کالم/بلاگ

عیدالضحٰی اور سمارٹ لاک ڈاٶن

 

کوروناواٸرس نے پوری دنیاکےساتھ پاکستان کو بھی لپیٹ میں لیاہواہے
لیکن بات کچھ سمجھ سےبالاترہے کہ عیدالفطرکےموقع پرتمام کاروباری مراکزکوکھولنےکی اجازت مل گٸی تھی اور اب عیدالضحٰی کےموقع پر حکومت کا 8 دن تک مکمل لاک ڈاٶن کرنےکافیصلا کچھ سمجھ میں نہیں آرہا چھوٹی عیدپر جب لاک ڈاٶن میں نرمی کرتے ہوٸےایس اوپیز کےتحت تمام کاروباری مراکزکھولنے کےاحکامات جاری ہوٸےتھے تب پاکستان بھرمیں کوروناواٸرس کے میریضوں کی تعداد زیادہ تھی اور اموات بھی ہوٸی تھیں لیکن اس وقت حکومت وقت کو چھوٹے دوکانداروں کا اور تاجربرادری کا احساس تھالیکن بڑی عید کےآتے ہی حکومت نے اس وقت لاک ڈاٶن کا اعلان کیاجب پاکستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بہت کم تھی اور تمام لوگ اپنے کاروبار میں سمبھلنے کی پوزیشن بنانے کی طرف گامزن تھے کہ اچانک سے سمارٹ لاک ڈاٶن کا ڈنڈاان چھوٹے کاروباری دوکاداروں اور مزدور طبقہ کےسر میں ماردیاگیا سوال یہ پیداہوتاہے کہ27جولاٸی کو کچھ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دی گٸی اور انہوں نے اب اپنے بچوں کی شاپنگ کی غرض سے بازاروں کارخ کرناتھا اور انہیں ملازمین کی شاپنگ سے چھوٹے دوکانداروں نے اپنے اور اپنے بچوں کے لیٸے سیزن کمانا تھا جس سے انہیں آٸندہ 4 5 ماہ کے اخراجات اٹھانا ہوتے ہیں عین اس وقت جب ان چھوٹے کاروباری حضرات کی آمدن میں اضافہ کا امکان بناتو حکومت کی جانب سے لاک ڈاٶن کا اعلان کردیاگیا اب ایسے وقت میں کیالگتاہے چھوٹے دوکانداران حکومتی لاک ڈاٶن کوتسلیم کرتے ہوٸےاپنا روزگاربندکریں گے میرے خیال سے تو بلکل نہیں موجودہ حکومت کو اس وقت ایس او پیز پر سختی سے اقدامات کرنے کے احکامات جاری کرنے چاہیٸں تھے لیکن حکومت نے سمارٹ لاک ڈاٶن کا حکم نامہ جاری کرکے دوکانداروں کے ساتھ ظلم کیاہے جبکہ چھوٹے دوکانداران اسوقت اپنا کاروبار بند کرنے پربلکل بھی متفق نہیں ہیں
اور اس لاک ڈاٶن کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ و عوام کے درمیان تعلقات بھی خراب ہونےکےامکانات ہیں انتظامیہ حکومتی حکم پر عملدرآمدکروانے کے لیٸے عوام پرسختی کرے گی اور عوام اپنے بچوں کا روزگار حاصل کرنے کی غرض سے انتظامیہ و حکومت پر تنقید کرےگی
ایسے وقت میں حکومت کی جانب سے اس طرح کے احکامات جاری کرنا سمجھ سے بالاترہیں
حکومت پاکستان و پنجاب کو اپنے فیصلہ پرنظرثانی کرتے ہوٸےلاک ڈاٶن کافیصلا واپس لینا چاہٸےتاکہ حکومت انتظامیہ اور چھوٹے کاروباری افراد کو کسی قسم کی پریشانی کاسامنا نہ کرناپڑے
جب پچھلے 2 ماہ میں ایس اوپیز کے تحت کاروبار چلتارہنے سے کوٸی مسلا نہیں بناتو ان 8 دنوں میں بھی ایسا کچھ نہیں ہونے والا تھا عیدتہوارپر کاروبار بندکردینا تاجربرادری اور چھوٹےکاروباری حضرات کےساتھ ظلم ہے
حکومت کی زمینداری ہے کہ لوگوں کوروزگار کمانے کے مواقع فراہم کریں ناکہ عیدالضحٰی کے موقع پر لوگوں کا روزگار بندکرکے انہیں پریشانیوں میں مبطلع کیاجاٸے
پہلے کے لاک ڈاٶن سے لوگ اب تک پریشان ہیں دوکان مکان کا کرایہ گیس بجلی کا بل بچوں کے سکولوں کی فیسیں اکیڈمیوں کے ماملات
اور سب سے اہم اس وقت ہرعام پاکستانی قرض میں مبطلع ہے
پاکستان میں 65 فیصد لوگ دیہاڑی دار اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے بچوں کا روزگار حاصل کرتے ہیں
اور یہی 65 فیصد لگ آج تک سابقہ لاک ڈاٶن کی وجہ سے شدید پریشان ہیں
حکومت کو ان تحفظ و خیال رکھنا چاہٸے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button