اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

نواب اکبر بگٹی کی زندگی پر ایک نظر

 

کوئٹہ(ویوز نیوز رپورٹ) نواب اکبر بگٹی کا یومِ پیدائش12 جولائی  ہے۔ وہ اکبر بگٹی جو قیام پاکستان کی جنگ کا سپاہی تھا۔ وہ جو بلوچستان میں 15 فروری 1973 سے 3 جنوری 1974 تک وفاق کا نمائندہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ حکومت کا باغی کیسے بن گیا؟ سابق آمر جنرل پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کو دھمکی دی تھی کہ تم کو ہم وہاں سے ہٹ کریں گے کہ تم کو پتہ بھی نہ چلے گا۔ 26 اگست 2006ء کو کوہلو میں ایک دھماکے کے نتیجے میں جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ سردار اکبر بگٹی اپنے دو پوتوں اور سات کمانڈروں سمیت جاں بحق ہو گئے۔

نواب اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927ء کو بارکھان حاجی کوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ڈیرہ بگٹی سے حاصل کی۔ بعد میں ان کے والد محراب خان نے ایچی سن کالج میں داخل کروایا۔ وہ ابھی زیرِ تعلیم تھے کہ 1939ء میں ان کے والد صاحب وفات پا گئے تو اب نواب صاحب نے نوابی کی ذمہ داری سنبھالی اور تعلیم مکمل کر نے کے بعد 1944ء کو باقاعدہ سردار کی حیثیت سے فعال ہوئے۔

نواب صاحب بعد میں اکبر کے نام سے مشہور ہوئے نواب صاحب 1946 ء سے سرداری کی تمام زمہ داریاں سنبھالنے لگے۔ نواب صاحب کی تین بیویاں ، ایک بگٹی ، ایک پٹھان اور ایک کا تعلق سندھ سے ہے۔ پہلی بیوی سے چار بیٹے سلیم، ریحان، طلال، سلال دوسری سے ایک لڑکا جمیل اکبر اور دو بیٹیاں ہیں تیسری کا ایک بیٹا ہے۔ نواب صاحب کے بھائی کا نام احمد نواز تھا۔ بچپن میں اس کا نام پائند ہ خان تھا ۔

28 نومبر 1946ء کو مری بگٹی قبیلے کے دو سردار دودا خان مری اور نواب صاحب نے ایک درخواست کے زریعے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے قبائلی علاقے بھی قلات فیڈریشن میں شامل ہونے چاہئیں اس وقت بلوچستان کے دو حصے تھے ۔ قلات اور برٹش بلوچستان ، قیام پاکستان کے بعد 1950ء کو نواب اکبر بگٹی ایجنٹ ٹو گورنر جنرل کونسل رکن بننے کے دوران مشیر بنے ۔ ملک فیروز خان مسلم لیگ (ن) کی کابینہ میں بحیثیت نائب وزیر دفاع شامل رہے۔اس عہدہ پر ایک سال تک فائز رہے۔ شہید نواب اکبربگٹی کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ایوبی دور میں کرنا پڑاجب 1955ء میں پاکستان کے مغربی حصے کے تمام صوبوں اور ریاستوں کے ساتھ دونوں حصوں کو یکجا کر کے ون یونٹ کے تحت مغربی پاکستان کے صوبے میں یکجا کر دیا گیا۔ 1956ء میں قائم شدہ (نیپ) نیشنل عوامی پارٹی کو بلوچستان میں اس وقت مزید پذیرائی ملی جب ایوب کے دور حکومت کے آخر میں حکومتی جبر و تشدد کے باعث تین سردار نواب خیر بخش مری، نواب اکبر خان بگٹی اور سردار عطااللہ مینگل نیپ میں ہمسفر ہو گئے تو اس وقت کا نعرہ یہ تھا:
اتحاد کا ایک نشان
عطاء اللہ، خیر بخش، اکبر خان

ایوبی حکومت کے خاتمے کے بعد ہی نوب مری اور سردار مینگل نے باقاعدہ نیپ میں شمولیت اختیار کی۔ نواب اکبر خان بگٹی اگر چہ ایبڈو کے سبب پارٹی میں شامل نہ ہو سکے لیکن وہ نیپ کی مکمل حمایت کرتے رہے۔ اگست 1962ء میں ایوب خان ملک میر خان کے ساتھ کوئٹہ آئے اور مسلح افواج کی حفاظت میں نہایت اشتعال انگیز تقریر کی۔ اگلے روز بلوچوں نے جوابی جلسہ کیا جن میں سندھ کے سیاسی رہنما میر رسول بخش تالپور بھی شامل تھے ۔ جلسہ میں ایوب خان کی آمریت کو للکارا گیا۔ تو بلوچستان کے کونے کونے سے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ نواب صاحب بھی گرفتار ہوئے ان پر بغاوت اور قتل کا الزام لگایا گیا نواب صاحب سینٹرل جیل کراچی اے کلاس وارڈ نمبر 19میں رہے۔ مارشل لاء کے بعد ایک قتل کے الزام میں گرفتار ہوئے اور چودہ سال قید کی سزا دی گئی لیکن وسط جولائی 1961ء میں رہا ہوئے۔ دسمبر 1970ء کی انتخابی مہم کے دوران نواب مری اور سردار مینگل نے نیپ میں باقائدہ شمولیت اختیار کر لی۔ اس وقت نواب صاحب شہید پر ایوبی دور حکومت میں ایبڈو کی پابندی لگائی گئی تھی ۔ وہ دس سال تک سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے تھے ۔

1970ء کے عام انتخابات میں انہوں نے بلوچستان میں نیپ (NAP) کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ 15 فروری 1973ء سے 3 جنوری 1974ء تک وہ بلوچستان کے گورنر رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں نواب صاحب کو گورنر بلوچستان کی حیثیت دس ماہ تک ملی ، پھر اختلافات پر استعفٰی دے کر گھر جا کر بیٹھے ۔1980ء میں نواب صاحب نے سیاسی حکمت عملی کا انوکھا اور منفرد طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے مارشل لاء حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ اور ضیاء کے دور میں اردو بولنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے ہر جگہ اپنی مادری زبان میں تقریریں کیں۔پھر 1988ء کے انتخابات میں اردو بولنا شروع کیا۔

1985ء کے عام انتخابات میں ان کے بھائی میر احمد نواز بگٹی اور سلیم اکبر بگٹی بالترتیب قومی اور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1988ء کے عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے بلوچستان نیشنل الائنز کے نام سے ایک سیاسی جماعت تشکیل دی اور 4 فروری 1989ء سے 6 اگست 1990ء تک بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہے۔

پھر 16 اگست 1990 ء کو کوئٹہ میں مشورے کے بعد جمہوری وطن پارٹی تشکیل دی اور 1990ء میں بلامقابلہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1993ء اور 1997ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔

اکتوبر 1990ء کے انتخابات کے بعد پاکستان میں جو حکومتی ڈھانچے قائم ہوئے تمام پارٹیاں بر سر اقتدار تھیں لیکن جمہوری وطن پارٹی واحد سیاسی جماعت تھی جو حزب اختلاف میں تھی ۔ 1993ء میں جمہوری وطن پارٹی نے ایک مرتبہ پھر اپوزیشن برقرار رکھی ۔ 1997ء کے انتخابات میں حصہ لینے سے نواب صاحب ممبر نیشنل اسمبلی اور بطور صوبائی ممبر نواب سلیم بگٹی کا انتخاب عمل میں آیا۔1993ء میں بگٹی جھکرانی جنگ ہوئی کچھ عرصے بعد 2003 میں بگٹی مزاری جنگ ہوئی اور پائپ لائن تباہ ہو گئے ۔ حکومت کو 12 کروڈ کا نقصان اٹھانا پڑا کرفیو نافذ ہوا ۔ نواب صاحب نے اس جنگ کو خوش آئند قرار دیا۔ بعد ازاں اطلاعات کے مطابق بگٹی مزاری کے باہمی مذاکرات کی وجہ سے ان کی دشمنی ختم ہو گئی۔

جنوری 2005ء میں ڈاکٹر شازیہ کیس نے پورے بلوچستان میں آگ لگا دی کیونکہ بلوچ معاشرے میں خواتین کو ایک بڑا مقام حاصل ہے ۔ اس واقعہ کے بعد ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ ہو گئے

7 جنوری 2005ء کو بگٹیوں نے گیس پائپ لائن اڑا دی جس سے پاکستان میں گیس کی سپلائی معطّل ہو گئی

7 جنوری 2005 ء سے 11 جنوری 2005 ء تک راکٹ حملوں میں پاکستان پیٹرول لمیٹڈ، پی پی ایل کو 230 ملین روپے جبکہ گیس سپلائی معطّل ہونے سے پاکستان کو 120 ملین روپیہ کا یومیہ نقصان ہوا تھا۔

پی پی ایل کے جنرل منیجر محمد افتخار نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایف سی پر جنوری سے فروری تک 10 ارب سے زائد خرچ ہوئے ہیں ۔ حکومتی ترجمان۔

10 جنوری 2005 کو انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شازیہ کو کیپٹن حماد کی قیادت میں 3 اہلکاروں نے رات بھر زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن کیس نہیں دب سکا ۔ بلوچ اپنی سر زمین و علاقے میں اس قسم کے شرمناک معاملات کو کسی طور برداشت نہیں کرینگے۔ بلوچوں کی رضامندی کے بغیر وسط ایشیاء سے گیس لائن بھارت نہیں جا سکتی

17 مارچ 2005 کو سانحہ ڈیرہ بگٹی پیش آیا۔ ڈیرہ بگٹی میں گھروں پر بمباری کی گئی جس میں 70 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ گولے ڈیرہ بگٹی کی آبادی اور نواب صاحب کے قلعے میں گرے ان کے پرسنل سیکریٹری رفیق بگٹی زخمی اور دو افراد شہید ہو گئے۔ وہ بی بی سی کو انٹرویو د ے رہے تھے کہ گولے کی آواز آئی نواب صاحب نے کہا ہم پر جنگ مسلّط کر دی گئی ہے۔

حالات تیزی سے بدل رہے تھے کوہلو، ڈیرہ بگٹی کے گرد جنگ شدت سے جاری تھی۔ شہید نواب اکبر بگٹی ، بلوچ فوج کی قیادت سنبھالے ہوئے تھے ۔ شہری علاقوں پر بلوچ سرمچاروں کی کاروائیوں میں شدت آئی۔

13 اکتوبر 2005ء کو نواب صاحب نے بیان میں کہا کہ جنرل اپنے وعدے پر قائم رہے بلوچوں کو زندان اور غم توقع سے بڑھ کر ملا آخر میں موت جو آزادی دیتی ہے یہ تمام مجموعہ ہے جو بلوچ توقع کر سکتا ہے ۔ بلوچستان کو تقسیم نہیں ہونے دینگے۔ بلوچستان کیلئے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں گریز نہیں کرینگے۔

نواب صاحب نے 80 سال کی عمر میں مزاحمت کی سر براہی کی پاکستانی فوج اور حکومت کو تاریخ کی بدترین عسکری اور معاشی تباہی سے دوچار ہونا پڑا جس کا زکر خود پی پی ایل جنرل میجر نے کیا۔ اور سرمچاروں نے صرف جنوری 2005ء سے اگست 2005ء تک دشمن فوج کو نواب صاحب کی سربراہی میں بھاری نقصان پہنچایا۔ 8 مہینوں میں 151 فوجی شہید اور 197 زخمی ہوئے۔

21 دفعہ ریلوے لائن دھماکوں سے تباہ کیے گئے جو 138 فٹ بنتے ہیں
37 بار گیس لائن تباہ کیے گئے اور گرینڈ گیس فیلڈ کو بھی تباہ کیا۔
بجلی کے 57 ٹاور جس میں 320 کے وی کے 21 ٹاور 132 کے وی کے 11 ٹاور بھی شامل ہیں۔

3 ٹی وی اسٹیشن پی ٹی سی ایل کے 6 اسٹیشن ، 1 مائیکرو رسیکور ٹاور اور پنجگور میں بین الاقوامی ریڈار سسٹم بھی تباہ کیا گیا۔ 2 ہیلی کاپٹر مارے گئے۔

(یہ تمام اعدادوشمار پاکستانی اخبارات سے لیے گئے ہیں) ۔

دسمبر 2005 ء اور جنوری 2006 ء میں مزاحمت تیز ہو گئی ۔ کوہلو میں مشرف پر بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔

اسی دوران 26 اگست 2006ء کو ایک دھماکے کے نتیجے میں سردار اکبر بگٹی اپنے اس غار میں، جہاں انہوں نے پناہ گاہ بنا رکھی تھی، اپنے مسلح ساتھیوں سمیت جاں بحق ہو گئے۔ چند روز بعد جب سردار اکبر بگٹی کی لاش بازیاب ہوئی تو حکومت نے اسے ایک صندوق میں بند کر کے سپرد خاک کر دیا۔

اکبر بگٹی کے قتل کا الزام اکبر بگٹی کے اقارب نے جنرل پرویز مشرف پر لگایا تاہم مشرف نے قتل سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ اس قتل کو لے کر پورے بلوچستان میں حالات کشیدہ ہو گئے ، مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور دیگر اشیاء کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شہروں میں احتجاج شروع ہوا، مظاہرین کا کہنا تھا کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت میں پرویز مشرف کا ہاتھ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button