اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

شہید وفائے پاکستان نواب زادہ سراج خان رئیسانی کا یوم شہادت،13 جولائی

کوئٹہ (ویوز نیوز رپورٹ)آج شہید وفائے پاکستان نواب زادہ سراج خان رئیسانی کی یوم شہادت ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، میرے بلوچستان کے بہادر لوگو۔۔۔ یہ نواب سراج رئیسانی شہید کے آخری الفاظ تھے۔

شہید سراج بلوچ باغیوں کے مقابل سینہ تانے کھڑا تھا وہ فراری کیمپوں پر قہر بن کر نازل ہوتا تھا وہ ہر محاذ پر پاکستان دشمنوں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کر رہا تھا اداروں کی ترجیحات ضرورت کے مطابق بدلتی رہتی ہوں گی لیکن شہید سراج کا مرکز و محور اوّل و آخر صرف اور صرف پاکستان رہا وہ پاکستان کیلئے جیا اور اسی کے لئے جام شہادت نوش کیا۔

حب الوطنی کی میراث کے امین نوابزادہ سراج رئیسانی شہید کے دو سنگین ”جرائم“ تھے۔ بھارتی ترنگے کے جوتے بنوانا اور دو کلومیٹر طویل سبز ہلالی پرچم لہرانا۔

نواب سراج رئیسانی شہید ضلع بولان کے علاقے مہر گڑھ، بلوچستان کے رئیسانی قبیلے کے بڑے کے گھر میں 4 اپریل 1963ء کو پیدا ہوئے۔ نواب سراج 7 بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔

سراج رئیسانی نے اپنی ابتدائی تعلیم بولان کے سرکاری تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ پھر انہوں نے ٹنڈو جام کی سندھ زرعی یونیورسٹی سے دیہی معاشیات میں بیچلر کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے نیدرلینڈز کے ایک تعلیمی ادارے سے گل پروری میں کورس کیا۔

نواب سراج رئیسانی شہید کا تعلق سیاسی خاندان سے تھا۔ ان کے والد غوث بخش رئیسانی نے 1970ء اور 1971ء کے درمیان میں گورنرِبلوچستان کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔

ان کے سب سے بڑے بھائی اسلم رئیسانی بلوچستان کے تیرہویں وزیر اعلیٰ (2008ء — 2013ء) تھے۔ ان کے دوسرے بھائیوں میں سے ایک، لشکری رئیسانی ایوان بالا پاکستان میں 2009ء سے 2015ء تک سینیٹر رہے۔

سراج رئیسانی خود بھی اپنے والد کی جماعت بلوچستان متحدہ محاذ کے نئی تشکیل شدہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم ہونے سے قبل جون 2018ء تک سربراہ رہے۔

نواب سراج رئیسانی شہید 13 جولائی 2018 کو پاکستانی عام انتخابات سے قبل اپنی نشست کے لیے مہم چلا رہے تھے اور مہم کے دوران خودکش دھماکا ہو گیا اور وہ شہید ہو گئے۔

سراج رئیسانی بی اے پی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست حلقہ پی بی35 مستونگ سے الیکشن لڑرہے تھے۔اس خودکش حملے کے نتیجے میں سراج رئیسانی سمیت 130 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس حلقے میں انتخابات ملتوی کر دیے۔

سراج رئیسانی کے قبیلے کو بلوچستان کے قبائلی اور سیاسی نظام میں اہم مقام حاصل ہے لیکن نوجوان، نڈر اور بے خوف سراج کی سوچ، خیالات اور نکتہ نظر اپنے بڑے بھائیوں سے شاید مختلف تھا کہ اس نے بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد قیام امن اور صوبے کی ترقی وخوشحالی کے ایجنڈے میں سکیورٹی فورسز کا بے جگری سے ساتھ دیا۔

نواب سراج کو نشانہ اس لئے بھی بنایا گیا کہ وہ بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کو تیز کر رہے تھے۔ جولائی 2011 میں پاکستان کی آزادی کی خوشیاں منانے کے لیے ایک فٹ بال میچ انہوں نے منعقد کروایا۔ دشمنوں کو سخت ناگوار گزرا اور نوابزادہ سراج رئیسانی کو دوران میچ بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں وہ بچ گئے لیکن ان کے بڑے بیٹے میر حقمل رئیسانی سمیت متعدد افراد شہید ہو گئے۔ اعتراف جرم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے کیا جس سے اس معصوم کی شہادت پر مہر تصدیق ثبت ہوئی۔

وطن سے محبت کرنیوالا، جان کے نذرانے سے اپنا عہد ‘وفا کر گیا۔ ورنہ ایسے بھی ہیں جو ہندوستان کی جوتیوں میں گنجائش نکالنے کو بے چین رہے۔ نگران وزیراعلی بلوچستان علاﺅ الدین مری نے سراج رئیسانی کی شہادت پر گواہی دی کہ ’دہشت گردی کی جنگ میں اپنے جوان سال بیٹے کی قربانی دینے کے باوجود انھوں نے کبھی دہشت گردوں سے ہار نہیں مانی۔ دہشتگردی کیخلاف اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہے اور بہادری کے ساتھ دہشتگردوں کی بھرپور مخالفت کرتے رہے‘۔

وطن کے بیٹے ایسے ہوتے ہیں۔

23 مارچ 2019 کو حکومت پاکستان نے سراج رئیسانی شہید کو تمغہ شجاعت سے نوازا جسے ان کے بیٹے نے وصول کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button