کالم/بلاگ

اسلام میں خدمتِ خلق کاتصوّر

  مولانا احمد ضیاء منچن آباد
03017374121

خدمت خلق ایک ایسی عبادت ہے جس سے اللہﷻاور کا پیارا محبوبﷺ خوش ہوتے ہیں۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا( خیرُالنّاسِ من یَنفَعُ النّاس)
ترجمہ۔لوگوں میں سے بہترین وہ ہے جولوگوں کونفع پہنچاۓ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف بہترین سانچہ میں ڈھال کر خوبصورت ہی نہیں بلکہ انسان کو اس کائنات کا تاجدار بنایا اور ہر چیز کو اس کے لیے مسخر بنا کر اس کی خدمت میں مصروف کردیا .
حدیث مبارکہ
میں آتا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اسلام کا بہترین عمل کھانا کھلانا اور اسلام کو رواج دینا ہے .
اس دور میں جب ہر آدمی اپنی جان بچا کر گھروں میں چھپ کر بیٹھے ہیں تو ایک ایسا عملہ جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر خدمت خلق میں مصروف ہے . اپنی جان دے کر دوسروں کی جان بچا رہے ہیں وہ سفید پوش حضرات جو در بے در جاکر دیکھ بھال کر رہے ہے .
یہ وہ وقت ہے گھر والے ایک دوسرے سے دور ہیں لیکن ڈاکٹرز نرسری اور مڈیکل عملہ فوج پولیس ریسکیوں ان کے علاوہ تمام سرکاری غیر سکاری جوابھی بھی خدمت خلق میں مصروف ہیں اللہ تعالی تمام کی خدمت کو قبول فرماۓ۔
امام رازیؒ نے بنی اسراٸیل کے ایک سخص کا واقعہ بیان کیاہے کہتے ہیں کہ ایماندارآدمی بھوک میں مبتلا تھا، سفر پر جارہا تھا، راستے میں ریت کے بڑےبڑے ٹیلےنظرآۓ اس نے کہا کاش میرے پاس ریت کے ان ٹیلوں کے برابراناج ہوتا تو میں سب بھوکوں کو تقسیم کردیتا۔چونکہ خود اس وقت بھوکا تھا۔اسے بھوک کی تکلیف محسوس ہوٸی تو اس نےدوسرے بھوکوں کو خیال میں لاتے ہوۓ یہ بات کی۔کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کو اس کی بات پسند آٸی۔چنانچہ اس وقت کے نبی پروحی نازل ہوٸی اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس کے برابر غلہ تقسیم کرنے کا ثواب عطا کر دیاہے۔اللہ تعالی نے تیرا صدقہ قبول کرلیا ہے جیسی اچھی نیت تھی ہم نے ویساہی اچھی اجرت عطا کیا ہے۔
ایک ضرورت مند کی مددعظیم ترین کاموں میں سے ایک ہے۔
انسان دولت مند نہ ہوتے ہوۓ بھی سات طریقوں سے انسانوں کی مددکرسکتاہے۔
1۔جسم کی مدد:
یہ اعلیٰ ترین قسم اپنی زندگی قربان کر دیناہے مثلاًوطن کی حفاظت کرتے ہوۓ اپنی جان قربان کردینا۔
2۔روحانی مدد:
اس سے مرادہے دوسرےلوگوں کے ساتھ ہمرردی سے میل جول رکھنا اور انہیں تسلی وتشفی دینا
3۔نظر کی مدد:
دوسروں کو محبت بھری نظرسے دیکھناتاکہ انہیں سکون ملے۔
4۔چہرے کی مدد:
یعنی دوسرے سے مسکراتے ہوۓملنا اور اس کاخوشی خوشی استقبال کرنا۔
5۔قول کی مدد:
اجنبیوں اور ساتھیوں سے محبت بھرے الفاظ سے بات کرنا اور نفرت وغصے سے پرہیزکرنا۔
6۔نشست کی مدد:
یعنی محفل یا بس میں اپنی سیٹ کسی بوڑھے یا بیمار کودے دینا آپ کار یا موٹر ساٸکل پر سوار ہوں تو بوڑھے معزور یا ضرورت مند کو جگہ دینا۔
7.جاۓ پناہ کی مدد:
اس سے مراد ضرورت مندوں کو ایک رات کے لیے اپنے گھر ٹھہرا لینا۔
سات اقسام کی یہ امداداس قسم کی ہیں کہ ایک عام آدمی بھی اپنی زندگی میں انہیں اپنا کر دکھی انسانیت کا دکھ بانٹ سکتا ہے۔
لیکن آدمی کسی ضرورت مند کو دیکھ کر اس کی مدد کرے تویہ مددضرور ہوگی مگر سچی نہیں۔۔۔سچی مددوہی ہے جو ہاتھ پھیلانے سے پہلےدی جاۓ اور سچی مدد ہمیشہ دی جانی چاہۓ۔
یاد رکھو۔خدمت خلق اور لوگوں کی ضرورتوں کو پوری کرنا نہایت ہی عظیم عمل ہیں اور ان اعمال صالحہ میں سے ہے جن کے ذریعہ بنده الله تعال کا قرب حاصل کر تا ہے . خدمت انسانیت کی ہو خواہ حیوان کی خلوص دل کے ساتھ کی جائے تو معمولی سا معمولی کام بھی جہنم سے آزاد اور جنت میں داخلہ کا سبب بن سکتا ہے .
اگر خدمت کا جذبہ ہو تو کئی صورتیں نکل سکتی ہیں مثلاً کسی کا کام کرنے کے لیے اس کے ساتھ جانا کسی کو گاڑی کے ذریعے اس کے گھر یا منزل مقصود تک پہنچا دینا۔
اپنے کام کیسا تھ دوسروں کا کام بھی کردینا کسی۔ مظوم کا حق دلوا دینا۔
راستہ سے تکلیف دہ کا ہٹا دیناوغیره۔
صبر استطاعت خدمت خلق کی بے شمار صورتیں ہیں۔ یار رکھیں !
جب تک ہم دوسروں کو پسندیدہ چیزیں نہیں دیں گئے اس وقت تک خدمت کے اصل ذائقے کو نہیں چکھ سکے گئے .

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button