوں مرتبہ آخری لمحات میں کوئی نہ کوئی ایسی سلیکشن ضرور ہوئی جس پر طویل عرصے تک سوالات اٹھائے جاتے ہیں آج بھی ورلڈکپ 2011میں سپیڈ سٹار شعیب اختر کو کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل میں نہ کھلانے پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور اُس وقت کے کپتان شاہد آفریدی اور ٹیم انتظامیہ آج تک اس حوالے سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں دے پائے ۔اس لئے یہ بات طے ہے کہ اہم ایونٹس سے قبل کسی نہ کسی کھلاڑی کی اچانک ٹیم میں شمولیت کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی کار فرما ہوتی ہے ،قومی کرکٹ ٹیم کے ایک سٹار بلے باز نے راقم
کو خود یہ بتایا کہ 1999ء ورلڈکپ کے بعد جب قومی ٹیم کو فائنل میں شکست ہوئی تو اس کے بعد کھلاڑی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تو اس کمیٹی کے ایک رکن بضد تھے کہ میچ فکسنگ ہوئی ہے جبکہ اُس بلے باز کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہواجس پر کمیٹی کے رکن نے چلاتے ہوئے اس بلے باز سے کہا کہ تم کیسے کہتے ہو کہ فکسنگ نہیں ہوئی جبکہ میرے فلاں عزیز نے ایک بھاری رقم پاکستان کی شکست پر لگائی تھی جس پر وہ سٹار بلے باز بھی ہکا بکا رہ گیا کہ یہ صاحب کیا فرما رہے ہیں۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں جوا کس سطح تک پھیلا ہواہے،کوئی مانے یا نہ مانے مگر ایک بات طے ہے کہ نہ صرف ہمارے ہاں بلکہ کرکٹ کھیلنے والے دیگر ممالک میں کرکٹ سے ہٹ کر دیگر کھیلوں میں ٹیموں کے انتخاب میں کرپٹ مافیا کسی نہ کسی صورت میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔اب یہاں ایک اور اہم بات کہ کھلاڑی اس مافیا سے رقم کس طرح وصول کرتے ہیں تو واقفان حال بتاتے ہیں کہ اس قسم کے معاملات میں ملوث کھلاڑیوں کے ایک نہیں بلکہ کئی کئی اکائونٹس ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپنے عزیز واقارب اور بہن بھائیوں کے اکائونٹس بھی ایسے معاملات کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ کئی مرتبہ ڈیل کی رقم براہ راست لینے کی بجائے کوئی پراپرٹی ،کوئی پلازہ ،کوئی زرعی زمین ،قیمتی گاڑیاں اور بڑے بڑے تحفے تحائف وصول کئے جاتے ہیں درحقیقت تحفے تحائف نہیں ہوتے بلکہ ڈیل کی رقم وصولی کا ایک طریقہ ہے ۔اسی طرح فکسر مافیا ان کھلاڑیوں کے کہنے پر ان کے عزیز واقارب کوتحفے بھجواتے ہیں جو ان تک پہنچا دئیے جاتے ہیں ۔پی سی بی اور دیگر تمام بورڈز تمام تر کوششوں کے باوجود اس معاملے کو روکنے میں ناکام ہیں ۔آئندہ آنے والے دنوں میں ہم فکسنگ کی ایک نئی صورت ،انٹر نیشنل میچز میں لین دین اور پھر کھلاڑیوں کے خلاف شواہد نہ ملنے کی وجوہات سے آگاہ کریں گے۔
(جاری ہے)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button