کالم/بلاگ

سرفرا زاحمد اور بارہواں کھلاڑی

شہبازعلی
hafee23@gmail.com

پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان مانچسٹر میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ جاری ہے اور اب قومی ٹیم اس ٹیسٹ میچ پر مجموعی طور پر عمدہ کھیل پیش کررہی ہے،میچ میں اب تک پاکستان ٹیم کے لئے بہت سی اچھی چیزیں سامنے آئی ہیں،مگر میچ کے دوسرے روز اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد اوپنر شان مسعود کے جوتے لے کر میدان میں آئے اور پھر اس کے بعد سرفراز کئی مرتبہ پانی پلانے کے لئے میدان میں آتے رہے،سرفراز احمد کے بارہویں کھلاڑی کے طور پر میدان میں آنے کی دیر ہی تھی کہ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر ایک بحث چھڑ گئی اور پھر کچھ ٹی وی چینلزنے اس کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سرفراز احمد کی تضحیک کی جارہی ہے اور یہ بحث اس وقت تک جاری و ساری ہے،اس معاملے میں جہاں تک تو سوشل میڈیا کی بات تو ایک بات طے ہے کہ سوشل میڈیا ایک اوپن فورم ہے اور یہاں ہر کسی کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی ہے،مگر ٹی وی چینلز یا اخبارات میں اس معاملے کو ایشوبناکر پیش کرنا حیران کن بھی ہے اور جو لوگ اس معاملے کو ایشو بنارہے ہیں ان کی لاعلمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
اس معاملے پر کچھ لوگوں کے خیالات دیکھ کریوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سرفراز احمد کرکٹ کی مقدس گائے ہے اور میچ کے دوران ساتھی کھلاڑیوں کے لئے پانی لے کرآنااس کی شان میں گستاخی ہے،لوگوں اس معاملے پر کیا سوچ رہے ہیں کیا کہ رہے اس معاملے کو چھوڑ کر تھوڑا آگے بڑھتے ہیں دیکھتے ہیں کہ کرکٹ میں 12ویں یا پھر ریزرو کھلاڑی کا کردار کیا ہوتا ہے اور ایک پروفیشنل کھلاڑی بطور 12واں یا ریزرو کھلاڑی کس قسم کی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔اس معاملے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ جب کوئی ٹیم کسی ٹورپر جاتی ہے تو اس کے تمام کھلاڑی ایک فیملی کی طرح ہوتے ہیں اور کھلاڑی ایک دوسرے کو مکمل سپورٹ کررہے ہوتے ہیں۔یہاں ایک بات واضح کرتے چلیں کہ اگر پاکستان کرکٹ کا بغور جائزہ لیا جائے تو پاکستان کرکٹ میں ہر کھلاڑی کسی نہ کسی سطح پر پچز پر جھاڑو اور گراؤنڈز میں پانی لگاتے رہے ہیں،اب یہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سابق کپتان یا پھر ماضی میں اپنی ٹیم کے لئے اہمیت رکھنے والے کھلاڑی نے 12ویں کھلاڑی کی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔تو یہاں ہم دنیائے کرکٹ کے کچھ بڑے ستاروں کے حوالے سے اہم حقائق بیان کرتے ہیں۔دنیائے میں لیگ اسپن باولنگ کو نئی جہت بخشنے والے کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین لیگ اسپنر عبدالقادر بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی دھرمپورہ بارہ دری کرکٹ گراؤنڈ میں طویل عرصے تک اپنی کلب دھرمپورہ جم خانہ کرکٹ کلب کے نیٹ پر اپنے ہاتھوں سے پانی لگاتے اور نوجوانوں کے کھیلنے کے لئے پچ پر جھاڑو تک لگاتے تھے جب ان سے کہا جاتا کہ ”باؤ جی“ آپ ایسا نہ کریں تو وہ کہتے کہ ایسا کرنا میری ذمہ داری ہے اور مجھے ایسا کرکے سکون ملتا ہے۔90کی دہائی کے اواخر میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم جب لنکا شائر کاؤنٹی کی نمائندگی کرتے تھے توایک میچ میں وسیم اکرم ٹیم میں شامل نہیں تھے اس میچ میں وسیم بھائی نوجوان اینڈریوفلنٹوف اور دیگر کھلاڑیوں کو پانی پلاتے رہے اس طرح وسیم اکرم اور دیگر بڑے کھلاڑی کاونٹی کرکٹ میں یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں،قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف جب قومی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے جنوبی افریقا گئے اور وہ فٹنس مسائل کے باعث پہلا ٹیسٹ میچ نہیں کھیل سکے تو اس میچ کے دوران راشد بھائی 12ویں کھلاڑی کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے،پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان اور قومی ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق بھی ٹیم کا کپتان ہوتے ہوئے 12ویں کھلاڑی کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں،سابق کپتان سلیم ملک،وقار یونس،سعید انور،رمیز راجہ،انضمام الحق یہ پاکستان کرکٹ کے وہ نام ہیں اگر بطور کھلاڑی دیکھا جائے تو سرفراز احمد ان کے عشر عشیر بھی نہیں ہیں یہ تمام کھلاڑی اپنے کیرئیر کے دوران ان گنت مرتبہ 12ویں کھلاڑی کی ذمہ داری نبھاچکے ہیں۔پاکستان کے بعد اگر ہم بین الاقوامی کرکٹ کی بات کریں تو اس وقت دنیا کے نمبر ون بلے باز ویرات کوہلی دورہ آسٹریلیا میں جس وقت 12ویں کھلاڑی بنے اُس وقت وہ بین الاقوامی کرکٹ میں دس ہزار سے زائد رنز بناچکے تھے،اسی طرح 2003ورلڈ کپ کے فاتح کپتان رکی پونٹنگ بھی آسٹریلوی ٹیم کے کپتان ہوتے ہوئے یہ ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔اس طرح کی ان گنت مثالیں بین الاقوامی کرکٹ میں موجود ہیں،ہم نے جو نام اوپر بیان کئے ہیں ان میں تمام کے تمام کھلاڑیوں نے 12ویں یا پھر ریزرو کھلاڑی کی ذمہ داریاں اُس وقت نبھائیں جب وہ اپنی ٹیم کے کپتان تھے یا پھر اہم ترین کھلاڑیوں میں شامل تھے۔
سٹار کھلاڑیوں کی مثال کے بعد اب سرفراز احمد کی بات ہوجائے،اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سرفراز احمد نے پاکستان کرکٹ کے لئے بہت سے کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں ان کی قیادت میں پاکستان نے انڈر 19ورلڈکپ جیتا،چیمپئنزٹرافی اپنے نام کی ان کی قیادت میں قومی ٹیم ٹی ٹونٹی کی نمبر ون ٹیم بنی ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں پرفارمنسز سے بھی کسی کو انکار نہیں ہے مگر اس وقت سرفراز احمد اپنے کیئرئیر کے مشکل ترین دور سے گذر رہے ہیں ان کی فرسٹ کلاس کر کٹ میں کارکردگی کچھ خاص نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ حالیہ پی ایس ایل میں بھی سرفراز احمد کوئی بہت بڑی کارکردگی نہیں دکھا سکے بلکہ یوں کہئے کہ گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران سرفراز احمد کوئی بہت کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کی بنیاد پر وہ ٹیم میں شامل ہو سکیں،اگرحالیہ دورہ انگلینڈ کی بات کی جائے تو یہاں بھی سرفراز احمد صرف اس لئے ٹیم میں شامل ہیں کہ ان کو پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کیا گیا ہے اوراسی کنٹریکٹ کی بنیادپر وہ ٹیم کے ہمراہ انگلینڈ گئے ہیں۔اب اگر مانچسٹر ٹیسٹ میں سرفراز احمد کی بات کی جائے تو وہ 12ویں کھلاڑی کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انتہائی خوش دکھائی دے رہے ہیں بلکہ ان کی مسکراہٹ اور آنیاں جانیاں بتارہی ہیں کہ سرفرا ز اس ڈیوٹی کو خوب انجوائے کررہے ہیں مگر نہ جانے سرفرا ز احمد کے کچھ چاہنے والے اس معاملے پر نہ جانے کیوں شور مچارہے ہیں،سرفراز کے چاہنے والوں کی سوچنا چاہئے کہ بھائی ایک ایسا کھلاڑی جس کی اس وقت ٹیم میں جگہ نہیں بنتی اس کو اگر کسی بھی وجہ سے ٹیم میں شامل کرکے دورہ انگلینڈ پر موقع دے دیا گیا ہے تواس کے راستے میں کانٹے مت بکھیریں اور یاد رکھیں کہ بطور 12واں کھلاڑی سرفراز احمد جو کام کررہے ہیں یہ کرکٹ کا حصہ ہے اور دنیا کا ہر کھلاڑی یہ سب کرچکا ہے،بظاہر یوں لگتا ہے کہ جو لوگ سرفراز احمد کے بارہواں کھلاڑی بننے پر شور مچارہے ہیں ان کو قومی ٹیم کی پہلے ٹیسٹ میچ میں عمدہ کارکردگی سے مسئلہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button