کالم/بلاگ

”دنیاوی زندگی کی حقیقت“

 

 مولانا احمد ضیا ٕ منچن آباد
03017374121

زندگی کی مصیبتوں سے پریشان نہ ہونا کیونکہ یہ دنیااسیی ہے۔
اصل میں اس زندگی میں تھکاوٹ وبیماریاں ہیں اور خوشیاں بہت کم ہیں اگر یہ زندگی آزاماٸش کاگھر نہ ہوتی تویہ بیماریاں وپریشانیاں اور رزق کی تنگی نہ ہوتی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے بہت دکھ اٹھاۓ حتیٰ کہ موت آٸی،حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے جھٹلایا اور مزاق کیا حضرت ابراھیم علیہ السلام کوآگ میں ڈال دیا گیا۔حضرت یعقوب علیہ السلام اتنا روۓ حتیٰ کہ ان کی آنکھیں سفید ہو گٸیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کا ظلم برداشت کیا،حضرت عیسی علیہ السلام فقیر رہے،حضرت محمدﷺ نے فقرپرصبر کیا آپ کے چچا کو قتل کیا گیا اگر یہ زندگی کسی لذت کےلیے پیدا کی جاتی تو مٶمن کے نصیب میں کچھ ناآتا۔
آپﷺنے فرمایا:
”یہ دنیامٶمن کےلیے جیل ہے اور کافر کے لیے جنت ہے“
موت کاعلاج بڑےبڑے ساٸنسدان اورفلسفی نہیں کرسکے۔کہتے ہیں کہ افلاطون نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ موت کا علاج کرسکتا ہے۔اس نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ اس کو موت کا آخری وقت اور آخری لمحہ بتادیا جاۓ۔ اس کی دعاقبول ہو گٸی اور اس نے موت سے بچنے کا علاج اس طرح ڈھونڈا کہ طے شدہ وقت پرموت سے بچنے کے لیے اپنی شکل کی اٹھارہ مورتیاں بناٸیں ان تمام کو سلیقے سے کرسیوں پررکھا اور ایک کرسی پر جاکر خود بیٹھ گیا۔وہ سوچ رہا تھا کہ جب ملک الموت آۓ گا تو وہ دیکھ کر حیران ہوگا کہ یہاں تو بہت سے افلاطون موجود ہیں میں کس کی روح قبض کروں۔
فرشتہ کو اسی الجھن میں دیر ہو جاۓ گی اور موت کا آخری مقررہ لمحہ گزرجاۓ گا اسی طرح وہ مرنے سے بچ جاۓ گا۔ چنانچہ وقت مقررہ پرموت کافرشتہ آیا اور دیکھ کر بولا کہ اےافلاطون! تونے بڑاہی کمال کر دکھایاہے لیکن پھر بھی ایک فرق رہ گیا ہے۔
اس پر افلاطون بول پڑا کہ وہ کون ساہے? توفرشتے نے کہا یہی فرق ہے کہ توناطق(بولنے والا)اور دیگر ناطق نہیں ہیں اسی طرح یہ مدعی بھی اپنے دعویٰ میں ناکام رہا۔
خلاصہ یہ کہ موت سے کسی کو خلاصی نہیں لہذاہر شخص کو اپنے انجام کی فکر کرنا چاہۓ۔
اگراپنے کسی حریف سے مقابلہ سے ایسا کلمہ سنو جس سے آپ کو غصہ آجاۓ تو اس کو معاف کردو اوراس کا کوٸی انتقام نہ لو نفس کو قابو میں رکھنے کا نام صبر ہے وقت تو گزر جاۓ گا معاف کر دو گے دنیا میں کوٸی نقصان نہ ہوگا۔آخرت میں میں درجات بڑھیں گے۔
آپﷺ نے کھبی اپنی ذات کے لیے انتقام نہ لیا اسلام کے لیے جزبہ انتقام ہو مگر اپنے لیے کبھی ایسا نہ کیا۔
آپﷺ کا ارشادہے کہ محبت ہو تو اللہ کےلیے بغض ہو تو وہ بھی اللہ کے لیے۔
اور جن کو اللہ تعالی نے یہ مقام عطا ٕ کر دیا ہے ان کو ایسی بیہودہ باتوں کا خیال بھی نہیں ہوتا کوٸی برا کہے، بھلا کہے دونوں یکساں ہیں کسی کی تعریف اور براٸی کا اثر نہ ہوتا۔
حضرت زیدی بن ثابتؓ فرماتے ہے کہ حضورﷺسے سناہے جس نے دنیا کو مطلوب بنالیا۔ تواللہ تعالی اس کے کاموں کو بگاڑ دیں گے اور فقر کو ان کے سامنے رکھیں گے اور وہی ملے گا جو اس کے نصیب میں لکھا گیا ہےاور جس کی مراد آخرت ہو گی تواللہ تعالی اس کے کاموں کو اکٹھا کردیں گے اور اس کے دل کو غنی کر دیں گے اور دنیا اس کے پیچھے پیچھے آۓ گی۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button