پاکستانکالم/بلاگ

سگیاں پل سے سانجھا پیر جلو بارڈر تک

سفر نامہ ۔۔ سفر لاہور۔
صبا ممتاز بانو

آنکھ کھلتے ہی چمک دار سورج نے مجھے سلامی دی ۔دن کی روشنی میں ہریالی کا تروتازہ نظارہ دعوت شباب دے رہا تھا۔میرے گھر سے نظر آنے والے تاحد نگاہ درخت اور سبزے کی شادابی نے میرا دل مو ہ لیا۔ ۔کیسا تابناک دن تھا۔یہ شگون تو اچھا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ سفر کے پروں پر سوار ہو کر زندگی کے سب رنگ دیکھنے کو ملیں گے ۔سگیاں سے اندرون لاہور اور وہاں سے سانجھا پیر تک کا سفر ہم نے رات کو ہی پلان کیا تھا ۔
لہذاجھلمل جھلمل سی صبح کو یہ سفر سگیاں پل سے شروع ہوا۔گھر سے نکلنے سے قبل ہم نے چائے کا ایک کپ لیا، اگر نہ پیتے تو سر درد سے ہلکان ہو جاتے ۔ کہیں پر پڑھا تھا کہ نشہ کوئی بھی ہو، چائے یا کوئی سافٹ ڈرنک، عادت پڑ جائے تو جان نہیں چھوڑتا۔ اپنا آپ بیچنا بھی پڑ جائے تو ہم وہ نشہ ضرور کریں گے ۔اب سمجھ آتا ہے کہ یہ نشئی گھر کے برتن تک کیوں بیچ دیتے ہیں۔؟،شکر ہے میرے خدایا ، ہم نے یہ سستا سا نشہ خود کو لگا یا ہے ۔ جب تک ہم چائے اپنے حلق میں نہ انڈیل لیں ، ہمارا تومعدہ بھی بددعائیں دیتا رہتا ہے ۔
’’ ارے کم بختو، چائے تو پلادو، ورنہ سارا دن ایک ٹانگ پر کھڑا رہو گے تو بھی سردرد نہیں جائے گا۔ـ‘‘
ہماری قوم چائے کی عادی ہو چکی ہے ۔ حکومت کو چائے کی فراہمی کو ہمیشہ یقینی بنا کر رکھنا ہوگا ورنہ کوئی بعید نہیں کہ سب ملک بیچنے کو چل پڑیں۔ہم نشئی قوم ہیں۔نشہ بھی ایسا کہ جس کا کو ئی وقت مقرر نہیں۔ سارادن چلتا ہے ۔ رات کو آنکھ کھلے تو بھی چائے لشکارے مارتی ہے ۔
ایک وقت تھا کہ لاہوریوںکو چائے کی عادت ہی نہیں تھی ۔یہاں تو پھجے کے پائے ، حلوہ پوڑی ، نان چنے اور لسی پیڑوں سمیت چلتی تھی ۔ بس پھر لاہور پر ادھر ادھر کے لوگوں کی اتنی یلغار ہوئی کہ یہ غم چائے سے مٹانا پڑا۔
اب ہم نے سب کچھ قبول کر لیا ہے ، یہ بڑھتی ہوئی آبادی، یہ غلاظت، یہ تعفن ، یہ آب و ہوااور یہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے لوگ۔اس عمل فراموشی یا درگزر میں سب سے اہم کردار چائے نے ہی ادا کیا ہے۔ ۔چائے چیز ہی ایسی ہے سب غم بھلا دیتی ہے۔خیر بات ہو رہی تھی سفر کی تو ہم نے کار کی بجائے موٹر سائیکل پر جانے کو ترجیح دی ۔اندرون شہر میں موٹر سائیکل کی سواری ہی بہترین ہے کیونکہ
تنگ گلیاں ، گلیوں میںکھیلتے کودتے بچے ، آتی جاتی عورتیں، گھومتے گھماتے مردہی نہیں ،بہت سے کام بھی چل رہے ہیں ۔کھانے پینے کی دکانیں بہت زیادہ ہیں۔ کپڑا، جوتا اور آرائشی اشیا الگ سے گاہکوں کو لبھاتی ہیں۔
ہم خراماں خراماں دہلی گیٹ پہنچے ۔ لاہور کے بارہ دروازوں میں سے یہ ایک دروازہ ہے ۔تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ مغل دور میں قدیم شہر نو میٹر اونچی اینٹوںکی دیواروںمیں مقید تھا۔اس مضبوط دیوار میں تیرہ داخلی دروازے اپنی چھب دکھاتے تھے اور سر کلر روڈ پر کھلتے تھے ۔یہ تیرہ دروازے دہلی دروازہ، روشنائی دروازہ ، اکبری دروازہ ، یکی دروازہ ، بھاٹی دروازہ ، شیراں والا دروازہ ، لوہاری دروازہ ، کشمیری دروازہ ، موری دروازہ ، مستی دروازہ، شاہ عالم دروازہ، ٹیکسالی دروازہ اور موچی دروازہ شامل ہیں۔ہم فاتحانہ شان سے دہلی گیٹ کے اندر داخل ہوئے۔ دہلی گیٹ کے باہر بھی دکانوںکا ہجوم تھا۔ اکبری منڈی لاہور کی سب سے بڑی غلہ منڈی ہے ۔ اس کے اردگرد پٹھانوں نے دنیا آباد کرلی ہے ۔ میں جب کبھی لاہور کی مشہور مارکیٹوں مثلا رنگ محل ، انار کلی ، ہال روڈ، موچی دروازہ ، پر نگاہ ڈالتی ہوں ، مجھے پنجاب پٹھانوں کی آماہ جگاہ لگنے لگتا ہے ۔ جس رفتار سے پٹھانوں نے لاہور کو اپنا مسکن بنالیا ہے ، لگتا ہے کہ ایک دن پنجاب پنجابیوںکے ہاتھ سے نکل جائے گا، تب ہم اسے کہنا پڑے گا ’’ پٹھانوں کا پنجاب ‘ ‘ ۔ بھئی یہ بات تو ماننا ہی پڑے گی کہ پٹھان افغانستان اور سرحدی علاقوں سے چلے اور پنجاب کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔آج پٹھان پنجاب کے کاروباری لوگ ہیںکیونکہ وہ محنتی اور جفاکش ہیں۔ جبکہ یہ لاہورئیے نکمے اور کاہل ہوتے جارہے ہیں۔
پنجابیوں کی اس نئی نسل کو اپنے آباو اجداد کی روش کو اپنانا ہوگا ورنہ ہم جہاں بھی نگاہ اٹھائیں گے ۔ یہ پٹھان ہی ہمیں اپنے جھنڈے لہلاتے ہوئے نظر آئیں گے اور ہم پنجابی انکا پانی بھرتے ہوئے ملیں گے ۔جب بھی کوئی قوم کاہل ہوئی تو مالکوںکا پانی بھرنا ہی اس کا شیوہ ٹھہرا ۔ علاقے کے لوگوں کو اپنے تشخص کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور اپنی شناخت پر کوئی سمجھوتہ نہیںکرنا چاہیے ۔اکبری منڈی میں کوڑے کے ڈھیر لگے تھے ۔اتوار کا دن تھا مگر بیشتر دکانیں کھلی تھیں جومیرے لیے حیرت کا باعث تھا۔شاید اس سے قبل کبھی اتوار کو ادھر آئی نہیں تھی ۔ میں عام دنوںمیں آتی تھی اور اس قدر ہجوم اور بھیڑ ہوتی تھی کہ ، اجی نہ پوچھئے ۔ گزرنا تو دور اپنی جان بچانا مشکل ہوتا ہے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اکبری منڈی جیسے قدیمی بازاروںکو اب شہر سے باہر منتقل کیوںنہیں کیا جاتا ۔ اس کے لیے شاہدرہ جی ٹی روڈ ایک بہترین جگہ ہے ۔اکبری منڈی اور اردو بازار کی وجہ سے شام میں لوہاری میں اکثر ٹریفک جام رہتی ہے ۔اکبری منڈی کے لیے شاہدرہ جی ٹی روڈ اور اردو بازار کی منتقلی کے لیے سگیاں ایک بہترین علاقہ ہے ۔ کم ازکم گودام ہی منتقل کر دئیے جائیں تو لاہور شہرکے مرکزی چوک داتا صاحب اور بھاٹی لوہاری میں کچھ سکون ہو جائے ۔
آج اتوار کی وجہ سے پھر بھی کچھ سکون تھا۔اکبری منڈی کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ انسانوں کے بیچ گھوڑے ، گدھے اور خچر بھی کئی کئی گھنٹے پھنسے رہتے ہیں۔انسان اپنا راستہ تلاش کرتے کرتے کئی بار ان جانوروں سے بغل گیر ہوتے ہیں ۔ کمال کی بات یہ ہے کہ نہ جانوروںکو اعتراض ہوتا ہے اور نہ انسانوںکو۔
اکبری منڈی کو لاہور کی ہول سیل مال کی سستی مارکیٹ کہا جاتا ہے لیکن اب یہ صرف ایک خا م خیالی ہے کیونکہ اگر تو آپ نے چیزیں من کے حساب سے لینی ہے تو پھر تو ٹھیک ہے ورنہ یہ ایک خجل خرابی ہے ۔اتناکرایہ خرچ کرکے آنے سے بہتر ہے کہ اپنے محلے کی دکانوں سے سودا لے لیں۔ وہ دعا بھی دیں گے اور آپ کو تھکن بھی نہیں ہوگی ۔ہمسائیوں کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ نزدیک کو چھوڑ کر دور مت جائیں۔اسی لیے تو کئی لوگ معاشقے بھی قرب و جوار میں ہی کرتے ہیں ۔سفر کا کرایہ بھی بچتا ہے ۔ خجل خواری بھی نہیں ہوتی اور پھر جب چاہا ، در یار پر جاپہنچے۔محبوب کا دیدار کرنے کے لیے کرایہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑتا ۔ وہی پیسے بچائے اور محبوب کو آئس کریم یا قلفی کھلادی ۔ شاہ عالمی کے بابا جی کی قلفی بھی بہت مشہور ہے ۔ ہم جب بھی وہاں سے گزرتے ہیں۔ اس قلفی سے منہ میٹھا ضرور کرتے ہیں۔
اکبری منڈی کے قرب و جوار سے ہم مسجد وزیر خان تک جاپہنچے ۔ مسجد وزیر خان چونکہ پہلے بھی دیکھ چکے تھے ، اس لیے صرف ان خوب رو لڑکیوںکو دیکھنے پر اکتفا کیا جو کہ مسجد کے اندر اور باہر رنگین پوشاکوں میں پرستان کی پریاں لگ رہی تھیں۔کچھ بانکے سجیلے نوجوان بھی یہاںموجود تھے ۔پتا نہیں کہ وہ مسجد دیکھنے آئے تھے یا لڑکیاں۔ہم نے جائزہ لینے کی کوشش کی تو وہ بے نیاز سے لگے ۔ مسجد کے باہر دکانیں کھلی تھیں ۔اچھا خاصا رش تھا مگر کسی کو کسی کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کی فرصت تھی ، نہ دلچسپی ۔ چلو شکر ہے کہ اس ملک میں بھی اب لڑکیاں پرہجوم مقامات پر بھی اپنی مرضی سے گھوم پھر سکتی ہیں۔
اگلا پڑائوکشمیری بازار کی سنہری مسجد تھا۔میں نے اکثر رنگ محل کی خریداری کے دوران اس مسجد کودیکھا تھا لیکن کمال ہے کہ کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ سنہری مسجد ہے ۔ ہم کتنے بے خبر لوگ ہیں ۔ کتنی اہم چیزوںکی قدر کو سمجھ ہی نہیں پاتے کیونکہ غم زندگی نے ہمیں اتنا الجھا دیا ہے کہ ہم کسی تاریخی عمارت کے پاس سے بھی سرسری سا گزر جاتے ہیںلیکن آج میں اس کے اند رگئی ۔ اس کو بہت قریب سے دیکھا ۔یہ تو میرے دل میں دھڑکنے لگی ۔اتنازبردست نفیس کام ، مسجد کے اوپر لگے ہوئے تین سنہری گنبد، جی دوستو۔اسی لیے اسے سنہری مسجد کہتے ہیں۔ بڑے چھوٹے یہ گنبد چمک رہے تھے ۔ ہم نے امام مسجد کو تلاش کیا۔ ان سے اجازت لی اور اندر چلے گئے ۔ مسجد میں دونوافل ادا کیے ۔اللہ کا شکر ادا کیا۔ وہ کتنا مہربان ہے کہ اس نے اس تاریخی مسجد کو دیکھنے اور نوافل کی ادائیگی کا موقع دیا۔ ہم کتنے اہم مواقع اپنے ہاتھ سے اس لیے گنوا دیتے ہیں کہ ہم اپنے قریب کی چیزوںکو اہمیت کے سب سے نچلے خانے میں رکھتے ہیں۔اس طرح ہم ان کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ یہ وہ بھول چوک ہے جس کے لیے فطرت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
ہم نے تصاویر بھی بنائیں۔ پھر مسجد کے اند رپانی کے تالاب میں ہاتھ ڈال کر بیٹھے رہے ۔پانی کا رنگ سبز ی مائل تھا۔سنہری مسجد کا شمار دنیاکی خوب صورت مساجد میں ہوتا ہے ۔یہ زمین سے تقریباً گیارہ یا بارہ فٹ اونچی جگہ پر واقع ہے ۔ اس کے ارددگرد دکانیں ہیں۔ اس میں داخلے کے لیے مشرق کی سمت سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔اس مسجد کو طلائی مسجد بھی کہتے ہیں۔ اس مسجد کو ۱۷۵۳ میں نواب بھکاری خان نے بادشاہ محمد شاہ کے دور حکومت میں تعمیر کیا ۔ نواب بھکاری خان لاہور کے اس وقت کے گورنر روشن الدولہ کا بیٹا تھا۔ جو کہ بہت متقی اور پرہیز گاری تھا ۔ لاہور کے اس گورنر روشن الدولہ کو میر معین ملک یا میر منو بھی کہتے ہیں۔اس مسجد کے نماز پڑھنے والے کمرے میں درج ہے کہ یہ مسجد ۱۱۶۳ھ بمطابق ۱۷۵۳ء میں تعمیر کی گئی ۔ یہ مسجد ایک بارونق علاقے میں واقع ہے ۔ اردگرد بازار ہے جہاں دنیا جہاں کی چیزیں دستیاب ہیں۔ رنگ محل ، شاہ عالمی ، کشمیری بازار ، اعظم مارکیٹ وغیرہ سب اس کے گرد ونواح میں واقع ہیں۔
یہ مسجد اپنی ساخت میں چھوٹی لیکن طرز تعمیر میں ایک شاہکار ہے ۔ تین محرابی دروازوں پر تین گنبد بنے ہوئے ہیں۔ ان میں وسطی گنبد بڑا ہے جبکہ دوسرے دو قدرے چھوٹے ہیں جن پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے ۔ بلند چبوترے پر ایستادہ یہ مسجد بڑی ترتیب سے تیار کی گئی ہے ۔اس کے گنبد اندر اور باہر دونوں طرف سے منقش ہیں اور ان کے کلس بھی منقش ہیں۔ اس مسجد کی بے شمار چھوٹی چھوٹی برجیاں بھی ہیں جن پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے ۔
اس مسجد میں ایک کنواںبھی مو جود ہے ۔ اس کے صحن کے اندر ایک دروازہ ہے اور صحن کی پیمائش ۲۵ فٹ ضرب ۲۷ فٹ ہے ۔ جس کے سامنے نماز پڑھنے والا کمرہ یا ہال ہے جس کی پیمائش ۴۰ فٹ ضرب ۱۶ فٹ ہے ۔اس نماز پڑھنے والے کمرے کے مشرقی ماتھے پر گوشوںپر مینار ہیں جن پر چونے کی قلعی کی گئی ہے ۔ یہ دیواریں نقاشی ، و نقش نگار کا ایک حسین و دلکش نمونہ ہیں۔ نماز پڑھنے والے ہال کو تین حصوںمیں تقسیم کیا گیا ہے ۔ اس مسجد میں جہاں جہاں لکڑی لگی ہے ۔ وہاں پر تانبے کے پترے لگے ہوئے ہیں۔ اس مسجد کا ڈھکا ہوا راستہ جنوب کی سمت واقع ہے ۔ پتھر کے زینے صحن کی طرف جاتے ہیں۔ جو تعداد میں ۱۶ کے قریب ہیں۔ اس مسجد کی اصل خوب صورتی اس کے وسط میں واقع تالاب اور اس پر چڑھے ہوئے طلائی ملمع کی وجہ سے ہے ۔
۔مسجد کے چاروں طرف ۵۲ میٹر بلند چار میناروں سے پرانے زمانے میں جنگ کے زمانے میںدیدہ بانی کا کام لیا جاتا تھا۔ان میناروں کا یہ استعمال مجھے پہلی بار جاننے کو ملا۔ اس مسجد کی اندرونی دیواروںاور چھت پر خوب صورت پھول بوٹے اور پودے کندہ کیے گئے ہیں ۔ مسجد کے اندر داخل ہوتے ہی ایسا لگتا ہے کہ ہم مغلیہ دور کے وہ باشندے ہیں جنہوںنے اس مسجدکو دیکھا اور پھر دیکھتے رہہ گئے ۔
جب سکھوںکا عہد آیا تو یہاں پر اکالیوںنے قبضہ کر لیا ۔ انہوںنے اس کے فرش پر گائے کے گوبر سے لیپ کر کے اس میں گرنتھ رکھ دی ۔ اس دور میں یہاں دو فقیر بہت مشہور تھے اور ان کی رسائی سکھوں کے دربار تک تھی ۔ ایک کا نام فقیر عزیز الدین اور دوسرے کا نام نو ر الدین تھا ۔ان دونوں فقیروںنے رنجیت سنگھ سے یہ کہہ کر مسجد واگزار کرائی کہ اس میں اذاں بلند آواز میں نہیں دی جائے گی اور مسجد سے ملحقہ دکانوںکی آمدنی دربار میں جمع کرائی جائے گی ۔
اس مسجد کے ساتھ سکھ دور میں ہونے والے اس المیے کو آج بھی دکھ سے یاد کیا جاتا ہے ۔جب سکھوں نے اس مسجد کے اردگرد کے بازار پر اپنا قبضہ جمانے کے بعد مسجد کو گرودوارہ میں تبدیل کردیا تھا۔ مسجد میں اذان کی جگہ جب بجھن گائے جانے لگے تو احتجاجی تحریک اٹھی اور حاکم وقت نے مسجد کو اس شرط پر دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کیا کہ یہاں سے اذان کی آواز باہر نہیں آئے گی ۔
پھر جب انگریزوں نے اپنا رنگ جمایا تو انہوں نے مسلمانوں کا دل جیتنے کے لیے اس مسجد اور اردگرد کے بازاروں کو مسلمانوںکے حوالے کردیا۔ یوں ہم دوبارہ اس مسجد کے مالک ٹھہرے ۔ایک بار پھر مسجد کے میناروں سے اذان کی آواز گونجنے لگی ۔صدائے حق کی بازگشت نے پھر دلوں کو مسخر کیا۔ ہمارا علاقہ ہمارے ہاتھ آیا ۔ انگریزوں کو برا کہنے والوںکو انکی اچھائیوں کو بھی سامنے رکھنا چاہیے ۔ یہ مسجد بہترین طرز تعمیر کا نمونہ ہے ۔اس کے لکڑی کے مضبوط اور نفیس دروازے آج بھی اسی شان سے کھڑے ہیں اور اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ بند کر دئیے جائیں تو ہم ان کو کھول نہ سکیں۔یہ مسجد مو زونیت اور یکسانیت دونوںکا ایک حسین امتزاج ہے ۔ آخری مغل دور میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد آج بھی اپنی انفرادیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے ۔
ایک بات کا بتانا بہت ضروری ہے کہ مسجد وزیر خان، پانی کا تالاب اور سنہری مسجد سب پر کام ہورہا ہے ۔ والڈ سٹی ان تاریخی عمارات کو اپنی پرانی شان و شوکت میںلانے کے لیے پوری طرح فعال ہے لیکن کاش یہ فعالیت اخلاص کے ساتھ رہے تاکہ کام پائیدار بھی ہواور مسلسل ہوتا رہے ۔ یہ عمارات ہمارا ورثہ ہیں۔ ہمیں نہ صرف ان کی طرف توجہ دینی ہوگی بلکہ ہمیں ان کے اردگرد کے علاقوںکو بھی صاف ستھرا رکھنا ہوگا۔ یہاںکے پرانے مکینوں میں صفائی آگاہی مہم چلانی ہوگی ۔ یاد رکھیے کہ یہ تاریخی عمارات اپنے حسن کی بدولت داد تو وصول کرسکتی ہیں لیکن انکی گندگی سیاحوں کی آمد کے لیے خطرہ بن سکتی ہے ۔لاہور والڈ سٹی کی کاوشیں اپنی جگہ قابل تعریف ہیں ۔
سنہری مسجد کی سیر کے بعد ہمیں پانی والا تالاب جانے کی سوجھی ۔اندرون شہر کے فرنگی دور کے بنے اس پانی کی فراہمی کے نظام کو سمجھنا بھی ایک آرٹ ہے ۔تالاب پر پہنچے تو وہاں ایک کلرک اور کچھ ملازموں کو بیٹھے پایا ۔ یہ سب واسا کے ملازم تھے ،جی ہاں پانی کا تالاب ابھی بھی اندرون لاہور کو پانی کی سپلائی کرتا ہے ۔ یہاںکا نظم و نسق واسا کے پاس ہے ۔
ڈیڑھ سو سال پرانی عمارت جو کہ فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ بھی ہے اور ایک تاریخی ورثے کی حیثیت بھی رکھتی ہے ۔اس کی چھت بوسیدہ ہو کر دو جگہ سے گر چکی ہے اور چھت پر جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔
بڑے بڑے پانی کے پائپ چاروں طرف دکھائی دیتے ہیں جن پر ۱۸۸۰ کندہ ہے ۔ایک سو چالیس سال گزر جانے کے باوجود بھی پانی والا یہ تالاب ابھی بدستور پانی کی فراہمی کا کام بخوبی انجام دے رہا ہے ۔مگر عمارت کی زبوں حالی اور بوسیدہ حالی چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ مجھ پر توجہ نہ دی گئی تو میں زیادہ دیر نہیں رہوں گی ۔والڈ سٹی کو اس اثاثے کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے ۔
لاہور کو پانی کی سپلائی کے ضمن میں کچھ باتیں قابل غور ہیں کہ اٹھارہ سو اسی تک لاہور شہر کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ صرف کنوئیں تھے ۔ماشکی مشکیزوںمیں پانی گھروں تک پہنچاتے تھے ۔ لوگ کنوئووںسے پانی بھر کر خود بھی سٹور کرتے تھے تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے ۔اٹھارہ سو اکیاسی میں پہلا سینٹری سسٹم لاہور میں نصب ہوا۔ اس نظام کے ذریعے یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ اگلے سو سال تک لاہور کو پانی کی ضروریات پوری کی جائیں گی ۔اس مقصد کے لیے شہر کی سب سے اونچی جگہ کا انتخاب کیا گیا اور پلرز بنا کر ان پر دس ہزار گیلن پانی سٹور کرنے کے لیے بڑے بڑے ٹینک رکھے گئے ۔کنوئووںسے پانی لفٹی پمپس کے ذریعے ان میں جمع کیا جاتا تھا ۔پھر وہاں سے نلوںکی مدد سے گھر گھر پانی پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدا میں کنوئووںسے پانی اکٹھا کیا جاتا تھا بعد میں ٹیوب ویل لگائے گئے ۔آج کل ٹربائنوںکے ذریعے پانی ان تک پہنچایا جاتا ہے ۔
پانی والے تالاب میں داخل ہوتے ہی ایک پراسرار سی جگہ پر پہنچ جانے کا احساس ہوا۔ لوہے کی بنی بڑی بڑی ٹینکیاں جن میں موٹریں چلا کر پانی بھرا جاتا ہے ۔ یہ ٹینکیاں کمرے جتنی بڑی بڑی ہیں ۔انکو سیمنٹ کے بنے ستونوں کے ذریعے سہارا دیا گیا ہے ۔سیلن اور نم جگہ پر تین ملازم بیٹھے ہوئے تھے ۔ تینوں کے فرائض الگ تھے ۔ایک پانی کی موٹر بر وقت چلاتا اور بند کرتا تھا ۔دوسرا کسی رکاوٹ کو دیکھنے کا پابند تھا۔کوئی بھی تکنیکی خرابی ہوجاتی ۔ وہ اسے ٹھیک کرتا تھا ۔ ہم چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پر کھڑے ہوگئے جہاں چھت کے شہتیر گررہے تھے ۔ جونہی ہم وہاں پہنچے ، ملازم نے ہمیں ٹوکا کہ یہاں کھڑا ہونا خطرے سے خالی نہیں۔ہم نے اللہ کی آس پر تصاویر بنائیں اور اسے حوصلہ دیا کہ ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔
ملازم نے ہمیں بتا یا کہ پانی کی ٹینکیاں اتنی بھر جاتی تھیں کہ پانی ساتھ والے گھروں میں پہنچ جاتا تھا کیونکہ ہمیں پانی کے لیول کا پہلے پہل اندازہ نہیں ہوپاتا تھا لیکن اب ہمیں گیج سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ پانی اتنے لیول تک پہنچ چکا ہے ۔ہمیں اب موٹر بند کردینی چاہیے ۔ حیرت انگیز بات تھی کہ انگریز دور میں یہاں سے پانی گلبرک کو بھی سپلائی کیا جاتا تھا ۔اب اندرون لاہور کے علاقے ہی اس پانی سے فیض یاب ہوتے ہیں ۔ ان لوہے کی ٹینکیوںکو کئی سال گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک زنگ نہیں لگا۔ ان کا پانی بھی صاف ہے ۔ستونوں کے درمیان کی جگہ اتنی خوفناک لگی کہ مجھے ملازم سے پوچھتے ہی بنی کہ یہاں کوئی جن بھوت تو نہیں رہتے ۔ اس نے کہا کہ جن بھوت ہوتے تو ہم نہ ہوتے اور پھر جب صفائی کی جاتی ہے اور پانی ان ستونوںکے درمیان اکٹھا ہو جاتا ہے تو سب جن بھوت بھاگ جاتے ہیں۔ ابھی تک یہی سنا تھا کہ جن بھوت آگ سے ڈرتے ہیں۔ پانی سے ڈرنے کی بات پہلی دفعہ سنی اور میرا دل چاہا کہ اس فیس بک پر نشر کردوں۔ عامل حضرات فائدہ اٹھائیں گے۔پانی والے تالاب کے باہر ایک تختی پر ا سکی تاریخ بھی لکھی تھی ۔جب ہم اس کو پڑھ رہے تھے تب ہمیں احساس ہوا کہ ہمیں اب بھوک لگ گئی ہے ۔ اب کھانے پینے کا کوئی پوائنٹ تلاش کرنے لگے مگر حرام ہو کہ اندرون شہر میں کوئی بیٹھنے کے لیے اچھی جگہ ملی ہو۔ ویسے تو کھانے پینے کی دکانیں اور ہوٹل بہت تھے لیکن بیٹھنے کے لیے ایک بھی اچھی جگہ نہیں تھی ۔ یہاں لونڈے لپاڑے تو بیٹھ سکتے تھے لیکن ایک فیملی کا سکون سے بیٹھ کر کھانا بہت مشکل تھا۔
خیر آجاکر گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ جانے کی سوجھی ۔یہاں بھی بیشتر دکانیں بند تھیں ۔ لاہور میں رات کے وقت کھانے پینے اور گھومنے پھرنے کا رواج بہت ہو چکا ہے ۔دن کو مشکل سے ہی کوئی اچھی جگہ ناشتے کے لیے ملتی ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میرے ایک مہمان سرگودھا سے لاہور آئے ۔ہمیں ایک چھوٹا سامعاملہ ڈسکس کرنا تھا ۔ جمعہ کا دن تھا ۔ ہم نے میو ہاسپٹل سے گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ تک اچھی جگہ کی تلاش میں اچھا خاصا سفر کر لیا مگر ندارد۔ بڑی مشکل سے ایک فوڈ کارنر ملا جہاں دوگھڑی بیٹھ کر ہم نے گفتگو کی اور کچھ پیٹ پوجاکی ۔ لاہور اب راتوںکا شہر بنتا جارہا ہے ۔ یہاں بارہ بجے سے پہلے مارکیٹس نہیں کھلتی ہیں ۔ اگر کھل جائیں تو گاہک نہیں آتے ۔ یہاں شاپنگ رات میں کی جاتی ہے ۔ یہاں سیر سپاٹے رات کی روشنیوںمیں کیے جاتے ہیں۔ نصف دن تک لاہور کے لوگ سوئے رہتے ہیں ۔اس لیے لاہور بھی سویا رہتا ہے ۔ جب مکین جاگتے ہیں اور لاہور پر پیار بھری نگاہ ڈالتے ہیں تو رونق لاہور میں ڈیرہ جمانے لگتی ہے۔ خیر ہم گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ میں ایک نان چنے والی شپ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ دکان کی شان و شوکت سے اس کے کھانے کے معیار کا اندازہ ہم نے غلط لگایا کیونکہ نہ چنوںمیں سواد اور نہ نان میں وہ خستگی ۔ صبح صبح اٹھ کر احسان ہی کیا تھا سو، ہم بھی بھگت گئے ۔ کچھ اور لوگ بھی بیٹھے کھا رہے تھے ۔ ہمیں تو بے کار لگے ،ان سے اس کے ذا ئقے کی بابت پوچھنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ وہ لسی پی رہے تھے ،ہم ان کو چھوڑ کر چلے آئے کیونکہ ہم گورمے کی آئس کریم بوتل پینا چاہتے تھے ۔ کھانے کے نیچے چلے جانے تک کوئی گورمے شاپ نظر آہی جانی تھی سو چل پڑے۔ اب ہم نے کہیں بھی رکے بغیر جلو پنڈ تک جانے کا ارادہ کر لیا۔ پریس کلب سے پہلے کشمیر ہو ٹل آیا تو افسوس ہوا کہ ہم نے ناشتہ یہاں سے کیوںنہ کرلیا ۔ کشمیر ہو ٹل کا ناشتہ لاہورمیں بہت مشہور ہے ۔خیر اب تو پیٹ میںمزید کچھ بھرنے کی بھی گنجائش نہ تھی ۔اس لیے حسرت سے ہوٹل کو دیکھتے ہوئے گزر گئے ۔نہر والے پل سے مال ، فتح گڑھ ،تاج پورہ ، تاج باغ ، مغل پورہ ، ہر بنس پورہ اور دیگر علاقوںسے گزرتے ہوئے ہم جلو پنڈ جا پہنچے ۔
جلو پنڈ سے آگے ہمیں سانجھا پیر تک جانا تھا جو کہ بارڈر کے قریب ہی تھا ۔ اس سفر میں میرے شوہر نامدار میرے ساتھ تھے ۔ ہم ایک علاقے سے نکلتے تو سانجھے پیر کا پوچھ لیتے تا کہ سفر کی طوالت کا اندازہ ہو سکے ۔ راستے میں ایک بابا جی کو دیکھا تو ان کی عمر کا اندازہ لگاتے ہوئے ان سے سانجھے پیر تک جانے کا راستہ پو چھ بیٹھے ۔ بس پوچھنے کی دیر تھی کہ وہ اپنی سناناشروع ہو گئے ۔ ان کی تمام تر گفتگو کا لب لباب یہی تھا کہ وہ علاقہ بہت خطرناک ہے ۔ وہاں جانا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا ہے کیونکہ وہاں انڈیا کا بارڈر ساتھ لگتا ہے ۔ گولیاں برستی رہتے ہیں۔ بارود بھی اکثر پھینکا جاتا ہے ۔انہوںنے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وہ علاقہ چوروں ، ڈاکوئوں اور سمگلروںکا گڑھ ہے ۔ وہاں جانے کا ارادہ ترک ہی کردو کہ بہتر ہے ۔ ہم ان کی بات سن کر مسکرائے کیونکہ جب سفر کو نکلے تھے تو پیچھے ہٹنا ممکن نہیں تھا ۔ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور منزل کی طرف بڑھ گئے ۔ ان کو یقین تھا کہ ہم آگے نہیںجائیں گے ،ہمیں یقین تھا کہ ہم بخیرو عافیت پہنچ ہی جائیں گے ۔بابا جی کو اندازہ نہیں تھا کہ اب ہمارے فوجی اور پولیس چوکیاں جگہ جگہ قائم ہیں۔
ایسا ہی ہوا ، ہم موٹر بائیک پر ہوا کی سی رفتار کے ساتھ چلے جارہے تھے ۔ کہیں پرندوںکی گنگناہٹ ہماری سماعتوںمیں رس گھول رہی تھی تو کہیں سہانے نظارے ہماری آنکھوںکو تراوٹ بخش رہے تھے۔ ایسے ہی تو موسم ہوتے ہیں جو سینے میں مسرت و شادمانی کی لہروں کو اچھالتے ہیں۔میںنے امیدوںکی ڈور فضا میں پھینک دی اور اس کو آزاد کرتے ہوئے کہا کہ سانجھا پیر کے مزار پر ملیں گے ۔
راستے میں کسان محنت کرتے ہوئے نظر آئے ۔ کہیں کہیں ان کاساتھ دیتی ہوئی عورتیں بھی دکھائی دیں۔ گائوں کے اندرونی راستوں سے گزرتے ہوئے وہی کچی پکی گلیاں اور سیدھے سادھے ، سچے اجلے لوگ گھومتے پھرتے اور کام میں مگن دیکھے ۔یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں چلتے سمے کچھ لوگوںنے بتایا تھا کہ سرحدی علاقوںکے مکین لڑائی جھگڑے اور چوری چکاری کے لیے مشہور ہیں۔
دہلی گیٹ سے ہوتے ہوئے اکبری منڈی ، مسجد وزیر خان ، سنہری مسجد، گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ یعنی اندورن لاہور کا رومانس پرور سفر کرنے کے بعد ہم سرحد کے پاس پہنچ چکے تھے ۔میں نے سرحدی چوکیوںاور بارڈر کو پہلی بار اتنے قریب سے دیکھاتھا۔اس احساس نے مجھے سرشار کردیا کہ میں سرحد کے اس پار پاک سرزمین پر کھڑی ہوں ۔اگرچہ میں تو اس دھرتی کی پہلے سے ہی باسی ہوں جو پاکستان کے حصے میں آئی لیکن’’ کبھی ہم ایک تھے ‘‘کہ احساس نے ان تمام قربانیوںکو میرے سامنے کسی فلم کی طرح پیش کرنا شروع کردیا جوکہ میں تقسیم برصغیر کے ضمن میں پڑھ یا سن چکی تھی ۔کبھی ہم ایک تھے ، کا احساس بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے ، جب بھی یاد کرو یا یاد آجائے ، روح تڑپنے لگتی ہے ، گویا کوئی مکین تھا جو زندگی سے نکل گیا اور لوٹ کر نہیں آیا ۔ سانجھا پیر کے مزارکے راستے میں منڈیالہ اور چھاپہ گائوںبھی آئے ۔
سانجھاپیر کا مزار جس گائوںمیں واقع ہے ، اس کا نام’’ ایچو گل ‘‘ ہے ۔ تقسیم سے قبل یہ ایچوگل رانیاںکے نام سے مشہور تھا لیکن رانیاں تو ہندوستان میں ہی رہہ گئیں اور باقی صرف ایچوگل رہہ گیا ۔
جب ہم ایچو گل پہنچے تو ایک چوکی کی اونچائی پر بیٹھے دو فوجی جوان ملے ۔ ان کے سامنے وائرلیس پڑا تھا ۔ انہوںنے ہماری شناخت چیک کی اور ہمیں جانے کی اجازت دے دی ۔ چند قدم کے فاصلے پر مزار تھا ۔ ہم نے بائیک وہی پر کھڑی کی اور خراماں خراماں چلتے ہوئے مزار تک جا پہنچے ۔
مزار پر رونق تھی ۔ لوگ آجارہے تھے ۔ مزار کے متولی بابا جی نے ہمیں خوش آمدید کہا ۔ انہوںنے اس مزار کو صاف ستھرا رکھا ہوا تھا ۔ یہ دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی ۔ مزار کے اس احاطے میں ایک بڑا سا بوہڑ کا پرانا درخت تھا جس کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ایک طرف کبوتروںاور مرغیوںکا ڈربا تھا ۔ انکی غٹر غوں سے ماحول میں ایک عقیدت سی چھائی ہوئی تھی ۔ مزار، پھول ، کچی مٹی ، پرندے ، اور مٹی کے دیے کتنے تلازمات رکھتے ہیں۔ ہم نے ایک نگاہ اس سارے منظر پر ڈالی اور مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے اندر چلے گئے ۔ شکر ہے کہ یہاںکسی نے عورت ہو نے کی حیثیت سے روکا نہیں۔ ورنہ مجھے یاد ہے کہ جب ہم بابا بلھے شاہ جی کے مزار قصور میں گئے تھے تو وہاں مجھے اس لیے اندر جانے سے روک دیا گیا کہ عورتوںکو مزار کے اندر جانے کی اجازت نہیں۔ مجھے یہ تفریق ایک آنکھ نہیں بھائی تھی ، میں نے باقاعدہ احتجاج کیا تھا اور مزار کے اندر جاکر فاتحہ خوانی کی تھی ۔
’’ ارے وہ عورت جس نے تمہیں جنم دیا ، جس نے تمہارے وجود کو پروان چڑھایا ،جس نے تمہیں ماں جیسے لفظ سے بولنا سکھایا ۔ جس نے تمہاری دھڑکنوںکو گنا ، جس نے تمہیں سرد راتوں میں گہری نیند سے اٹھ کر خوراک دی ۔تمہاری نجاست کو صاف کیا ۔ وہ جس نے خود گیلے بستر پر اپنا بدن ڈال دیا اور تمہیں سوکھے پر راحت دی ۔ وہ جو تم تمام انبیاء اور اولیا کو جنم دینے والی ہستی ہے ۔ اس کو ہی نجس سمجھتے ہو۔ اس پر ہی پابندی لگاتے ہو ۔ اگروہ نجس ہے تو تم سب سے بڑے نجس اور منحوس ہو جو اس کے وجود سے جنم لیتے ہو اور اسے اپنی اکڑ بھی دکھاتے ہو۔ جو یہاں تک آئی ہیں۔ان کو عزت دو اور عزت سے حاضری دینے دو۔ ‘‘
سانجھا پیر میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔ فاتحہ خوانی کے لیے جب ہم اندر گئے تو ہمیں مزار کے متولی ساتھ ساتھ گائیڈ کرتے جارہے تھے ۔ ہم نے انکی خدمات کے عوض ان کو کچھ نذرانہ پیش کیا جو کہ انہوںنے کچھ تامل کے بعد قبول کر لیا ۔مزار کے احاطے میں چھوٹے چھوٹے دو دروازے بنے ہوئے ہیں ۔ ایک دروازہ پاکستان کی سرحد میں ہے اور دوسرا انڈیا کی ۔ چند سال قبل جب دونوںممالک کے تعلقات خوش گوار تھے تو جب سانجھے پیر صاحب کا عرس ہوتا تھا تو انڈیا کی سرحد میں واقع درواز ہ کھول دیا جاتا تھا ۔ انڈیا کے ہندو مسلم اور سکھ اس دروازے سے عرس کی تقریب میں شرکت کرتے اور نذر نیاز چڑھانے کے بعد چلے جاتے ۔اس دن پاکستانی عقیدت مندوںکے لیے دروازہ بند کردیا جاتا تھا۔جب پاکستانی زائرین آتے تو بھارت کی طرف کھلنے والا دروازہ بند کردیا جاتا ۔
حالات جب کشیدہ ہوئے تو بھارت یاتریوںکا داخلہ بند کردیا گیا ۔اب یہ دروازہ کھلنے کے انتظار میں بوڑھا ہو رہا ہے ۔ میں اس کے درد کو سمجھتی ہوں مگر جب تک مقدر نہ کھلے ، دروازے نہیں کھلا کرتے۔ بابا جی کی یہ بات سن کر میںنے سوچا کہ ہائے ، کتنے لوگ اس آس میں اس میلے میں شرکت کرتے ہوں گے کہ اپنے پیاروںسے مل لیں گے ۔ میلے کے بہانے مل بیٹھیں گے ۔کچھ باتیں ہوں گی ۔ میٹھی یادیں ہوں گی اوران یادوںکے درمیان سوغاتیں ہوں گی لیکن یہ تقسیم نے بھی کیا رنگ دکھلائے ہیں کہ اب سرحد پر بھی ایک دوسرے کو دیکھنے اور ملنے کے مواقع ختم کر دئیے گئے ہیں۔
’’ اب اس عالم جدائی میں پھر کیا ہو۔ پرندوںکی طرح اُڑ جائو۔ سرحد کے اس پار کے اپنوںسے ملنا ہے تو ویزا لیجیے ، شوق سے جائیے ۔ کس نے روکا ہے ۔ یہ سرحد ہے ، یہاں تو روکا جائے گا۔ یہاں تو باڑھ لگی ہے ۔ پار کروگے تو گولیاں دندناتی ہوئی سینے میں جااتریں گی ۔ یہ نہ سمجھو کہ یہاں ملن بھی ہے ، یہ سرحد ہے ۔ یہاں تمہارے سروں کی ایک دوسرے کو دیکھنے کی حد بندی کر دی گئی ہے ۔‘‘
میں یہ سوچ رہی تھی کہ ایک پرندے کی اڑان نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔آزاد پنچھی فضائوںمیں اُڑ رہے تھے ۔انسانوںکو روک دیا گیا تھا لیکن پرندوںکی نقل مکانی کو کون روکے۔ وہ دونوں طرف کے گھروںمیں آتے جاتے تھے ۔ ان کی پروا ز کو قید کرنا ممکن ہوتا تو یہ بھی ہوجاتا ۔ لیکن جو ہوا تھا یعنی یہ تقسیم ،اگر یہ بھی نہ ہوتی تو ہم بھی انڈیا کے کروڑوںمسلمانوںکی طرح اپنی شناخت کو ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہوتے ۔ اس تقسیم نے بہت سے دکھ دئیے لیکن کئی دکھوںسے بچالیا۔
سانجھا پیر کا اصل نام گلاب حسن شاہ تھا ۔ یہ عراق کے مشہور شہر بغداد سے یہاں تبلیغ دین کی خاطر تشریف لائے تھے ۔پھر اسی جگہ کو اپنا ڈیرہ بنا لیا۔ یہ جگہ ایک ہندو کی ملکیت تھی ۔اس ہندو نے بابا گلاب شاہ کی خدمت کی اجازت چاہی اور پھر ان کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا ۔ ان کی قبر بھی بابا جی کے مزار کے احاطے میں ہے ۔
قبر کا سر والا حصہ بھارت کا حصہ ہے ۔ سانجھا پیر کے حوالے سے بتایا گیا کہ جب سرحدی علاقوںکی حد بندی کی گئی تو سانجھا پیر صاحب کی قبر دونوں ملکوںمیں آرہی تھی ۔ قبر کے سر والا حصہ بھارت اور قدموں والا پاکستان میں آرہاتھا ۔ لہذا اس کا حل یہ نکالا گیا کہ رات میں سانجھا پیر صاحب کی قبر پر درمیان میں ایک تار لگادی گئی جس سے دونوں ممالک میں یہ آدھی آدھی تقسیم ہو گئی ۔ تار کے اس طرف پائوں تھے اور اس طرف سر۔ صبح جب اٹھے تو دیکھا کہ پتھر تار سمیت پاکستان کی جانب ہے ۔ بھارتی جوانوں نے سمجھا کہ یہ پاکستان کی حرکت ہے ۔ نزاع کھڑا ہو گیا ۔خیر اب کی بار پتھر اور تار پاکستانی فو جیوںنے لگائی ۔ رات گزر گئی ، صبح دیکھا کہ پتھر اور تار سرحد کے اس طرف پڑے ہیں۔ اب پاکستانی جوانوںکو غصہ آیا کہ یہ حرکت بھارت کی ہے ۔ خیر گفت و شنید کے بعد اس معاملے کو سلجھانے کی سوجھی گئی ۔مزار مبارک پر تار اور پتھر لگادئیے گئے تاکہ نشانی رہے ۔ رات بھر دونوں طرف کے جوان جاگتے رہے کہ دیکھیں کہ ماجرا کیا ہے ۔ پھر جو دیکھا تو دنگ رہہ گئے کہ پتھر اور تار خود بخود حرکت کرکے قبر سے پیچھے ہٹ گئے ۔ اب فیصلہ کیا گیا کہ قبر کو آزاد رہنے دیا جائے ۔ جس احاطے میں یہ قبر ہے ۔ اس میں سے پاکستان اور بھارت دونوںکی حصہ داری ہو۔ اسی لیے یہ سانجھا پیر کہلاتا ہے۔ سانجھا پیر کے نزاعی معاملے کو اس وقت اچھی طرح سلجھا لیا گیا ورنہ اس پر بھی عقیدت مندوںکا جھگڑا ہو سکتا تھا ۔ بابا جی چونکہ مسلمان بھی تھے ۔اس لیے بھی ان کے مزار پر تصرف کے لیے پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا ۔
میں نے احاطے میں دیوار کے اس پار دیکھا تو وہاں لہلاتی ہوئی فصلیں نظر آئیں ۔ بابا جی نے مجھے بتا یا کہ یہاں کے کسان اپنے فوجی جوانوںکی معیت میں اپنے کھیتوںمیں کھیتی باڑی کے لیے آتے ہیں۔انہیں مزار پر حاضری یا پھر کسی پاکستانی سے بات چیت کی اجازت نہیں۔ وہ ان کے ساتھ آتے اور جاتے ہیں۔ جب تک وہ اپنا کام سر انجام دیتے ہیں۔ فوجی جوان ان کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔
پاک بھارت کی اس سرحد کے آس پاس کے علاقوںمیں میواتی زبان کا راج ہے ۔ پاک بھارت کے کھیت بھی مشترکہ ہیں لیکن ایک دوسرے سے جڑے ان کھیتوںکو بارہ فٹ کی ایک پٹی سے جدا کردیا گیا
ہے ۔ اسے زیرو لائن کہتے ہیں۔ یہاں لگی برجیوںسے بھی کسانوںکو آگاہ کیا گیا ہے کہ
’’ بس ، اس سے آگے نہیں، یہاں سے سرحد ختم ۔ پار کروگے تو دشمن کے علاقے میں جا گھسوگے ، پھر تمہاری خیر نہیں ۔‘‘ لوگ بڑے سیانے ہیں۔ سمندر کے ماہی گیروں کے پکڑے جانے کے احوال سے واقف ہیں۔ اس لیے دور ہی سے بھارت کو سلام کرتے ہیں۔ بھارتی چوکیوںپر مستعد فوجیوںکو ڈیوٹی پر
دیکھا تو اپنے جوان یاد آگئے ۔ وطن کے ان محافظوں کا کام تو لکیروںکی حفاظت کرنا ہے جو ہمیں تمہیں جدا کرتی ہیںلیکن ایک جداگانہ شناخت بھی دیتی ہیں ۔اسی لیے تو فوجیوںکے سر فخر سے کٹتے ہیں۔ اسی لیے تو مائیں اپنے شہید بچوںپر فخر کرتی ہیں۔ تقسیم کے دکھ ہزاروں ہیں۔ کتنے ہی سانحات تقسیم کے سینے پر لہو سے لکھے ہیں۔
اب یہ لہو لہو داستان تو رقم ہو چکی ۔ اب تو ان لکیروں کو یونہی رکھنا ہے کہ ان کا قائم رہنا ہی شان وطن ہے ۔ وطن نہ رہا تو ہم بھی نہ رہیں گے ۔
سانجھے پیر صاحب کے مزار پر فاتحہ خوانی اور سرحدی علاقوںکو دیکھنے کے بعد ہم دوبارہ واپسی کے لیے فوجی چوکی آئے ۔ یہاں سے اپنے کارڈ لیے ۔ ایک جوان وائرلیس پر چھٹی کے لیے آہ فغان کر رہا تھا کہ ’’ چھ ماہ ہوئے ، وہ گھر نہیں گیا ۔اس کی جگہ کسی دوسرے جوان کو بھیجا جائے اور اسے گھر جانے کی اجازت دی جائے ۔‘‘
یہ فوجی ڈیوٹی بھی کتنی سخت ہوتی ہے ۔ گھر والوں سے دور ، اپنے متوالوں سے دور جینا پڑتا ہے ۔ میں اس کی فریاد طلب آوازوںکے بیچ اس کے گھروالوںکی شبیہ دیکھ رہی تھی جیسے وہ بھی اشک بار ہوں کہ پا پا ، تم سے ملے کتنے دن بیتے ، لوٹ آئونا ۔ مل جائو نا ۔ پھر اپنا ریشمی آنچل لہراتی ہوئی ایک بیوی میرے تصور پر جگمگائی جیسے بول رہی ہو، خواہشوںکے سمندر میں دل کی پیاس بجھانے آجائو ، ساجن تم کسی بہانے آجائو۔ اسی آنگن میں ایک ماں بھی دعا گو تھی ۔اس کے سراپے سے برستا نور بیٹے کی سلامتی کے لیے اس
پر نچھاور ہو نے کو تڑپ رہاتھا ۔ میرا دل یہ سوچ کر اداس ہوا۔
ہم واپسی کے لیے رخت سفر باندھ چکے تھے ۔ کچھ کچھ اندھیرا بڑھ رہا تھا ۔ ہم رات ہونے سے قبل یہاں سے نکل جانا چاہتے تھے ۔ ابھی تک ہمیں یہ علاقہ معصوم لگا تھا ۔ ہوسکتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں ساری کی ساری معصومیت فنا ہوجائے ۔ مزار سے نکل کر گائوں میں پہنچے تو میں نے حسب عادت یہاںزمین کا ریٹ پوچھا تو پتا چلا کہ یہاں بھی زمین خاصی مہنگی ہے ۔ میںنے سوچا کہ ان علاقوںمیں اگر یہ حال ہے تو مرکزی علاقوںمیں زیادہ قیمت بڑھنے کی شکایت کیسے کی جاسکتی ہے ۔ خیر یہاں سے
نکل کر اب ہم نہر نہر چل رہے تھے ۔ واپسی کا سفر جاری تھا ۔ بھوک بھی لگ گئی تھی ۔ نیند بھوک مٹنے کا انتظار کر رہی تھی ۔ گھر سے کھانا کھانے کی بجائے ہم نے ایک ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ بھئی آئوٹنگ ہو تو پوری ہو۔ کھانا مزے کا تھا ۔یہ سفر تو بہت ہی مزے کا تھا ۔ اس لیے ہم نے اسے اپنی یادداشت اور ڈائری میں محفوظ کر لیا ۔ اب یہ سفرنامہ آپ کے سامنے ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button