کالم/بلاگ

سوات: مشرق کا سوئٹزرلینڈ

نور حسین افضل (انٹرنیشنل CNN اردو نیوز، رومان ٹی وی، ہفت روزہ جیت کراچی، بیورو چیف مڈل ایسٹ)

سوات مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور قدیمی آثار کا گہوارہ رہا ہے۔ سوات کا ذکر سب سے پہلے رگ وید میں کیا گیا ہے۔ یہودی مذہب میں ’’سوات‘‘ کا معنی ہی جنت ہے۔ بدھوں کا یہ ویٹی کن سٹی ہے۔ روایات اور بدھ مت کے دوسرے مذہبی رہنما پدماسمبو ایارام پوچی (گوتم ثانی) سوات میں پیدا ہوئے۔ آج دنیا بھر کا ’’لامہ ازم‘‘ سوات ہی کی دین ہے۔ آریاؤں نے اسے (FARE DEWELING PLACE) کہا تھا۔ سکندر اعظم 327 قبل مسیح میں افغانستان کے راستے سوات آیا۔ یہاں کے قبائل سے لڑائی کے دوران تاریخ میں پہلی بار زخمی ہوا۔ یہی زخم بعد میں اس کی موت کا سبب بن گیا۔ سوات کے لوگوں کی بہادری کو دیکھتے ہوئے سکندر کے منہ سے یہ تاریخی جملے نکلے ’’ماں تم نے ایک سکندر کو جنم دیا ہے۔ اور یہاں ہر پتھر کے پیچھے ایک سکندر پڑا ہے۔‘‘ سلطان محمود غزنوی نے ایک ہزار سال قبل پوری وادی کو فتح کیا۔ غزنوی کی تعمیر کردہ مسجد آج بھی اوڈیگرام میں موجود ہے۔ سید اکبر شاہ، اخوند آف سوات سید وبابا، عبدالجبار شاہ، میاں گل عبدالودود کے بعد آخر میاں گل عبدالحق جہانزیب نے ریاست کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ 29 جولائی 1969ء کو ریاست سوات پاکستان میں مدغم ہو گئی۔
وادی سوات کیا ہے؟ حسن کی بارات ہے! میر کی غزل ہے! خیام کی رباعی ہے! ایک ایسی کہانی ہے جو الف لیلیٰ کی کہانی سے زیادہ دلچسپ اور دلکش ہے۔ کسی نے اس کو فردوس بریں کے لقب سے نوازا ہے تو کسی نے اسے جنت کا ٹکڑا قرار دیا ہے۔ کچھ لوگ اسے مشرق کا سوئٹزرلینڈ کہتے ہیں۔سیاحت کا بہترین موسم مئی سے نومبر جبکہ سیاحتی سیزن جون سے اگست کے درمیان خاصا رش رہتا ہے۔
مینگورہ اور سیدو شریف: سطح سمندر سے 3250 فٹ بلندی پر واقع مینگورہ اور سیدو شریف کے جڑواں شہر سوات بالترتیب کمرشل اور انتظامی دارالحکومت کہلاتے ہیں۔ پشاور سے 159 کلومیٹر دور منگورہ وادئی سوات کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ہے۔ جبکہ سیدو شریف میں تمام سرکاری دفاتر کے علاوہ PTDC کا موٹل اور انفارمیشن سینٹر موجود ہے۔ سیدو شریف میں حضرت اخوند سیدو بابا کا مزار ہے۔ سیدو بابا نے 1877ء میں وفات پائی۔ سیدو کے مقام پر ہی والئی سوات کا محل ہے۔ بانی سوات ریاست میاں گل عبدالودود کا مزار بھی قابل دید عمارت ہے۔
سوات میوزیم: 160 مربع کلومیٹر کے علاقے میں 400 سے زائد بدھ مت کی خانقاہیں موجود ہیں جبکہ ساتویں صدی عیسوی میں مشہور چینی سیاح سانگ کے مطابق اس وقت سوات میں 1400 خانقاہیں تھیں۔ دریافت ہونے والا قدیمی و تاریخی نوادرات میوزیم میں موجود ہیں۔
مرغزار: سلام پور سے آگے سیدو شریف سے پندرہ کلومیٹر جنوب میں سابق حکمران سوات میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب نے 1935ء میں ایک گرمائی محل کے طور پر ایک حسین محل بنوایا۔ 1941ء میں مکمل ہونے والے اس سفید محل (مرغزار) کے لیے آگرہ ہندوستان سے سنگ مرمر اور کاریگر منگوائے گئے۔ سارے محل میں وہی پتھر استعمال ہوا ہے جو محل آگرہ میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس محل میں وہ تاریخی کمرہ محفوظ ہے جہاں 1961ء میں ملکہ الزبتھ نے قیام کیا تھا۔
سلطان محمود غزنوی مسجد: سلطان محمود غزنوی کے حکم پر یہ مسجد 440 ہجری میں تعمیر ہوئی۔ یہ مسجد شمالی پاکستان کی سب سے قدیم مسجد ہے۔ 28 اپریل 2010ء کو پاک آرمی کے زیر نگرانی تقریباً ایک ہزار سال بعد یہاں دوبارہ نماز عصر ادا کی گئی۔ یہ مسجد اوڈیگرام گاؤں کے عقب میں قلعے والی پہاڑی کے آغاز میں موجود ہے۔
فضاگٹ: کالام روڈ پر واقع فضاگٹ پارک مقامی لوگوں کے علاوہ ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کا بھی پسندیدہ مقام ہے۔ دریائے سوات کے کنارے اس پارک میں بچوں کے لیے جھولے، پلے لینڈ، کیفے ٹیریا، سب کچھ تو ہے۔ ٹراؤٹ مچھلی کا آرڈر دے کر دریا کنارے بچھی چارپائی پر بیٹھ کر فلک بوس پہاڑوں سے آتے اس پانی کی جلترنگ کو سن کر انجوائے کریں۔
مالم جبہ (Malam Jabba Sky Resort): منگورہ سے 50 کلومیٹر دور سطح سمندر سے 9000 فٹ کی بلندی پر واقع خوبصورت تفریحی مقام مالم جبہ ہے۔ بلندی پر ہونے اور زبردست برف باری کی وجہ سے یہ علاقہ اپنی خوبصورتی اور انفرادیت کی وجہ سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ یہ جگہ آئس سپورٹس خصوصاً آئس اسکیٹنگ کے لیے انتہائی آئیڈیل ہے۔ ہر سال آئس اسپورٹس کے مقابلے بھی منعقد ہوتے تھے۔
شانگلہ ٹاپ: ضلع سوات ضلع شانگلہ کے ذریعے شاہراہ ریشم کے ساتھ منسلک ہے۔ سطح سمندر سے 7 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع شانگلہ ٹاپ تک جاتی ہے۔ پشتو زبان کے استاد صوفی شاعر حافظ الپوری کا مزار یہیں واقع ہے۔
مدین: مدین مینگورہ سے 56 کلومیٹر دور سطح سمندر سے 4335 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں دریائے بشی گرام اور دریائے سوات کا باہم ملاپ ہوتا ہے۔ مدین کافی بارونق جگہ ہے جہاں بازار اور ہر قسم کے ہوٹلز موجود ہیں۔ مدین کی جامع مسجد دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مدین میں سوات کا سب سے بڑا ٹراؤٹ فارم بھی ہے۔
بحرین: مدین سے 10 کلومیٹر آگے دریائے درال اور دریائے سوات کے سنگم پر سطح سمندر سے 4500 فٹ کی بلندی پر بحرین شہر واقع ہے جو کہ سوات کوہستان کا گیٹ وے کہلاتا ہے۔ یہاں دریائے درال کے آبشار کی صورت میں دریائے سوات میں گرنے کا حسین منظر قابل دید اور ناقابل فراموش ہے۔ ہر قسم کے ہوٹل اور جدید سہولیات میسر ہیں۔ یہاں کے مشہور مقامات میں جھیل ہناشی و جھیل شاہ، درال جھیل، سیدگئی جھیل، مانگیالی جھیل، چندسر جھیل، گودر جھیل، خاص قابل ذکر ہیں۔ کولائی بحرین سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر دور 5000 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ اس جگہ پر ایک آرام دہ ریسٹ ہاؤس بھی موجود ہے۔ اس سفر میں میرے ہم راہ تاج محمد خان، انجینئر عرفان خان، نعمان شہزاد، سلیمان شہزاد، بلال شہزاد، حضرت علی اور رحم وہاب موجود تھے۔ سب اس سفر سے بھرپور لطف اندوز ہوئے۔ اللہ تعالیٰ تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button