کالم/بلاگ

ایسا ہی کچھ معاملہ گفتگو اور تقریرو خطابت کا ہے

 

 

سچ پوچھئے تو کاغذ پر سجے ہوئے خوبصورت حروف اورالفاظ کی تراش خراش بناوٹ اور سجاوٹ کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں ہوتی جب تک کوئی تحریر صفحہ سے نکل کر صفحہ دل پر نقش نہ ہو جائے۔ یہی معاملہ گفتگو اور تقریر و خطابات کا بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر بھی آپ کی اصلاح نہ سکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ چند قطروں سے ہی آپ سیراب ہو جائیں۔

آپ نے اکثر اخبارات و رسائل میں، تعلیمی اداروں کی دیواروں پر، گھروں میں، ڈائریوں میں اقوال زریں پڑھیں ہوگے۔ کچھ اقوال ایسے ہوتے ہیں جو زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ہم انہیں پڑھتے ہیں، دل سے یا زبان سے واہ کہتے ہیں، بہت ہوا تو انہیں اپنے پاس محفوظ کر لیتے ہیں موبائل پرسنل ڈائری یا نوٹ بک میں اور بس۔۔۔

ایسا ہی کچھ معاملہ گفتگو اور تقریر و خطابات کا ہے۔ کچھ لوگ اچھا بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں گفتگو کا فن آتا ہے لیکن ان کی گفتگو ’’فن‘‘ سے آگے کی منزل طے نہیں کر پاتی۔

دوسری طرف کچھ ایسی بھی باکمال لوگ ہوتے ہیں جو بغیر الفاظ خرچ کیے یا کم سے کم لفظوں میں اپنا پیغام پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسی لوگ آپ کو صوفیائے کرام، فقیروں اور درویشوں کے ہاں مل جائیں گی۔

جب ہم سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلو م ہوتا کہ آپ ﷺ کم گوئی کو پسند کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ اور صوفیائے عظامؒ نے کبھی علم کو جمانے یا تقریروں کا جادو جگانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کردار کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی اور جب لوگ ان کے کردار سے متاثر ہو کر قریب آئے تو انہیں زیورِ علم و عمل سے اس طرح آراستہ کیاکہ پھر ان کے ذریعہ سے ہزاروں اور لاکھوں افراد علم و عمل کی دولت سے سیراب ہوئے۔

ہمارا معاملہ بہت مختلف ہو چکا ہے۔ ہمارے چاروں طرف علم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود ہے لیکن ہم محرومی کا شکار ہیں۔ ہمارے چاروں طرف کتابیں ہیں، رسائل ہیں، انٹرنیٹ ہے، سوشل میڈیا ہے۔

صبح اٹھتے ہی ہمارا موبائل اقوال زریں سے بھرا ملتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود کہیں کوئی خلا سا محسوس ہوتا ہے۔ وہ خلا کیا ہے؟ ہمارے پاس پریکٹکل(Practical)نمونہ نہیں ہے۔ ہم جو پڑھتے ہیں، سنتے ہیں ،وہ دیکھ نہیں پاتے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ہم اندرونی طور پر انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کتابوں اور رسالوں میں پڑھ کر، سوشل میڈیا وغیرہ پر دیکھ کر شخصیت کے جو خدو خال ہم اپنے ذہن میں تیار کرتے ہیں ، وہ ہمیشہ قائم نہیں رکھ پاتے۔

جس شخصیت سے ہم غائبانہ طور پر متاثر ہوتے ہیں ،ملاقات اور معاملات کے بعد عقیدت و احترام کو وہ بت ٹوٹ کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔اس کے بعد جب اُس شخصیت کے الفاظ تحریر یا تقریر کی صورت میں ہماری بصارتوں یا سماعتوں سے ٹکراتے ہیں تو اپنی تاثیر کھو بیٹھتے ہیں۔نگاہوں سے بھیجا ہوا پیغام سیدھے دل تک پہنچتا ہے۔اس کے لیے پاکیزہ جذبۂ عشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ خدا سے عشق۔بندۂ خدا سے عشق۔جس کو یہ دولت مل گئی سمجھئے اسے ’’دولتِ تاثیر‘‘ مل گئی۔اسے اپنی بات منوانے کے لیے تراشے ہوئے الفاظ اور دلائل کی ضرورت نہیں ہوتی کہا جاتا ہے کہ مولانا رومؒ کسی مجمع سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک شخص نے اعتراض کر دیا کہ مولانا آپ اپنے پسند کے موضوع کا انتخاب کرتے ہیں اور ہفتوں ، مہینوں کی تیاری کے بعد اس موضوع پر تقریر فرماتے ہیں۔ یہ تو کوئی کمال کی بات نہیں ہے۔ ایسے تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔

مولانا رومؒ نے پہلے تو عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کب اپنے کمالات کا دعویٰ کیا؟ لیکن وہ شخص بضد ہو گیا کہ آج آپ میرے دئیے ہوئے موضوع پر خطاب فرمائیں گے۔ پھر اُس شخص نے اپنی طرف سے مجمع میں اعلان کر دیا کہ آج مولانا سورۂ والضحیٰ کی تفسیر بیان فرمائیں گے۔ اسے یہ گمان تھا کہ آج مولانا بے عزت ہو جائیں گے لیکن مولانا کے چہرے پر کوئی حرفِ شکایت نہ آیا۔ وہ تھوڑی دیر تک مسکراتے رہے۔ پھر جب انہوں نے والضحیٰ کی تفسیر بیان کرنے کی شروع کی تو صرف والضحیٰ کے پہلے حرف ’’واؤ‘‘ پر مسلسل چھ گھنٹہ بولتے رہے یہاں تک کہ وہی شخص جو آپ کو بے عزت کرنا چاہتا تھا آپ کے قدموں میں گڑ پڑا اور کہنے لگا کہ واﷲ آپ عظیم ہیں۔میں نے آپ کے حسد میں ایسی حرکت کی۔ مجھے معاف فرما دیجیے۔

بہت ممکن ہے کہ بہت سارے معاملات میں ہمیں تحریر و تقریر کا سہارا ہی نہ لینا پڑے، ہمارا کردار، ہمارے الفاظ بن جائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button