کالم/بلاگ

اسلام میں عورت کی ذمہ داریاں

اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں عربوں میں عورتوں کا کیا حال تھا۔ ذرا دیکھیے۔ لڑکی پیدا ہوتے ہی عام طور پر زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھی۔ بعض حالات میں محض تفریح کی خاطر عورت کے بال اونٹ کی دم سے باندھ کر اونٹ کو دوڑایا جاتا تھا، املاک و جائیداد پر عورتوں کا کوئی حق نہیں تھا، اسلام نے نہ صرف عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دلائے بلکہ انہیں وراثت میں حصہ دار بنایا۔ اور املاک اور جائیداد رکھنے کی بھی اجازت اور سہولت فراہم کی۔ آیئے ہم اسلام کے نکتہ نظر سے ایک متقی عورت کا کردار دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
فَالصّٰالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّہُ (سورۃ النساء: 34)
(ترجمہ) تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال و آبرو کی) خبرداری کرتی ہیں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے، کہ سب سے اچھی بیوی وہ ہے، جسے دیکھتے ہی شوہر کا دل خوشی سے لبریز ہو جائے۔ جب شوہر اسے کوئی حکم دے تو وہ اسے فوراً پورا کرے، اور شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی اور اپنے مال و اسباب کی پوری پوری حفاظت و نگہداشت کرے۔
پس عورتوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے قانون کے تحت شوہر کے مال و دولت کی حفاظت کریں اس کے علاوہ بیویوں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اسلامی طریقہ سے پروان چڑھائیں۔ یہ ذمہ داریاں یقینا بہت دشوار ہیں، اللہ تعالیٰ اس آیت میں عورتوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے میں وہ ان کی مدد فرمائے گا۔ اگر ایک بیوی اپنے خاوند سے سرکشی کرنے لگی تو اس کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے۔
وَاللَّاتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْـھِنَّ سَبِیْلًا اِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْـرًا
(سورۃ النساء 34) (ترجمہ) اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو، اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زد و کوب کرو اور اگر فرمانبردار ہو جائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو، بیشک خدا سب سے اعلیٰ اور جلیل القدر ہے۔
پس اصلاح کے کئی مراحل ہیں۔ سب سے پہلے علماء اور نفسیاتی ماہرین سے مدد حاصل کرنی چاہیے۔ بدقسمتی سے پوری دنیا کے مسلمان زیادہ تر اپنے ذاتی معاملات کو پردوں میں چھپائے رکھتے ہیں، جس سے ان کو نقصان ہوتا ہے۔ رہی بات بیوی کو اپنے بستر سے الگ کرنے کی، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بیوی کو گھر سے نکال دیا جائے، بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کے تنازعہ کی صورت میں شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے رشتے داروں کے گھر جاکر نہ رہنے لگے، علماء کرام کے مطابق دونوں شوہر اور بیوی کو الگ الگ کمروں میں بھی نہیں سونا چاہیے بلکہ ایک ہی بستر پر رات بسر کرتے ہوئے ایک دوسرے سے بالکل الگ رہنا چاہیے۔ جو ایک بہت مشکل کام ہے۔ یہ صورت حال دونوں شوہر اور بیوی کو قریب آکر اپنے اختلافات بھلا کر پھر ایک ہونے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ پھر یہ کہ عورت کو راہ راست پر لانے کے لیے مارنے کا جو حکم ہے تو وہ اس طرح نہیں کہ شوہر بیوی کو زخمی کردے بلکہ اس طرح مارے کہ عورت کے جسم کے کسی بھی حصہ سے ذرا بھر چوٹ کا اظہار نہ ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اچھے اور شریف آدمی اپنی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کریں گے وہ جنت میں مجھ سے زیادہ قریب ہوں گے۔
سورۃ النساء کی آیت نمبر ۳۴ میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بھی ہے کہ اگر تمہاری بیویاں راہ راست پر آ جائیں، تو انہیں گزرے ہوئے واقعات یاد دلا کر شرمندہ نہ کرو اور یاد رکھو کہ اللہ بہت عظیم اور طاقت ور ہے۔ اسی اللہ نے مردوں کو عورت کا حاکم بنایا ہے۔
وَاِنْ خِفْتُـمْ شِقَاقَ بَیْنِـھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِـہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّـقِ اللّـٰہُ بَیْنَـھُمَا اِنَّ اللّـٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْـرًا (سورۃ النساء: 35)
(ترجمہ) اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ناچاقی ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے۔
اگر میاں بیوی کا باہمی اختلاف کسی طرح دور نہ ہوتا ہو، تو انہیں چاہیے کہ درمیان میں ثالث مقرر کرلیں۔ اگر دونوں (یہاں ’’دونوں‘‘ سے مراد دونوں میاں بیوی اور دونوں ثالث) سچے دل سے صاف نیت سے مصالحت کے خواہش مند ہوں تو اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ وہ ان میں موافقت پیدا کردیں گے۔
بعض صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا خیال تھا کہ اسلام نے عورتوں کو ضرورت سے زیادہ ہی حقوق دے دیے ہیں تاکہ ان کی معاشرے میں عزت افزائی ہو۔ بعد ازاں ان کے بعض حقوق سلب کرلیے جائیں گے۔ اس لیے یہ لوگ اس بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار سوالات کیا کرتے تھے۔
وَیَسْتَفْتُـوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللّـٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْـھِنَّ وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتَابِ فِیْ یَتَامَی النِّسَآئِ اللَّاتِیْ لَا تُؤْتُوْنَـھُنَّ مَا کُتِبَ لَـھُنَّ وَتَـرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْـدَانِ وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتَامٰی بِالْقِسْطِ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْـرٍ فَاِنَّ اللّـٰہَ کَانَ بِھٖ عَلِیْمًا (سورۃ النساء: 127)
(ترجمہ) (اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں، کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بے چارے بے کس بچوں کے بارے میں، اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔
پس اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا کہ عورتوں کے برابر کے حقوق اور معاشرے میں اعلیٰ مقام ہمیشہ ہمیشہ قائم رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عورتوں کے تمام حقوق پورا پورا ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button