اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

اردو کی معروف افسانه نگار اور ادیبہ عصمت چغتائی کا جنم دن

لاہور(ویوز نیوز رپورٹ)آج اردو کی معروف افسانه نگار اور ادیبہ عصمت چغتائی کا جنم دن ہے۔

+ آج 21 اگست اردو کی معروف افسانه نگار اور ادیبہ عصمت چغتائی کا جنم دن ہے۔ عصمت چغتائی 21 اگست 1915ء میں ہندوستان کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ عصمت چغتائی نے بدایوں، بھوپال، آگرہ، لکھنو، بریلی، جودھ پور ،علی گڑھ اور بمبئی میں زندگی گزاری۔ ان کے والد مرزا قسیم بیگ چغتائی جج تھے۔ چھ بھائیوں اور چار بہنوں میں عصمت کا دسواں نمبر تھا۔ ان کے ایک بھائی عظیم بیگ چغتائی بھی مشہور ادیب تھے ۔

بچپن ہی سے عصمت کے مشاغل لڑکوں جیسے تھے، پتنگ بازی اور بنٹے کھیلنا وغیرہ ۔ ان کی سوچ باغیانہ تھی۔ 1942 میں عصمت کی شاہد لطیف سے شادی ہوئی، جس سے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ پہلے تدریس کا شعبہ اختیار کیا، پھر مکمل طور پر ادب اور فلم سے وابستہ ہو گئیں۔

عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری

عصمت چغتائی نے خواتین اور ان سے جڑے مسائل پر لکھا ہے۔ ان کے افسانے اور ناول متوسط طبقہ کی خواتین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں میں بہت سارے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ جذبات نگاری، مکالمہ نگاری، منظر نگاری کے بہترین نمونے ان کے افسانوں میں نظر آتے ہیں

عصمت چغتائی کا پہلا افسانہ ” گیندا “ تھا ۔ اس افسانے میں انھوں نے کئی اہم موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ اس افسانہ کا مرکزی کردار گیندا ہے۔ یہ ایک نہایت غریب لڑکی ہے۔ اس کی سہیلی ایک اوسط درجہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ کہانی اسی لڑکی کی زبانی سنائی گئی ہے۔ دونوں بچپن سے ساتھ کھیلتے ہیں۔ گیندا کی بچپن میں ہی شادی ہو جاتی ہے اور وہ بیوہ بھی ہو جاتی ہے۔ کھیل کے دوران جب گیندا کو سیندور دیا جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ”بدھوا کاہے کو سنگھار کرے“۔ گیندا کی سہیلی کا بھائی گیندا کو ماں بنا دیتا ہے۔ کسی طرح لڑکے کو دہلی بھیج دیا جاتا ہے۔ سال ڈیڑھ سال بعد گیندا کی سہیلی واپس آتی ہے تو گیندا کی گود میں بچہ ہوتا ہے۔

عصمت چغتائی کے مشہورِ زمانہ ناولوں میں میں ضدی، ٹیڑھی لکیر، معصومہ، سودائی، عجیب آدمی، جنگلی کبوتر، ایک قطرہ خوں شامل ہیں، ٹیڑھی لکیر کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔

ان کے افسانوی مجموعوں میں کلیاں، ایک بات، چوٹیں، دوہاتھ، چھوئی موئی، بدن کی خوشبو اور آدھی عورت آدھا خواب شامل ہیں۔

عصمت چغتائی نے "کاغذی پیرہن” کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح لکھی۔

لحاف

1934ء میں انہوں نے لحاف کے نام سے افسانہ لکھا۔ ’’ لحاف ‘‘ جو خواتین میں ہم جنس پرستی کے بارے میں تھا ، سخت نکتہ چینی کا نشانہ بنا لیکن انہوں نے کبھی یہ کہانی لکھنے پر افسوس کا اظہار نہ کیا ان کے بقول یہ نوابی سماج کی ایک عام بات تھی۔

لحاف کے بارے میں عصمت چغتائی اپنی آپ بیتی کاغذی پیرہن میں لکھتی ہیں کہ:

"لحاف سے پہلے اور لحاف کے بعد میں نے جو کچھ لکھا اس پر کسی نے غور نہیں کیا۔ لحاف کا لیبل اب بھی میری ہستی سے چپکا ہوا ہے۔ لحاف میری چڑ بن گیا۔ میں کچھ بھی لکھوں لحاف کی تہوں میں دب جاتا ہے۔ لحاف نے مجھے بڑے جوتے کھلوائے "۔

"لحاف” پر ڈائریکٹر راحت کاظمی نے فلم بنائی جس میں مرکزی کردار تنیشا چیٹر جی نے ادا کیا۔

چوتھی کا جوڑا

"چوتھی کا جوڑا ” عصمت چغتائی کا نمائندہ افسانہ ہے۔ یہ ایک غریب بیوہ بی اماں کے خاندان کی کہانی ہے۔ دو بیٹیوں کی ماں گھر میں زری کا کام کر کے اپنی اور بیٹیوں کی کفالت کرتی ہے۔ کبریٰ بڑی لڑکی ہے جس کی عمر کافی بڑھ چکی ہے اور اس کی شادی کی فکر میں وہ گھلی جا رہی ہے۔ جب کہ چھوٹی بٹیا وحیدہ ہے۔ زری اور کترن کے کام میں بی اماں بہت زیادہ ماہر تھی اور محلہ کی عورتیں جن کپڑوں میں مکمل سلائی نہ ہوتی وہ لا کر بی اماں کے حوالے کر دیتے اور وہ اس طرح سے کترن کرتی کہ کپڑا برابر ہو جاتا۔ یہ مہارت وہ استقلال کے ساتھ کرتی اور محلہ کی عورتیں حیرت سے اس کا منہ تکتیں۔

بی اماں کی مہارت کے بعد عصمت چغتائی نے اس بیوہ کی دلی خواہش کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اپنی بیٹی کی شادی کی خواہش دل میں لئے وہ بار بار چوتھی کا جوڑا بناتی اور پرانا ہونے پر اسے ادھیڑ کر پھر سے نیا کر دیتی۔

بی اماں کی کیفیت کو وہ اس طرح بیان کرتی ہیں:

” دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد بی اماں ایک بڑا صندوق کھول کر بیٹھ جاتی جس میں رنگ برنگے ڈوپٹے ، شادی اور چوتھی کے جوڑے وغیرہ ہوتے ۔ اسے دیکھ کر وہ کبریٰ کی شادی کے بارے میں سوچتی۔ محلہ کی کتنی دلہنوں کے لےے جوڑا تیار کرنے والی بی اماں اپنی بڑی بیٹی کبریٰ کے لےے جوڑا تیار کرتی اور جب وہ پرانا ہو جاتا تو اسے ادھیڑ دیتی اور پھر سے نیا جوڑا بناتی۔

جب محلہ کی چار عورتیں جمع ہوں تو مختلف مسائل پر گفتگو بھی ہوتی ہی ہے، ساتھ ہی کبھی کبھی بیہودہ مذاق بھی ہوتے تھے۔

ان مذاقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لطیف انداز میں عصمت چغتائی لکھتی ہیں:

جب محلہ کی عورتیں جمع ہو جاتیں اور مذاق کرنے لگتیں تو کم عمر اور کنواری لڑکیوں کو دور بٹھا دیا جاتا۔ جب زور دار قہقہہ بلند ہوتا تو وہ لڑکیاں سوچنے لگتیں کہ ہم کب اس طرح کا قہقہہ لگا سکیں گے۔

اس چہل پہل سے دور کبریٰ مچھروں والی کوٹھڑی میں سر جھکائے بیٹی رہتی۔ کبریٰ کی عمر بڑھ رہی ہے اور مچھروں والی کوٹھڑی میں پڑی رہتی ہے ۔ اس کی چھوٹی بہن حمیدہ اس کہانی کا اہم کردار ہے اکثر جملے عصمت چغتائی نے اسی کے ذریعہ سے کہلوائے ہیں۔ حمیدہ کے ابو کی تفصیلات بھی حمیدہ کے ذریعہ سے ہی بتلائی گئی ہیں:

” حمیدہ چھوٹی بیٹی ہے اور اسے اپنے ابو کی یاد آتی ہے۔ ابو کتنے دبلے پتلے تھے جیسے محرم کا علم ، ایک بار جھک گئے تو سیدھے کھڑا ہونا دشوار تھا۔ صبح ہی صبح نیم کی مسواک توڑ لیتے اور پھر حمیدہ کو گھٹنے بٹھا کر نہ جانے کیا سوچتے ہوئے مسواک کرتے ، مسواک کا کوئی پھونسڑا حلق میں چلے جاتا تو کھانستے ہی چلے جاتے۔ حمیدہ بگڑ کر ان کی گود سے اتر آتی۔ “

بی اماں کے شوہر کی بیماری کا تذکرہ عصمت چغتائی نے مکالمہ کے ذریعہ لکھا ہے :

” کچھ دوا دارو کیوں نہیں کرتے ، کتنی بار کہا تم سے ۔ “
” بڑے شفاخانے کا ڈاکٹر کہتا ہے سوئیاں لگواﺅ۔ روز تین پاﺅ دودھ اور آدھی چھٹانک مکھن کھاﺅ۔ “

” ”اے خاک پڑے ان ڈاکٹروں کی صورت پر بھلا ایک تو کھانسی اوپر سے چکنائی، بلغم نہ پیدا کر دے گی۔ حکیم کو دکھاﺅ کسی کو۔”دکھاﺅں گا“ یہ کہہ کر وہ حقہ گڑگڑاتے۔ گھر کے اہم فرد کے انتقال کے بعد گھر کے حالات بالکل بدل جاتے ہیں۔ “

عصمت چغتائی نے ان تبدیلیوں کو اپنے مخصوص انداز میں اس طرح بیان کیا ہے :

” ابا ایک دن چوکھٹ پر گر گئے اور انھیں اٹھانے کے لےے کسی حکیم یا ڈاکٹر کا نسخہ نہ آ سکا۔ اور حمیدہ نے میٹھی روٹی کی ضد کرنی چھوڑ دی۔ اور کبریٰ کے پیغام نہ جانے کدھر راستہ بھول گئے۔ جانو کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اس ٹاٹ کے پردے کے پیچھے کسی کی جوانی آخری سسکیاں لے رہی ہے اور ایک نئی جوانی سانپ کے پھن کی طرح اٹھ رہی ہے مگر بی اماں کا دستور نہ ٹوٹا وہ اسی طرح روز دوپہر کو سہ دری میں رنگ برنگ کپڑے پھیلا کر گڑیوں کا کھیل کھیلا کرتی ہیں۔ “

کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب حمیدہ کے منجھلے ماموں کا بیٹا راحت اس بیوہ کے گھر میں ایک امید کی کرن بن کر آتا ہے۔ بیوہ بی اماں یہ سمجھتی ہے کہ اس کے بھائی کا بیٹا یہاں آیا ہے تو ہو سکتا ہے اس کا داماد بن جائے۔ اپنے گہنے اور زیورات بیچ کر یہ بیوہ راحت کے لےے راحت کا سامان مہیا کرتی ہے تاکہ وہ مہمان نوازی سے خوش ہو اور کبریٰ سے شادی کر لے۔

عصمت چغتائی حمیدہ کی زبانی راحت کے آنے کی تفصیلات اس طرح فراہم کرتی ہیں:

” ایک دن منجھلے ماموں کا تار آیا کہ ان کا بڑا لڑکا راحت پولیس کی ٹریننگ کے سلسلہ میں آ رہا ہے۔ بی اماں کو تو بس ایک دم جیسے گھبراہٹ کا دورہ پڑ گیا جانو راحت نہیں، چوکھٹ پر بارات آئی کھڑی ہو اور انھوں نے ابھی دلہن کی مانگ کی افشاں بھی نہیں کتری ہول سے ان کے تو چھکے چھوٹ گئے۔ جھٹ اپنی منہ بولی بہن بندو کی ماں کو بلا بھیجا۔ “

راحت کے آنے کے بعد کبریٰ کی شادی کے لےے آس لگا کر گھر کو صاف کرتی ہے۔ مختلف قسم کے پکوان کی تیاری کرتی ہے۔

” تھوڑا سا چونا منگا کر کبریٰ نے اپنے ہاتھوں سے کمرہ پوت ڈالا۔ کمرہ تو چٹا ہو گیا مگر اس کی ہتھیلیوں کی کھال اڑ گئی اور جب وہ شام کو مسالا پیسنے بیٹھی تو چکر کھا کر دوہری ہو گئی۔ ساری رات کروٹیں بدلتے گزری ایک تو ہتھیلیوں کی وجہ سے دوسرے صبح کی گاڑی سے راحت آ رہے تھے۔ راحت کے آنے اطلاع پا کر حمیدہ بھی خوش ہوتی ہے۔ اور خوشی میں وہ فجر کی نماز پڑھ کر دعا مانگی ”اللہ میرے اللہ میاں، اب کے تو میری آپا کا نصیبہ کھل جائے، میرے اللہ میں سو رکعت نفل تیری درگاہ میں پڑھوں گی ۔کبریٰ وہیں کوٹھری میں چھپی رہتی ہے جب راحت صبح سوئیوں اور پراٹھوں کا ناشتا کر کے بیٹھک میں چلے جاتے تو کبریٰ نئی دلہن کی طرح پیر رکھتی کوٹھڑی سے نکلتی اور جھوٹے برتن اٹھا لیتی۔ “

کبریٰ اور حمیدہ میں مذاق بھی ہوتا ہے:

لاﺅ! میں دھوﺅں بی آپا، حمیدہ نے شرارت سے کہا ”نہیں وہ شرم سے جھک گئی “

حمیدہ چھیڑتی رہی، بی اماں مسکراتی رہیں اور کریپ کے دوپٹے پر پلو ٹانکتی رہیں۔

بیوہ کے گھر میں روز دعوتیں ہوں تو پھر گھر کے سامان کہاں گھر میں رہتے ہیں۔ پھول پتا اور چاندی کی پازیب فروخت کر کے وہ راحت کے لےے پراٹھے، کوفتے، پلاﺅ وغیرہ کا انتظام کرتی اور خود پانی سے روکھا نوالہ نگلتی۔ داماد کو گوشت اور مچھلی کھلاتیں۔

عصمت چغتائی حمیدہ کے ذریعہ ہونے والے داماد کے لےے جو گہما گہمی ہے اس کی نشاندہی اس طرح کرتی ہیں:

” ہم بھوکے رہ کر داماد کو کھلا رہے ہیں، بی آپا صبح سویرے اٹھ کر جادو کی مشین کی طرح کام پر جٹ جاتی ہے۔ نہار منہ پانی کا گھونٹ پی کر راحت کے لےے پراٹے تلتی ہےں۔ دودھ اونٹاتی ہیں تاکہ موٹی سی ملائی پڑے اس کا بس نہیں تھا کہ وہ اپنی چربی نکال کر ان پراٹھوں میں بھر دے اور کیوں نہ بھر دے آخر کو ایک دن وہ اس کا اپنا ہو جائے گا جو کچھ کمائے گا، اس کی ہتھیلی پر رکھے گا۔ پھل دینے والے پودے کو کون نہیں سینچتا ؟ “

اتنا ہی نہیں وہ راحت کے کپڑے دھوتی، بدبو دار موزے دھوتی، ناک صاف کئے ہوئے رومال بھی دھوتی گھر کو جھاڑو لگاتی۔

راحت کے بارے میں دیکھئے:

” راحت صبح سویرے انڈے پراٹھے ڈٹ کر کھاتا اور شام کو آ کر کوفتے کھا کر سو جاتا اور بی اماں کی منہ بولی بہن کھسر پھسر کرتیں۔ “

راحت کچھ بات نہیں کرتا تو بی اماں ان کی سہیلی وحیدہ کو کہتی ہے کہ وہ راحت سے بات کرے۔ وحیدہ راحت سے مذاق کرنے لگتی ہے۔ ساتھ ہی ڈرتی بھی ہے تو بی اماں کہتی ہے ”وہ تجھے کھا تھوڑے ہی جائے گا“۔ وہ نہیں چاہتی کہ راحت سے مذاق کرے لیکن اپنی بہن کی خوشی کے لیے وہ مذاق کرتی۔ بی اماں کی سہیلی کا نسخہ کام کرتا ہے اور راحت دن کا زیادہ تر وقت اب گھر پر ہی رہنے لگا۔ حد تو یہ ہوئی کہ وہ کوفتوں کو کھلی اور بھوسا کہتا۔ وحیدہ سوچنے لگتی کہ ہم اسے گرما گرم کوفتے کھلا رہے ہیں اور خود روکھا سوکھا کر رہے ہیں اور یہ اس طرح کی باتیں کرتا ہے۔ پھر وہ اپنی بہن کے لےے یہ بھی برداشت کرتی ہے۔

دل میں سوچتی ہے:

” بی آپا تو چولہے میں جھنکی رہتیں ۔ بی اماں چوتھی کے جوڑے سیا کرتیں اور راحت کی غلیظ آنکھیں تیر بن کر میرے دل میں چبھا کرتیں۔ بات بے بات چھیڑنا کھانا کھاتے وقت کبھی پانی تو کبھی نمک کے بہانے سے اور ساتھ ساتھ جملہ بازی میں کھسیا کر بی آپا کے پاس جا بیٹھتی جی چاہتا، صاف کہہ دوں کسی کی بکری اور کون ڈالے دانہ گھاس، اے بی مجھ سے تمہارا بیل نہ ناتھا جائے گا مگر بی آپا کے الجھے ہوئے بالوں پر چولہے کی اڑتی ہوئی راکھ …. نہیں!…. میرا کلیجا دھک سے رہ گیا میں نے ان کے سفید بال لٹ کے نیچے دبا دیئے۔ ناس جائے اس کمبخت تڑے کا بے چاری کے بال پکنے شروع ہو گئے“۔

بی آپا اور بی اماں وحیدہ کو بلا کر اس کی تفصیل پوچھتے کہ بتا تو سہی کہ راحت کیا کہہ رہے تھے۔ ”اور کیا کہہ رہے تھے“ اور وحیدہ جھوٹ موٹ کی باتیں بنا کر انھیں خوش کرتی کہ وہ پکوان کی تعریف کر رہے تھے۔ بی آپا اپنا سوئٹر راحت کی نذر کر دیتی ہے۔ جب وحیدہ کہتی ہے کہ وہ سوئٹر پہن لے تو کبریٰ کہتی ہے کہ ویسے بھی چولہے کے پاس جھلسن رہتی ہے۔

راحت کی حرکتیں بڑھنے لگتی ہیں اور وہ وحیدہ کا ہاتھ پکڑتا ہے جس سے چوڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں ۔ جب وہ اپنی بی اماں سے شکایت کرتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ کیا ہوا موم کی بنی ہوئی ہو ذرا ہاتھ لگایا اور پگھل گئیں۔ خیر تو بھی چوتھی میں بدلہ لیجیو کسر نکالیو کہ یاد کریں میاں جی۔

منہ بولی بہن آ کر اسے بہنوئیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے ہتھکنڈے بتانے لگتی۔ چھ مہینے تک کھانے کھلانے کے بعد بھی جب راحت شادی کی بات نہیں کرتا تو بی آپا حمیدہ کو مولوی صاحب کا دم کیا ہوا ملیدہ دیتی ہے تاکہ وہ راحت کو کھلائے۔

وحیدہ ملیدہ لے کر راحت کے پاس جاتی ہے۔ راحت سے کہتی ہے کہ یہ ملیدہ ہے۔ راحت منہ کھول دیتا ہے۔ وہ منہ میں نیاز کا ملیدہ ڈالنے کے لےے آگے بڑھتی ہے۔ راحت اسے دبوچ لیتا ہے اور وحیدہ کی عزت کو تار تار کر دیتا ہے۔

راحت کی واپسی کے بعد گھر کا نقشہ عصمت چغتائی نے وحیدہ کی زبانی اس طرح کھینچا ہے:

” صبح کی گاڑی سے راحت مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتا ہوا روانہ ہو گیا۔ اس کی شادی کی تاریخ طے ہو چکی تھی اور اسے جلدی تھی اس کے بعد اس گھر میں انڈے نہ تلے گئے، پراٹھے نہ پکے اور سوئٹر نہ بنے گئے۔ دق جو ایک عرصہ سے بی آپا کی تاک میں بھاگی بھاگی پیچھے آ رہی تھی ایک ہی جست میں انھیں دبوچ بیٹھی اور انھوں نے سر جھکا کر اپنا نامراد وجود اس کی آغوش میں سونپ دیا۔ “

بی اماں جو اپنی بیٹی کبریٰ کی شادی کا ارمان دل میں لئے چوتھی کا جوڑا تیار کرتی ہے وہ اسی لڑکی کے لےے کفن تیار کرتی ہے۔

افسانے کے آخر میں عصمت چغتائی نے اس مسئلہ میں انسانوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے لکھا ہے:

” کفن کے لٹھے کی کان نکال کر انھوں نے چوہرا تہہ کیا اور ان کے دل میں ان گنت قینچیاں چل گئیں۔ ان کے چہرے پر بھیانک سکون اور موت بھرا اطمینان تھا۔ جیسے انھیں پکا یقین ہو کہ اور جوڑوں کی طرح یہ چوتھی کا جوڑا سینتا نہ جائے گا “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عصمت چغتائی نے کئی معروف ادبی شخصیات کے خاکے لکھے، جن میں اسرارالحق مجاز، سعادت حسن منٹو، خواجہ احمد عباس، کرشن چندر، سجاد ظہیر، پطرس بخاری، میرا جی، جاں نثار اختر شامل ھیں۔

اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ ’’ دوزخی ‘‘ کے نام سے لکھا جسے منٹو نے بہت سراہا اور کہا کہ: ’’ اگر تم ایسا ہی خاکہ مجھ پر لکھنے کا وعدہ کرو تو میں آج ہی مرنے کو تیار ہوں۔‘‘

قرۃ العین حیدر اور عصمت چغتائی کی معاصرانہ چشمک سب جانتے ہیں۔ عصمت نے قرۃ العین حیدر کے بارے میں ’’ پوم پوم ڈارلنگ ‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھا، جس کا جواب قرۃ العین حیدر نے ’’ لیڈی چنگیز خان ‘‘ لکھ کر دیا۔

فلمی سفر

عصمت چغتائی نے تقریباً 14 فلموں کے لیے اسکرپٹ اور مکالمے لکھے۔ 1948ء میں عصمت چغتائی نے فلم "ضدی” لکھی تھی۔

1950ء میں انھوں نے آرزو فلم کے ڈاءیلاگ بھی لکھے اور اسکرین پلے بھی جب کہ کہانی بھی عصمت چغتائی کی ہی تھی۔

1958ء میں سونے کی چڑیا فلم کی کہانی بھی انھوں نے ہی لکھی۔

1974ء میں ایک فلم آئی تھی جس کا نام ” گرم ہوا ” تھا جو عصمت چغتائی کے ایک افسانہ کو بنیاد بنا کر بنائی گئی تھی۔ اس فلم کے ڈاءیلاگ اور اسکرین پلے کیفی اعظمی اور شمع زیدی نے تحریر کئے تھے۔

اس کے علاوہ عصمت چغتائی نے فلم جنون اور فلم محفل کے بھی ڈاءیلاگ تحریر کئے۔

عصمت چغتائی ادب کی ترقی پسند تحریک میں شامل تھیں ۔ ترقی پسند ادب کے بارے میں انھوں نے کہا:

” ایسا ادب جو انسان کی ترقی چاہے۔ انسان کی بھلائی چاہے۔ وہ ادب وہ آرٹ جو انسان کو پیچھے نہ دھکیلے۔ انسان کو دنیا کی اچھی سمت پر چلائے۔ وہ ادب جو انسان کو صحت، علم اور کلچر حاصل کرنے میں مدد دے اور جو ہر انسان کو برابر کا حق دینے پر یقین رکھتا ہو۔ انسان کی زندگی کے عروج کا قائل ہو۔ انسان کو گندگی سے نکال کر صاف و شفاف علم کی طرف پہنچا دے۔ مکمل طور پر انسان کی بھلائی چاہے۔ اس کے سوچنے کے انداز پر ایسا اثر ڈالے کہ بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھے۔ اندھیرے میں جانے کی بجائے اجالے کی طرف آئے۔ وہ ادب ترقی پسند ہے۔ جب ہم ترقی پسند ادب کہتے ہیں تو اس کی وسعت لامحدود ہے۔ قصہ، کہانی، نظم، غزل غرض کہ ہر فکر و عمل کے کارہائے نمایاں جن سے انسان کی فلاح و بہبود مقصود ہو وہی دراصل ترقی پسند ادب ہے۔ “

24 اکتوبر 1991ء کو 76 سال کی عمر میں بمبئی میں عصمت چغتائی کا انتقال ہو گیا۔
ان کی وصیت کے مطابق ان کے جسد خاکی کو نذر آتش کیا گیا ۔ یہ ان کا آخری حرف بغاوت تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button