پاکستانکالم/بلاگ

کالام: جنت نظیر سرزمین

(انٹرنیشنل CNN اردو نیوز، رومان اردو یوٹیوب چینل، بیورو چیف مڈل ایسٹ)

مینگورہ شہر سے 96 کلومیٹر دور واقع کالام سطح سمندر سے 6800 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں دریائے اتروڑ اور دریائے اوشو کا باہم ملاپ ہوتا ہے۔ اور یہ آگے جاکر دریائے سوات کا نام اختیار کرلیتا ہے۔ کالام ہائیکنگ، ٹریکنگ اور ٹراؤٹ فشنگ کے لیے آئیڈیل ہے۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ کالام کی تفریحی مقامات سے قبل مختصراً خیبر پختونخوا کی تاریخ نذر قارئین کی جائے۔
خیبر پختونخوا کہلانے سے پہلے اس خطہ کو سرحد، گندھارا، بگرام، پشکلاوتی اور دوسرے ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا تاریخی لحاظ سے قدیم ترین انسانی تہذیب کا گہوارہ رہا ہے۔ راجہ جے پال کی شکست کے بعد پنجاب کے ساتھ خیبر پختونخوا بھی غزنوی حکومت کے تحت آ گیا۔ 1191ء میں شہاب الدین غوری نے اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ 1261ء میں خوارزم شاہ نے چنگیز خان سے شکست کھائی تو درہ خیبر کے راستے صوبے میں نکل آیا۔ خلجی، تغلق، امیر تیمور اور لودھی کے بعد 1526ء میں بابر نے ابراہیم لودھی کو شکست دے کر صوبہ خیبر پختونخوا کو مغلیہ سلطنت کا حصہ بنا لیا۔ مغلیہ سلطنت کے خاتمہ کے بعد 1848ء ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1849ء میں پشاور، ہزارہ، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان کو صوبہ پنجاب کا حصہ بنایا بلکہ مالا کنڈ اور دیگر چار ایجنسیاں بھی پنجاب کے زیر انتظام دے دی گئیں۔ 1901ء میں وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے پنجاب سے پشاور، ہزارہ، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کو الگ کرکے شمال مغربی سرحدی صوبہ کے نام سے ایک الگ صوبہ بنا دیا۔
1947ء میں قیام پاکستان سے ایک ماہ پہلے ریفرنڈم ہوا تو ہندوستان کے حق میں 2874 اور پاکستان کو 189240 ووٹ ڈالے گئے۔
اب کالام کے مختصراً تفریحی مقامات کی تفصیل پیش خدمت ہے۔
کالام مسجد: کالام کی یہ مسجد دریائے سوات کے دائیں کنارے پر واقع ہے۔ جس کے آگے کالام کا گاؤں آباد ہے۔ پل کے پار کالام کی جامع مسجد اخروٹ کی لکڑی سے بنی ہے۔ مسجد میں دیوہیکل شہتیر ہیں۔ جن پر گندھارا آرٹ کے مطابق کندہ کاری اور چترکاری کی گئی ہے۔
بھوئیں (اریانی): دریا پار کالام کے اوپر پہاڑی ٹاپ پر ایک بہت بڑا وسیع میدان ہے۔ یہ ایک نہایت خوبصورت علاقہ ہے جہاں سے قرب و جوار کا نظارہ بہت دلفریب ہوتا ہے۔ دونوں وادیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہیں۔
اوشو: کالام سے آگے بنڑ کے مقام سے سڑک دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ بائیں طرف اتروڑ اور گبرال جبکہ دائیں طرف کالام سے بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر سطح سمندر سے 7300 فٹ بلندی پر گھنے جنگلات اور برف پوش پہاڑوں میں گھری وادی اوشو ہے۔ بنڑ سے مہوڈنڈ تک پوری وادی سجی سجائی دلہن ہے۔ وادی اوشو تقریباً چالیس میل لمبی ہے۔ اوشو کی 1500 فٹ کی بلندی سے گرنے والی آبشار اوچار بہت مشہور ہے۔
مٹلتان: اوشو سے تقریباً سات کلومیٹر آگے وادی اوشو کا صدر مقام مٹلتان ہے۔ مٹل کوہستانی زبان میں سفید مٹی کو کہتے ہیں۔ اس علاقے میں سفید مٹی کی بہتات کی وجہ سے اس جگہ کو مٹلتان کہا جانے لگا۔ مٹلتان سے تھوڑا آگے ایک خوبصورت آبشار واقع ہے جس کی بلندی 700 فٹ ہے۔
چوراٹ گول: مٹلتان کے جنوب میں برف پوش پہاڑوں میں گھری بہت بڑی وادی چوراٹ گول ہے۔ ندیاں ، آبشاریں، مشروم اور بے حد سکون موجود ہے۔ سکون کے متلاشیوں کے لیے میاندم کے بعد یہ علاقہ بڑا پسندیدہ ہے۔
گلیشیئر: مٹلتان سے تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بہت بڑا گلیشیئر ہے جو کہ عموماً موسم گرما میں بھی باقی رہتا ہے۔ بھرپور انجوائے کے لیے بہترین جگہ ہے۔
مہوڈنڈ جھیل: کالام سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ جھیل خوبصورت ٹراؤٹ مچھلی کی کثرت کی وجہ سے مشہور ہے۔ فلک بوس پہاڑوں، گھنے سرسبز درختوں میں گھرا یہ علاقہ آپ کو مبہوت کر دے گا۔ اس کے وسیع سرسبز میدان میں گھڑ سواری کا اپنا ہی مزہ ہے۔ 9000 فٹ بلندی پر واقع یہ جھیل تین میل لمبی اور دو میل چوڑی ہے۔
پری ۔۔۔ خاپیرو جھیل: کالام سے اتروڑ روڈ پر تقریباً دس کلومیٹر تک جیپ کا سفر ہے۔ پھر یہاں سے اناکھر نامی علاقے کی طرف خاپیرو جھیل سات کلومیٹر 6 گھنٹے پیدل مسافت پر واقع ہے۔ نوکیلی چوٹیوں اور بلند پہاڑوں میں گھری اس جھیل کے راستے میں بے شمار آبشاریں اور چشمے آپ کے چشم براہ ہوں گے۔
کنڈول جھیل: کالام سے اتروڑ روڈ پر جیپ کے ذریعے ڈیڑھ گھنٹہ کے راستہ ہے۔ لدو سے تین گھنٹے کی پیدل مسافت پر کنڈول جھیل واقع ہے۔ یہ کالام اور اپر دیر کے درمیانی علاقے میں ہے۔ پیالے کی مانند اس خوبصورت جھیل سے پانی نکلتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ ٹریکنگ اور کیمپنگ کے شوقین حضرات کے لیے یہ آئیڈیل علاقہ ہے۔
سپن خواڑ جھیل: اتروڑ ریلی کے مشرق اور کنڈول جھیل کے شمال میں پہاڑوں کی آغوش میں یہ خوبصورت جھیل چھپی بیٹھی ہے۔ یہاں جانے کے عمومی طور پر دو راستے استعمال ہوتے ہیں ایک کنڈول سے اور دوسرا الدوویلی سے۔
وادی گبرال: اتروڑ سے 35 کلومیٹر دور سطح سمندر سے 2268 میٹر بلند وادی گبرال میں گبرال، بیلہ، کشکان، باڑہ، مالی کوہ، چھوٹا جبہ، بڑا جبہ، رنگ سی، لابڑی اور دیگر خوبصورت ترین علاقوں کو دیکھ کر آپ کو یقین آ جائے گا کہ سوات کو مشرق کا سوئٹزرلینڈ ٹھیک ہی کہا جاتا ہے۔ اس گل پوش وادی سے نکلنے والے دریائے گبرال کا پانی امریکہ کی سپیریئر جھیل کی طرح برفانی ہے۔
اس سفر میں میرے ہمراہ میرے سالے تاج محمد خان، انجینئر عرفان خان، ہم اپنی فیملیز کے ساتھ تھے۔ تمام احباب نے اس سفر کو مکمل انجوائے کیا۔ اللہ تعالیٰ تمام احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button