کالم/بلاگ

بے حسی کا عالم جائیں تو جائیں کدھر

 

ہمیشہ قومیں تب تباہ ہوتی ہیں جب انصاف ختم ہو جائے ،ہر طرف بے حسی کا عالم ہو، کوئی کسی کا حال پوچھنے والا نہ ہو اور ہر طرف نفسا نفسی کا دور ہو ۔موجودہ صورت حال بھی کچھ ایسی ہی بنی ہوئی ہے۔ غریب انسان کو انصاف ملتا نہیں، جو طاقتور طبقہ ہے وہ لوٹنے میں لگا ہوا ۔ جائیں تو جائیں کدھر ؟یہی ہی بات کچھ سمجھ نہیں آ رہی ۔
قارئین! انصاف کے نام پر بننے والی حکومت کے سامنے بہت بڑے چینلجز تو ہیں لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہ ہو پائی ۔ سوائے دعوئوں کے اور حوصلوں کے اورسبز باغ دیکھانے والے بہت آئے اب تو عوام ان لوگوں سے کافی حد تک متنفر ہو چکی ہے ۔ عوام کو بس وہ بندہ چاہیے جو کہہ دے اور کر دے ۔ شائد ایسا ممکن نہ ہو ۔ اس وقت چینی کا سکینڈل چل رہا ہے جس پر چینی مافیا عدالتوں کے پیچھے چھپنے کی جگہ ڈھونڈ رہی ہے لیکن عدالتیں بھی ان مافیا کو چھپنے کی جگہ نہیں دے رہی ، دوسرا پاور سیکٹر مافیا ہے جو پاکستان کو دھمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور ملک کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کرنے میں لگا ہے ۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں مشیر قومی خزانہ نے خود کہا کہ ہم پاور سیکٹر مافیا کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ جبکہ وزیر اعظم بھی کچھ ایسی ہی باتیں کررہے تھے۔ پھر تیسرا پٹرول مافیا جو حکومت کو مجبور کر رہا ہے کہ پٹرو ل کی قیمتیں کم نہ کی جائیں ۔ چوتھا پی آئی اے کا ایشو چل رہا ہے جس میں جعلی سند والے پائلٹ بھرتی کئے گئے ۔ یہاں تو یہ حال ہے جس طرف جائیں مافیا بیٹھا ہوا ہے اور پاکستانی قوم کو لوٹ رہا ہے جب یہ پی آئی اے کا ایشو اٹھا تب سے ملک کی بدنامی پوری دنیا میں بہت زیادہ ہو رہی ہے ۔ کیا میں اس کو سچ بولنے کی سزا کہوں یا پھر پچھلی حکومتوں کی کرپشن کہوںیا موجودہ حکومت کی نااہلی ؟۔
بہت سے ممالک نے پاکستانی پائلٹ کی اسناد اور ڈاکومنٹ منگوا لئے ہیں جب تک یہ پائلٹ کلیئرنہیں ہوتے تب تک کوئی غیر ملکی پی آئی اے میں سفر نہیں کرے گا اور نہ پی آئی اے کو اپنی سر زمین پر اترنے دے گا ۔ یورپی یونین نے پہلے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگائی بعد میں حکومت نے کوشش کرکے اس کو بحال کروا لیا ، اب ملائیشین ایوی ایشن نے پاکستانی پائلٹوں کو جہازاڑانے سے روک دیا ۔ جو پی آئی اے پوری دنیا میں سب سے بہترین ائیر لائن مانی جاتی تھی اب اسی پی آئی اے کو پوری دنیامیں بد ترین ائیر لائن میں گنا جا رہا ہے ۔ ان سب کا کون ذمہ دار ہے ؟ میرا خیال ہے عوام بھی اب باشعور ہو چکی ہے اور جان چکی ہے اس سارے واقعات کا کون ذمہ دار ہے ۔
ایک پائلٹ تو ہمارے پی آئی اے جہاز اڑاتے ہیں جن کی جعلی ڈگریاں نکلی دوسرے ہمارے پائلٹ جو پرائیویٹ ٹرانسپورٹ چلاتے ہیں کیا، گورنمنٹ نے کبھی ان لوگوں کے کاغذات چیک کئے ؟۔ جو روز کئی حادثات ہوتے ہیں جن میں کئی قیمتیں جانیں جاتی ہیں ۔ کیا ان ڈرائیوروں کو کبھی کسی نے چیک کرنے کی کوشش کی ؟ کبھی بھی نہیں ،روز ایکسیڈنٹ ہو رہے ہیں ۔ کبھی کہیں بس الٹی ہے ، کہیں کوئی ویگن الٹ گئی ، کبھی کوئی گاڑی کبھی کوئی گاڑی ۔ پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والے ڈرائیور ان میں بھی 90فیصد ایسے افراد ہیں جن کے پاس لائسنس نہیں ہیں جو تھوڑی بہت ڈرائیونگ جانتے ہیں اور بسیں، ویگنیں روڈ پر لے آتے ہیں ۔ جس وجہ سے ایکسیڈنٹ کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔
محترم وزیر اعظم عمران خان ان کی طرف بھی ایک نظر ڈالیں ٹرانسپورٹ بھی ایک بہت بڑا مافیا ہے جن میں بہت زیادہ طاقتور افراد بیٹھے ہوئے ۔ اپنی من مانیاں کرتے ہیں ۔ عوام کو لوٹنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ اگر کوئی مخالفت کرے تو سر عام اس کو مارتے پیٹتے ہیں ، لیکن کوئی بھی ان لوگوں کو چیک کرنے والا آج تک آیا ہی نہیں ۔ اگر آپ واقعی انصاف دینا چاہتے ہیں اور کرپشن فری پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو ان مافیا کو بھی پکڑیں ان کی مانیاں ختم کروائیں جو لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں ایسے ڈرائیوروں کوپکڑ کر قرار واقعی سزا دیں ۔ ہر روڈ پر آپ کوہزاروں ڈرائیور ملیں گے جو بغیر لائسنس کے گاڑیاں چلا رہے ہیں اور عوام کی زندگی خطرے میں ڈال رکھی ہے ۔ ہماری قوم ابھی تک کورونا جیسے موذی مرض سے لڑنے میں لگی ہوئی ہے دوسری طرف سے مافیا اس قوم کو لوٹنے میں لگا ہوا ہے ۔ آخر آپ کے وعدوں پر کب عملدرآمد ہو گا ۔ قوم کی نظریں آپ کی طرف سے ۔ وزیر اعظم صاحب یہ بات آپ کی درست ہے کہ وزیر اعظم پوری قوم کا باپ ہوتا ہے ۔ لیکن اب آپ کو باپ کا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ جہاں جہاں پر کرپشن ہو رہی ہے جہاں جہاں قوانیں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ان لوگوں کا قلعہ قمعہ کریں ۔ جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button