اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

عالمی شہرت یافتہ دینی سکالر، اتحاد بین المسلمین کے داعی، مفسر قرآن، شاعر، تاریخ دان اور فلسفی علامہ طالب جوہری کاجنم دن

وہ ان چند علما میں سے ایک تھے جنہیں صرف شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے اصحاب ہی نہیں بلکہ پورا پاکستان سنتا تھا۔ آپ کی وفات رواں سال جون کی 22 تاریخ کو کراچی میں ہوئی

لاہور(ویوز نیوز رپورٹ) ایک طویل عرصے تک پاکستان ٹیلی ویژن پر "شام غریباں” کی مجلس پڑھنے والے عالمی شہرت یافتہ مذہبی اسکالر، اتحاد بین المسلمین کے داعی، مفسر قرآن، شاعر، تاریخ دان اور فلسفی علامہ طالب جوہری کی آج یوم ولادت ہے۔
اپنے مخصوص انداز، لہجے اور خطابت کے باعث ایک الگ مقام اور احترام رکھنے والے علامہ طالب جوہری نے 27 اگست 1939ء کو پٹنہ میں علامہ مصطفیٰ خان جوہر کے خانوادے میں آنکھ کھولی۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کی اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔
علامہ طالب جوہری "تفسیر قرآن” (احسن الحدیث) کے علاوہ "حدیث کربلا”، "عقلیات معاصر” اور "علامات ظہور مہدی” جیسی کئی دیگر کتابوں کے مصنف بھی تھے جبکہ اردو شاعری میں بھی انہوں نے طبع آزمائی کی۔ ان شعری مجموعوں میں "حرف نمو”، "پس آفاق” اور "شاخ صدا” شامل ہیں۔
علامہ طالب جوہری فن تقریر میں صاحب اسلوب تھے۔ ایک دل نشیں مقرر ہونے کے علاوہ بھی ان کی کئی جہتیں تھیں۔ آپ پی ٹی وی پر "فہم القرآن” کے عنوان سے پروگرام کرتے تھے۔ بیماری کے باعث وہ کچھ عرصے سے مجالس تو نہیں پڑھ رہے تھے مگر "تم نے گریہ کیا، مجلس تمام ہو گئی۔۔ اور اب تو دامنِ وقت میں گنجائش بھی نہیں۔” اور "کبھی ایسے بھی سنا کرو” جیسے ان کے جملے آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ یقیناً ہم سب نے ہی اپنے بچپن اور پھر جوانی میں علامہ طالب جوہری کو ضرور سنا ہوگا۔ وہ نوے کی دہائی میں ایک طویل عرصے تک ہر سال پاکستان ٹیلی ویژن پر "شام غریباں” کی مجلس پڑھا کرتے تھے۔
علامہ طالب کو کئی برسوں سے پاکستانی علماء میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ کراچی کے نشتر پارک میں شام غریباں کی مجلس سے ان کی شہرت پاکستان اور پاکستان سے باہر دنیا بھر میں پھیل گئی۔ مجلس کے سامعین میں مسلمانوں کے تمام طبقہ ہائے فکر شامل تھے۔ حکومت پاکستان نے علامہ طالب جوہری کی خدمات کے پیش نظر 2010ء میں انہیں ستارہ امتیاز کے اعزاز سے بھی نوازا۔
یہ کہنا شاید غلط نہ ہو گا کہ وہ ان چند علما میں سے ایک تھے جنہیں صرف شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے اصحاب ہی نہیں بلکہ پورا پاکستان سنتا تھا۔ آپ کی وفات رواں سال جون کی 22 تاریخ کو کراچی میں ہوئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button