انٹرنیشنلاہم خبریںاہم خبریں

آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی ویکسین کے ٹرائل روک دئیے گئے

لندن(ویب ڈیسک) آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے کورونا وائرس کی ایک ویکسین تیار کی تھی اور امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ آئندہ چند مہینوں یہ ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہو گی لیکن اب اس کے متعلق ایک بری خبر آ گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی اور برطانوی فارماسیوٹیکل کمپنی ایسترازینیکا کے ماہرین کی زیرنگرانی اس ویکسین کے تجربات جاری تھے کہ اس دوران ایک رضاکار میں اس دوا نے انتہائی خطرناک ری ایکشن کر دیا ہے جس کے بعد تجربات عارضی طور پر روک دیئے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس دوا کے رضاکار پر ظاہر ہونے والی منفی اثر کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا اس مریض کو ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پڑے گی یا اس سائیڈ ایفیکٹ سے اس کی زندگی کو خطرہ ہے یا نہیں؟ اس رضاکار کے متعلق توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائے گا لیکن اس مریض کی شناخت کے بارے میں اب تک کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ یہ بھی پتا نہیں چل سکا کہ تجربات روکنے کا فیصلہ ایسترازینیکا کی طرف سے کیا گیا یا آکسفورڈ کے ماہرین کی طرف سے۔اب اس ویکسین کے متعلق توقع کی جا رہی ہے کہ یہ 2021ءکے پہلے چند مہینوں میں مارکیٹ میں آ جائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button