اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

 برصغیر کے معروف کہانی کار، کالم نویس، ڈرامہ نگار، نقاد، ادیب اور ترقی پسند شاعر ظہیر کاشمیری کا جنم دن

 

لاہور(ویوز نیوز)آج برصغیر کے معروف کہانی کار، کالم نویس، ڈرامہ نگار، نقاد، ادیب اور ترقی پسند شاعر ظہیر کاشمیری کا جنم دن ہے

+ آج 21 اگست برصغیر کے معروف کہانی کار، کالم نویس، ڈرامہ نگار، نقاد، ادیب اور ترقی پسند شاعر ظہیر کاشمیری کا جنم دن ہے، ظہیر کاشمیری کا اصل نام پیرزادہ دستگیر ظہیر تھا، 21 اگست 1919 کو امرتسر انڈیا میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام میاں شاہ دین تھا، میٹرک تک ایم اے او ھائی سکول امرتسر سے تعلیم حاصل کی، پھر ایم اے او کالج امرتسر سے بی اے کا امتحان پاس کیا، خالصہ کالج امرتسر میں ایم اے انگریزی میں داخلہ لیا لیکن اسے مکمل نہ کر سکے۔

ظہیر کاشمیری زمانہ طالب علمی میں سیاست میں بھر پور حصہ لیتے رہے، پنجاب سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ علمی مباحثوں اور ادبی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے اور متعدد انعامات حاصل کئے، عملی صحافت کا آغاز روزنامہ "مساوات” سے کیا، کالم نگار کی حیثیت سے روزنامہ "احسان”، "حالات”، "نوائے وقت” اور "پکار” میں لکھتے رہے۔

ظہیر کاشمیری قیام پاکستان سے قبل فلمی صنعت کے ساتھ وابستہ ہونے کے لیے لاہور آ گئے، انہوں نے کئی فلموں کی کہانیاں لکھیں اور ہدایت کاری بھی کی مگر ان کا اصل میدان ادب اور مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد تھا اور طبقاتی ناانصافیوں کے خلاف برسرپیکار رہے، آپ ترقی پسند شاعر تھے، اس لئے ادب برائے زندگی پر یقین رکھتے تھے اور ہمیشہ اپنے قلم کو انسانی حقوق اور پسے ہوئے طبقات کے لیے استعمال کیا۔

ظہیر کاشمیری 12 دسمبر 1994ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کے نظریات آج بھی پسے ہوئے طبقات کے لیے ان کے اس شعر کی طرح ہیں ۔
ہمیں خبرہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

[کتابیات]

رقصِ جنوں
اُوراقِ مصور
حرف سپاس ۔ملی نظمیں
چراغ آخری شب ۔شاعری
جہان آگہی ۔ شاعری
آدمی نامہ ۔شاعری
ادب کے مادی نظریے ۔ لاہور، کلاسیک، 1975ء (تنقید)
عظمت ِ آدم (1955ء)
تغزل (1963ء)
عشق و انقلاب ۔ کلیات

[منتخب کلام]

لوحِ مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا
ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا
بدنام ہو کے عشق میں ہم سرخرو ہوئے
اچھا ہوا کہ نام گیا ننگ رہ گیا
ہوتی نہ ہم کو سایہء دیوار کی تلاش
لیکن محیطِ زیست بہت تنگ رہ گیا
سیرت نہ ہو تو عارض و رخسار سب غلط
خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا
اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے
جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا
کتنے ہی انقلاب شکن در شکن ملے
آج اپنی شکل دیکھ کے میں دنگ رہ گیا
تخیّل کی حدوں کا تعیّن نہ کر سکا
لیکن محیطِ زیست بہت تنگ رہ گیا
کل کائنات فکر سے آزاد ہو گئی
انسان مثلِ دست تہِ سنگ رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

َََََََََیہ کاروبارِ چمن اس نے جب سنبھالا ہے
فضا میں لالہ و گُل کا لہو اچھالا ہے
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے
ہجومِ گُل میں چہکتے ہوئے سمن پوشو!
زمینِ صحنِ چمن آج بھی جوالا ہے
ہمارے عشق سے دردِ جہاں عبارت ہے
ہمارا عشق، ہوس سے بلند و بالا ہے
سنا ہے آج کے دن زندگی شہید ہوئی
اسی خوشی میں تو ہر سمت دیپ مالا ہے
ظہیر ہم کو یہ عہدِ بہار، راس نہیں
ہر ایک پھول کے سینے پہ ایک چھالا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موسم بدلا، رُت گدرائی اہلِ جنوں بے باک ہوئے
فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے
گُل بوٹوں کے رنگ اور نقشے، اب تو یونہی مٹ جائیں گے
ہم کہ فروغِ صبحِ چمن تھے، پابندِ فتراک ہوئے
مہرِ تغیّر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا!
صدیوں کے افتادہ ذرّے، ہم دوشِ افلاک ہوئے
دل کے غم نے دردِ جہاں سے مل کے بڑا بے چین کیا
پہلے پلکیں پُرنم تھیں، اب عارض بھی نمناک ہوئے
کتنے الہڑ سپنے تھے جو دورِ سحر میں ٹوٹ گئے
کتنے ہنس مُکھ چہرے ، فصل بہاراں میں غمناک ہوئے
برقِ زمانہ دور تھی لیکن مشعلِ خانہ دور نہ تھی
ہم تو ظہیر اپنے ہی گھر کی آگ میں جل کر خاک ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہدہ
کسی سنولائی ہوئی شام کی تنہائی میں
دو سرکتے ہوئے سایوں میں ہوئی سرگوشی
بات چھوٹی تھی — مگر پھیل کے افسانہ بنی
میں نے اکثر یہی سوچا — ترا خوش رنگ بدن
نقرۂ ناب کا ترشا ہوا ٹکڑا ہو گا
دودھیا ۔۔۔۔۔ سرد ۔۔۔۔ حرارت سے تہی
جس پہ طاری ہو خود اپنے ہی تصور کا جمود
کوئی اعجازِ پرستش جسے چونکا نہ سکے
تو مگر پھول کی پتی سے سبک تر نکلی
اوس کے لمس سے جو آپ ہی جھک جاتی ہو
اک ہلورہ بھی جسے ٹھیس لگا سکتا ہو
تو مگر خوابِ محبت تھی فرشتوں نے جسے
بیٹھ کر چاند ستاروں میں بنا صدیوں تک
اپنے بلور کے ایوان سجانے کےلئے!
دمِ گفتار ۔۔۔ تیرے ہونٹوں سے رستی ہوئی بات
جیسے گیتوں کے بہاؤ میں مخاطب کو لئے
چھوڑ آئے کسی رومان بھری وادی میں
تیری شب تاب جوانی کی ضیا نے اکثر
ہالۂ نور مرے گرد کیا ہے تعمیر
اور میں حجلۂ تنویر میں پہروں بیٹھا
تیرے مانوس تنفس کی صدا سنتا رہا
ابھی کچھ اور بھی راتیں ہیں پسِ پردۂ غیب
ابھی کچھ اور بھی نغمے ہیں پسِ پردۂ ساز
کئی راتوں کئی نغموں سے گزرنا ہو گا
دیکھ ! وہ چاند کی چوٹی کا چمکتا مینار
اسی مینار میں دونوں کو پہنچنا ہوگا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button