کالم/بلاگ

ہوٹل انڈسٹری کو پرائیویٹ سکولز جیسا آشرباد نہ مل سکا

محمد عزیر علی

کرونا کے سبب دنیا کے تمام کاروبار متاثر ہوۓ. لیکن کچھ حکومتی ریلیف پیکج کا سہارا پا گۓ اور کچھ ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ کھول دیے گۓ اور کچھ بند ہی نہیں ہوۓ, پرائیویٹ سکولز جنہیں تمام تعلیمی سرگرمیاں بند ہونے کے باوجود بیس فیصد کٹوتی کے ساتھ فیس لینے کی اجازت دی گئی حالانکہ پرائیویٹ سکولز کی اکثریت نے اپنا اضافی سٹاف فارغ کر دیا تنخواہوں میں کٹوتی شروع کر دی اور سکولز بند ہونے کے باعث ان کی بجلی اور دیگر یوٹیلیٹیز کا استعمال بھی نہ ہونے کے برابر رہ گیا لیکن پھر بھی پرائیویٹ سکولز والدین سے پوری فیس طلب کرتے رہے اور صوبائی وزیر تعلیم براۓ سکول ایجوکیشن نے ان کے سر پہ ہاتھ رکھے رکھا.جبکہ فارغ ہونے والے اساتذہ اور والدین کی بالکل سنوائی نہ ہوئی. اسی طرح چھوٹے کاروباری حضرات کو حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں چھوٹ اور رعایت جیسی سہولیات دی گئی , کریانہ , پھل , سبزی, دودھ دہی, میڈیکل سٹورز اور طبی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے بنیادی ضرورت ہونے کی وجہ سے ایس او پیز کے تحت کھلے رہے, کنسٹرکشن اور لیبر , پلمبر الیکٹریشن وغیرہ بھی کھل گۓ, ماسک بنانے اور بیچنے کا کاروبار عروج پہ ہے جب ماسک مارکیٹ میں دستیاب نہ تھے تو حکومت کا بیان اور کیمپین تھی کہ ماسک سب کے لیے ضروری نہیں آج جگہ جگہ ماسک بنانے کی مشینیں چل رہی ہیں تو ماسک پہننا بھی لازم ہے. اب وہ ماسک جس بھی ماحول میں تیار ہوں کیسے ہی ہاتھوں سے گزر کر آیا ہو کیوں کہ کاروبار چل نکلا ہے اس لیے اب سب کے لیے ماسک لازم و ملزوم ہے, لیکن ہوٹل انڈسٹری , ریسٹورانٹس اور بینکویٹ ہالز جن سے ہزاروں نہیں لاکھوں افراد کا روزگار وابسطہ ہے اسے حکومت نے بالکل نظر انداز کر دیا, نہ کوئی ریلیف پیکج ملا اور نہ ہی ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ ہوٹل , ریسٹورانٹ اور بینکویٹ ہالز کے کاروبار چلنے اور کھلنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گۓ. جبکہ وزیراعظم عمران خان صاحب متعد بار سیاحت کے فروغ کے لیے بیانات داغ چکے ہیں.
گیسٹ ہاؤسز , ہوٹلز , ریسٹورانٹس اور شادی ہال کا کاروبار کرنے والوں کی اکثریت نے جگہ کراۓ پر لے کر کاروبار کر رکھا ہے اور اب 4 ماہ ہو چکے اور سینکڑوں ہوٹلز اور ریسٹورانٹس بلڈنگ کراۓ اور دیگر اخراجات ادا کرنے کے لیے جمع پونجی لگا کر اور قرضے لے کر ادا کرنے کے بعد بند ہو چکے ہیں اور جو رہ گۓ ہیں وہ بھی آخری دموں پہ ہیں. جب مالکان کے لیے حالات یہ ہیں تو دیگر منیجمنٹ, ویٹر , بیرے , سویپر, فرنٹ ڈیسک اور منیجرز کے حالات بھی سوچے جا سکتے ہیں. پرائیویٹ سکولز تو مجبور والدین سے فیس بٹور کر اپنا نظام باآسانی چلا رہے ہیں لیکن ہوٹل انڈسٹری کے پاس ایسا کوئی آپشن نہیں ہے. ہوٹل بلڈنگ کے کراۓ لاکھوں میں ہوتے ہیں اور ضروری اسٹاف و دیگر ضروری اخراجات کی ادائیگی لازم ہے لیکن کاروبار صفر ہے. ان بدترین حالات میں ہوٹلز اور شادی ہال یونینز بھی بے بسی کے عالم میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہی ہیں اور حکومت سے مطالبات کر رہی ہیں لیکن تاحال نہ کوئی ریلیف پیکج ملا اور کرونا کے باعث نہ کوئی امید کی کرن دکھائی دی. ہوٹل یونین کے عہدیداران کا مطالبہ ہے کہ گلگت مری اور گلیات کو سیاحت کے لیے کھولا جاۓ. بیروزگار ہونے والے افراد مجبورا پھلوں سبزیوں اور دیگر اشیاء کی ریڑھیاں لگا رہے ہیں جہاں نہ کوئی ایس او پیز پوچھنے والا ہوتا ہے نہ کرونا ہوتا ہے جبکہ ہوٹل انڈسٹری کا سٹاف جو ہر لحاظ سے محتاط اور ٹرینڈ ہوتا ہیں بیروزگاری لیے گھوم رہے ہیں.
ایک اور خطرناک بات کہ ان بدترین حالات میں مجبور ہو کر اچھی شہرت کے حامل ہوٹل بھی قحبہ خانوں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور پولیس کے تعاون سے سب چل رہا ہے . حکومت کو سوچنا چاہیے کہ ہوٹلز کے قحبہ خانوں میں تبدیل ہونے سے کرونا پھیلے گا یا ایس اور پیز کے تحت کاروبار کے فروغ اور بحالی بہتر رہے گی ؟
اور ایک اہم بات کہ پنجاب پولیس نے کرونا میں بھرپور ترقی کی اور کاروبار میں اضافہ کیا ہے , سگریٹ کا کھوکھا ہو یا بار بی کیو شاپ , قحبہ خانہ ہو یا آئس کریم شاپ بھتہ دو کام کرو. ہفتہ اتوار کو آدھا شٹر کھول کر کاروبار کرو نیز سات بجے کے بعد بھی اگر دکان کھلی رکھنا چاہو تو ٹھیک بس پولیس کی جیب گرم کرتے رہو , ایسا سمارٹ لاک ڈاؤن اور انتظامیہ عوام پہ عذاب کی طرح مسلط ہے جبکہ اسی بحران کے دوران ضلعی انتظامیہ کو استعمال کرنے کے بجاۓ ختم ہی کر دیا گیا اور نام نہاد ٹائیگر فورس تشکیل دی گئی جو کہیں دکھائی بھی دی تو برائی میں ہی دکھائی دی اور کہیں کوئی قابل تعریف کارنامہ سامنے نہ آ سکا.
حکومت سے التجا ہے کہ ایک بار اچھی طرح سوچ کر پلان کر لیں کہ کرنا کیا ہے ایس او پیز کیا ہوں گے اور لاک ڈاؤن , سمارٹ لاک ڈاؤن , ویری سمارٹ لاک ڈاؤن اور بھتہ دو لاک ڈاؤن کے نتائج کیا ہوں گے . ویسے بھی بقول یاسمین راشد یہ قوم اور خصوصی طور پہ لاہوریے جاہل ہیں اور نہ کسی ایس او پیز پہ عمل کرتے ہیں نہ حکومتی رٹ کے زیر اثر آتے ہیں اسلیے کرونا پھیلنے نہ پھیلنے اور کم ہونے میں حکومت اور عوام کا کوئی ہاتھ نہیں یہ بس اللہ کے ہی کام ہیں.
باقی زرتاج گل کے جو کویڈ انیس پوائنٹس ہیں ایسی دماغی انیس بیس اکثر وزرا اور خود وزیراعظم میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے. اللہ اس ملک کے حال پہ رحم کرے. آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button