کالم/بلاگ

دینی اور دنیاوی تعلیم

گزشتہ سال اپنی بیٹی کی سالانہ کارکردگی کے موقع پر اس کے سکول جانے کا اتفاق ہوا۔ جہاں بچوں کی سالانہ کارکردگی سے متعلق سکول اساتذہ والدین کو آگاہ کرنے میں مصروف تھے اور سب والدین اپنی اولاد کی کارکردگی کو کوسنتے ہوئے غصے سے ان کی طرف نظریں جمائے بیٹھے تھے جیسے جیسے اساتذہ کی جانب سے شرارتوں اور نالائقی کی شکایات کے پل باندھے جارہے تھے ویسے ویسے والدین کی نظروں میں غصے کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔جس میں عام والدین کی طرح میں بھی اسی معمول کے مطابق اپنی بیٹی پر غصے کی نظریں جمائے بیٹھی تھی اور بیٹی کے چہرے کے تاثرات اس کے بچپنے اور اسکی معصومیت کو بیان کر رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے چہرے پر یہ خوف واضح دکھائی دے رہا تھا کہ آج گھر جا کر امی کے غصے کی شدت کا سامنہ کرنا پڑے گا۔جہاں یہ سب معاشرتی خامی کے ساتھ جاری تھا وہیں کچھ فاصلے پر ایک ماں بیٹی بری خوش اصلوبی سے بیٹھے پیار بڑے انداز میں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گفتگو کرتے جارہے تھے۔ نا ماں کی آنکھوں میں غصے کی شدت اور نہ بیٹی کے چہرے پر خوف کے تاثرات تھے۔ جو مجھے اس بات کو سوچنے پر مجبور کررہے تھے کہ کیا خوش قسمت ماں ہے کہ اللہ نے اتنی پیاری بیٹی سے نوازا ہے جس کی کارکردگی پر اس کی ماں کتنی مطمئین نظر آرہی ہے۔ اس ماں کی بیٹی کی جانب میری نظریں پیار سے دیکھتی جارہیں تھی جبکہ اپنی بیٹی کی جانب میری نظریں غصے کی شدت میں۔ دل ہی دل میں خواہش پیدا ہوتی جارہی تھی کیوں نہ اس بیٹی کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھوں اور اس کی ماں کی خوش قسمتی پر ان کو مبارکباد دوں۔ دل کی خواہش میرے قدموں کو روک نا سکی اور کچھ فاصلے پر بیٹھی ماں بیٹی کی جانب چل پڑے۔ گفتگو کا آغاز سلام و دعا اور خیرو عافیت سے کیا گیا۔ اور ان کے قریب کرسی پر بیٹھتے ہی عام معاشرتی انداز سے میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ بہت مطمئین نظر آرہی ہیں اپنی بیٹی کی کارکردگی سے جس کے جواب میں انہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ "جی” کہتے ہوئے دیا۔ جب میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا گریڈ آئے ہیں بیٹی کے تو انتہائی مطمئین انداز میں انہوں نے جواب دیا کہ دو کتابوں میں فیل ہوگئی ہے میری بیٹی۔ ان کے اس جواب نے مجھے حیرانگی میں مبتلا کر دیا اور سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر ان کی بیٹی دو کتابوں میں فیل ہے تو عجیب ماں ہے جس کو بیٹی کے مستقبل کی بلکل فکر نہیں اور بلکل مطمئین بیٹھی ہیں اور بیٹی سے انتہائی محبت بڑے انداز میں گفتگو کرتی جا رہی ہیں۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے سوال کر ہی دیا کہ بہن میری بیٹی کسی کتاب میں فیل نہیں بس نمبر کم ہونے کی وجہ سے میں اس سے اتنی خفا ہوں جبکہ آپ کی بیٹی دو مضامین میں فیل ہو چکی ہے تو آپ اپنی بیٹی سے بلکل خفا نہیں انہوں میرے چہرے کی طرف دیکھ کر وقف کیا اور بولی یہ تعلیم دنیاوی ہے جو ان کو دنیا کی کامیابی سے نوازے گی لیکن سب سے اہم اور بہتر تعلیم دینی ہے جس نے ان کو دنیاوی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ آخرت کی کامیابی سے بھی ہمکنار کروانا ہے۔ درحقیقت وہی تعلیم اور تربیت ہمارے معاشرے کا اہم جزو ہونی چاہئے یہ تعلیم تو محظ موجودہ دنیا سے آگاہی کیلئے دلوائی جا رہی ہے تاکہ یہ دنیا کی دور میں کہیں تنہا رہ کر گمراہی کے اندھیروں میں گم نہ ہو جائیں اور دنیا کے ساتھ چلنا مشکل نہ ہوجائے۔ لیکن درحقیقت ہماری اولاد کی تعلیم اور تربیت دینی تعلیم و تربیت کے مطابق ہونی چاہئے تاکہ انکی آخرت کے ساتھ ہماری آخرت بھی سنور جائے۔ میرے تجسس نے یہ سوال پوچھنے پر مجبور کردیا کہ آپ نے اپنی بیٹی کی کیا دینی تربیت کی اور آپ کیسے اس سے مطمئن ہیں تو انہوں نے اپنی بیٹی کی طرف نظریں کرتے ہوئے انتہائی پیارے انداز میں پوچھا کہ بیٹا آپ دو مضامین میں فیل ہو گئی ہیں۔ اگلی دفعہ آپ مجھے مایوس تو نہیں کروگی اس پر انتہائی مطمئین انداز میں ان کی بیٹی نے جواب دیا کہ میں وعدہ تو نہیں کرتی لیکن میں پوری کوشش کروں گی کہ میں دوبارہ آپ کو اپنے اساتذہ کے سامنے شرمندہ نہ ہونے کا موقع دوں۔ ماں نے پوچھا وعدہ کیوں نہیں کروگی تو بیٹی نے جوابا” کہا کہ ماں مجھے یہ مضمون سمجھ نہیں آتے بہت محنت کے باوجود میں فیل ہوگئی لیکن میں اگلی دفعہ پہلے سے زیادہ کوشش کروں گی اور ان مضامین کو پاس کروں گی لیکن میں وعدہ کرکے اگر اس کو پورا نہ کر سکی تو روز قیامت میں خود کو اللہ کے سامنے شرمندہ پاوں گی۔ اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہونے سے بہتر ہے میں آپ کو جھوٹی عمید پر خوشی نہ دوں۔اس پانچ سال کی لڑکی کے اس جواب نے مجھے دھنگ کردیا اور ایک نئی سوچ میں مبتلا کردیا۔ میں سوچوں کی ایک عجیب سے کڑیوں میں مبتلا ہوگئی اور اپنی بیٹی کی طرف ٹک ٹکی کے ساتھ پیار بڑی نظروں سے دیکھے جارہی تھی۔ اور یہ سوچ رہی تھی کہ آج اگر میری بیٹی جھوٹ بولتی ہے تو اس کی قصور وار درحقیقت میں ہوں۔ اگر میری بیٹی مجھے بار بار یہ کہ رہی ہے کہ امی میں وعدہ کرتی ہوں اگلی دفعہ اچھے نمبروں سے پاس ہو جاوں گی اور وہ اس وعدے کو پورا نہیں کر پاتی اور مجھے وقتی تسلی دلا رہی ہے تو اس کی قصور وار میری بیٹی نہیں میں خود ہوں۔ اور یہ علمیہ صرف میرا نہیں ہمارے معاشرے کے ہر فرد کا ہے۔ ہم اپنی اولاد کو دنیا داری کی دور میں لگانے کیلئے اور ان کو دنیاوی تعلیم سے دنیا کی بلندیوں پر پہنچانے سے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے ان کی دنیا سنوار دی لیکن ان کی آخرت کا کیا ہو گا جدھر دینی تعلیم نے آپ کو اور آپ کی اولاد کو کامیابی سے نوازنا ہے۔ اللہ کے حضور ہم نے بھی حاضر ہونا ہے اور اس بیٹی کی ماں کی طرح ہم نے بھی اپنی اولاد کی تربیت سے متعلق جواب دہ ہونا ہے۔ کیونکہ جو بیجھ ہم بھوتے ہیں اسی بیج کی فصل ہم کاٹتے ہیں اور ہم نے اگر اپنی اولاد کیلئے صرف دنیاوی تعلیم کی فصل بھونی ہے تو کامیابی بھی دنیاوی حاصل ہوگی اور وہیں اگر ہم دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم اور تربیت کا بھیج بھی بھوئیں گے تو دنیاوی کامیابی تو ہمارے قدم چومے گی ہی لیکن آخرت کی کامیابی بھی حاصل کرسکیں گے اور اپنے اللہ کے حضور شرمنگی سے بچ سکتے ہیں۔ اس لئے جتنی پابندی ہم اپنی اولاد پر دنیاوی تعلیم کیلئے کرتے ہیں اتنی ہی پابندی ہمیں دینی تعلیم کیلئے بھی کرنی چاہئے تاکہ ہمیں اور ہماری اولاد کو دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button