انٹرنیشنلاہم خبریںاہم خبریں

بوسے کا عالمی دن ’’6جولائی‘‘ کو منایا گیا

 بوسے کے بارے میں چند حیران کن حقائق اور "فوائد” جسے پڑھ کر آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

لاہور(ویوز نیوز رپورٹ)ہر سال 6 جولائی کو بوسے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

ایک بوسے سے نہ صرف کیلوریز جلتی ہیں بلکہ مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔

قارئین  کے لئے پیش خدمت ہیں بوسے کے بارے میں چند حیران کن حقائق اور "فوائد” جسے پڑھ کر آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

بوسے کا عالمی ریکارڈ تھائی لینڈ کے ایک جوڑے کے پاس ہے۔ اس جوڑے نے 58 گھنٹے، 35 منٹ اور 58 سیکنڈ طویل "فرنچ کِس” کی تھی۔

ایک عام بوسے سے فی منٹ 6 اعشاریہ 4 کیلوریز جلتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ عالمی ریکارڈ بنانے والے تھائی جوڑے نے 24 ہزار 198 کیلوریز جلائی تھیں۔ شدید جذبے سے لیا ہوا ایک بوسہ فی منٹ 20 کیلوریز جلا سکتا ہے۔

آج کے دور میں ایک اوسط بوسہ 12 سیکنڈ طویل ہوتا ہے جبکہ 1980ء کی دہائی سے پہلے ایک بوسے کا اوسط دورانیہ ساڑھے پانچ سیکنڈ ہوتا تھا۔

ہر ملک میں عوامی مقامات پر بوسہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ امریکی ریاستوں مشیگن اور کنیکٹک میں بھی مذہب کی وجہ سے اتوار کے روز کسی عورت کا عوامی مقام پر بوسہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔

جرمنی میں اوسطاﹰفی شخص یومیہ 4 بوسے لیتا ہے۔ یورپ میں فرانس اور اٹلی جرمنی سے کہیں آگے ہیں۔ وہاں بوسہ لینے کی اوسطاﹰ شرح فی شخص یومیہ 7 ہے۔

بوسے پر تحقیق کرنے والے محقیقن کی فیلڈ کو فلیماٹولوجی کہتے ہیں۔ ان محقیقن کے نتائج کے مطابق ہر تین میں سے دو افراد بوسہ لیتے ہوئے اپنا سر دائیں جانب جُھکا لیتے ہیں۔

ڈاکٹر بوسے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کیوں کہ اس سے مدافعتی نظام مضبوط اور بڑھاپے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔ بوسے کے بارے میں صرف سوچنے سے ہی لعاب دہن کی مقدار بڑھنا شروع ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دانتوں پر جم کر مسوڑھوں کی بیماری پیدا کرنے والے جرثومے ڈھیلے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

محقیقن کے مطابق بوسہ لینے کے بعد سڑکوں پر آنے والے افراد زیادہ تر جارحانہ انداز میں ڈرائیونگ نہیں کرتے۔ نتیجتاﹰٹریفک حادثات بھی کم ہوتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے! دوران ڈرائیونگ بوسہ لینے کا خیال آپ کی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک میں نوے فیصد افراد بوسہ لیتے ہیں لیکن مختلف ممالک میں ان کے معنی بدل جاتے ہیں۔ فرانس میں تین مرتبہ رخساروں کا بوسہ لینا معیاری استقبال کی نشانی ہے۔ لیکن جاپان میں بوسہ صرف اسی صورت میں ہی لیا جاتا ہے، جب فریقین جنسی تعلق کے خواہش مند ہوں۔

بوسہ لینا صرف ایک معاشرتی رویہ ہی نہیں ہے، جو صدیوں کے بعد رائج ہوا ہے۔ یہ انسان کی جبلت میں پائی جانے والی ایک خصوصیت ہے۔ یہ کئی دیگر جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔

ایک بوسے کی وجہ سے ایک سو ارب اعصابی خلیے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ خوشی کے ہارمونز گردش خون کو تیز اور دل تیزی سے دھڑکنا شروع ہو جاتا ہے۔ فشار خون اور جسمانی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

فرنچ کِس کرتے ہوئے پارٹنر بہت سی چیزوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ان میں 60 ملی گرام پانی، 0.5 ملی گرام پروٹین، 0.4 ملی گرام نمک اور تقریباﹰ 22 ہزار بیکڑیا شامل ہوتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button