اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

بانی پاکستان کی جائے پیدائش ’’وزیرمینشن‘‘ کو 14جولائی 1953ء کوقومی ورثہ قرار دیا گیا

کراچی (ویوز نیوز رپورٹ)14 جولائی 1953ء کو حکومت پاکستان نے حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش’’وزیر مینشن‘‘ کو قومی ورثہ قرار دے دیا۔
قیام پاکستان کے بعد بابائے قوم صرف 392 دن حیات رہے۔ اُن کی وفات کے ساتھ ہی ملک ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو گیا لیکن لوگ آج بھی ان کے زیر استعمال رہنے والی اشیاء میں ان کا وجود محسوس کرتے ہیں۔کراچی کے قدیم اور گنجان علاقے کھارادر میں موجود تین منزلہ وزیر مینشن کو تاریخ کے سنہرے اوراق میں قائد کی نشانیوں کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے۔ پیلے پتھروں کی اس عمارت کو 1953ء میں تاریخی ورثہ قرار دیا گیا۔ اس عمارت کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے یہاں بابائے قوم کے زیر استعمال اشیاء کو رکھا گیا ہے۔
کراچی کے علاقے کھارادر میں موجود وزیر مینشن بابائے قوم کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ اس کی زیریں منزل کو ریڈنگ ہال جبکہ بالائی منزل کو گیلری کا درجہ دیا گیا۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی کے قدیم علاقے کھارادرکی جس عمارت میں آنکھ کھولی اسے قائد کی نشانیوں کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے جو بابائے قوم کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ خاص طور پر پہلی منزل کا وہ کمرہ جہاں محمد علی جناح نے 25 دسمبر 1876ء کو آنکھ کھولی۔


ریڈنگ ہال اور کمرے پر نظر پڑتے ہی بابائے قوم کی نفیس اور نظم و ضبط شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔یہاں جناح کے استعمال میں رہنے والی ذاتی ڈائری اور قانون کی وہ کتب رکھی گئی ہیں جن سے وہ مقدمات کی پیروی میں مدد لیا کرتے تھے۔
ایک کمرے میں قائد اعظم اور ان کی اہلیہ کے زیر استعمال شدہ فرنیچر، جبکہ دوسرے میں قانون کی کتابیں اور وہ کرسی بھی موجود ہے جس پر آپ نے بحیثیت پہلے گورنر جنرل حلف لیا۔
قائد کی اہلیہ رتی بائی کا سامان، محمد علی جناح کی شخصیت میں موجود نفاست کا ثبوت دیتے ان کے استعمال شدہ لباس بابائے قوم کا بستر، کچھوے کی ہڈی سے بنا چشمہ، قیمتی کپڑے، جوتے، قلم اور دیگر اشیاء کے ساتھ ان کے زیر مطالعہ رہنے والی کتابیں بھی اس عجائب گھر کا حصہ ہیں۔
14 جولائی 1953ء کو حکومتِ پاکستان نے کھارادر (کراچی) میں واقع بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش’’وزیر مینشن‘‘ کو باقاعدہ’’قومی ورثہ‘‘ قرار دے دیا۔
قائد اعظم محمد علی جناح کے استعمال شدہ لباس، جوتے اور اسٹیشنری سمیت دیگر قیمتی اشیا کو نہایت نفاست سے محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو ان کی زندگی سے متعلق آگاہی فراہم کی جا سکے۔
وزیر مینشن میں رکھی گئی ان نایاب اشیاء کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بابائے قوم کس قدر نفیس اور ڈسپلنڈ شخصیت کے مالک تھے۔ یہاں کی ہر شے کو کیمیکل لگا کر محفوظ کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو اس کے قائد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جا سکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button