اہم خبریںاہم خبریںشوبزشوبز

امرتا پریتم بہت بڑی لکھاری

لاہور(ویوز نیوز رپورٹ)امرتا پریتم پنجابی ادب کی بہت بڑی لکھاری ہیں۔ وہ 1935 میں شہر محبت وزیرآباد کے ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے لاہور میں تعلیم حاصل کی۔انہوں نے 75 سے زیادہ کتابیں لکھیں جن میں 30 ناول،18 شاعری اور بہت سارے افسانوّں کے مجموعہ شامل ہیں۔ وہ صرف پنجابی اور ہندی میں لکھتی ہیں مگر ان کی تحریروں کے 40 سے زیادہ زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ وہ 1947 میں لاہور سے ہجرت کرکے دہلی گئیں اور ساری زندگی وہیں رہیِں۔ انہوں نے پانچ روپیہ روزانہ پر آل انڈیا ریڈیو پر د س سال کام کیا امرتا پریتم انڈیا کی پہلی خاتون لکھاری تھیں جنہیں ساہتہ اکیڈمی ایوارڈ ملا۔ ان کی ادب میں خدمات کے صلہ میں انڈیا کے صدر نے انہیں پد ما شری کا خطاب دیا امرتا نے ہمیشہ پسماندہ طبقات کی لئے کام کیا۔ انہیں لکھاریوں کی لئے مخصوص سیٹ پر راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کیا گیا۔

ساحر لدھیانوی کے ساتھ ان کا معاشقہ ادبی دنیا کے مشہور معاشقوں میں شمار ہوتا ہے جس کی تفصیل تھوڑی بہت ان کی کتاب رسیدی ٹکٹ میں موجود ہے امریتا پریتم اردو کے مشہور شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی سے محبت کر بیٹھی


ایسی بے پناہ محبت کی کہ غم اور درد میں اضافہ ہوگیا۔ اپنے شوہر کو چھوڑ دیا امریتا نے محبت نبھائی اور خوب نبھائی۔ کہا جاتا ہے کہ امریتا کو یک طرفہ محبت تھی، لیکن ساحر نے بالی وڈ کے لئے جتنے بھی نغمے لکھے، ان تمام نغموں میں امریتا کا عکس تھا۔ وہ ساحر بھی ان سے محبت کرتا تھا۔ جب ساحر نے کسی اور خاتون سے دل لگایا توا س وجہ سے امریتا کا دل ٹوٹا اور ایسا ٹوٹا کہ امریتا دنیا کی عظیم ادبی شخصیت بن گئیں امریتا کہتی ہیں کہ ساحر کے لفظوں میں جادو تھا یا اس کی خاموش نظروں کا اثر کہ انہیں ساحر سے عشق ہو گیا۔ لاہور میں جب بھی ان سے ملتا تھا۔ خاموش بیٹھا رہتا تھا۔ وہ چپ چاپ سگریٹ پیتا، اور آدھی سگریٹ پی کر بجھا دیتا، اور پھر ایک نیا سگریٹ سلگا دیتا۔ جب وہ چلا جاتا تو سگریٹ کے ٹکڑے وہاں اس کے گھر میں رہ جاتے، وہ ان سگریٹ کے ٹکڑوں کو سنبھال کر الماری میں رکھ دیتی تھی۔ پھر اکیلے میں ایک ایک ٹکڑے کو ہاتھ لگاتی تھی اور ایسا محسوس ہوتا، جیسے وہ ساحر کے ہاتھ کو چھو رہی ہو۔ ساحر اور امریتا کا مسئلہ یہ تھا کہ دونوں ذاتی زندگی کے بوجھ میں دبے تھے۔ ساحر نے ایک نظم لکھی تھی اور فریم کرا کر امریتا کو بھجوا دی تھی۔ اس نظم کا نام تھا تاج محل۔ امریتا نے مرتے دم تک وہ نظم سینے سے لگا کر رکھی۔

انسانی تاریخ کے سب سے بڑے ظلم پر امریتا پریتم نے پنجابی کے مشہور صوفی شاعر وارث شاہ کو مخاطب کر کے اپنی یہ نظم لکھی

اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وَین
اَج لَکھاں دھیآں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کَیہن

اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

کسے نے پنجاں پانیاں وچ اج دتی زہر رلا
تے اوہناں پانیاں نوں دتا دھرت نوں لا

جتھے وجدی پھوک پیار دی او ونجلی گئی گواچ
رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اوس دی جاچ

دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیّئاں چون
پریت دیاں شہزادیاں اج وچ مزاراں رون

اج تے سبے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور
اج کتھوں لیآئیے لبھ کے وارث شاہ اک ہور

یہ نظم پنجابیوں سمیت انسانیت سے پیار کرنے والے ہر شخص کے دل کی آواز بن گئی ۔امرتا پریتم کا 86 سال کی عمر میں 31 اکتوبر 2005ء میں انتقال ہوا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button