کالم/بلاگ

اسٹبلشمنٹ بمقابلہ اپوزیشن

 آل پارٹیز کانفرنس نے ملک کی ٹھہری اور سہمی ہوئی سیاست میں تلاطم برپا کردیا ہے ، مقتدر حلقوں اور حکومت کا خیال تھا کہ مقدمات اور احتساب کے شکنجے کا خوف کسی کو سر اٹھانے نہیں دے گا ، اے پی سی محض ایک معمولی سا شو ہوگا اور فوری بعد تمام سرگرمیاں ٹھپ ہو جائیں گی اور سب کو اپنی پڑ جائے گی ۔ وزیر اعظم اور وزرا کی ٹیم بار بار اعلان کررہی تھی کہ اپوزیشن کے لئے اب بربادی ہی بربادی ہے ، ‘‘ مخبر اعظم ‘‘ شیخ رشید نے کسی عدالت یا مقتدر ادارے کے تقدس کی پرواہ کیے بغیر فیصلہ سنا دیا کہ اپوزیشن والے نہ صرف جیل جائیں گے بلکہ نااہل بھی ہونگے ، یعنی ثاقب نثار کا ‘‘ سنہرا ‘‘ دورپہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آئے گا کہ اور موجودہ نظام ناپسندیدہ عناصر پر عرصہ حیات تنگ کردے گا ، عمران حکومت چلے گی نہیں بلکہ بھاگے گی وہ بھی اگلے آٹھ سال مزید ، خواہ لوگوں کا زندہ رہنا ہی محال کیوں نہ ہوجائے ، پلان تو اب بھی یہی ہے ، اب تو اس بات کی تصدیق ہوچکی کہ چند روز قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اہم نمائندے کی عسکری قیادت سے ملاقات ہوئی ، ن لیگ کی جانب سے بتایا گیا کہ اب وہ معمول کی سیاسی سرگرمیاں بحال کیے بغیر نہیں رہ سکتے ، پی ٹی آئی حکومت ہر شعبے میں پٹ چکی ہے ، عوام دوسری سیاسی جماعتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر انتقامی کارروائیوں کے ذریعے انہیں سیاست کرنے سے روکا جارہا ہے ، اس ملاقات میں عسکری قیادت نے کھل کر واضح کردیا کہ حکومت تو یہی چلے گی اور کسی کو یہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے ،سو اس میٹنگ کا نتیجہ ن لیگ کے حق میں نہیں نکلا ، اگرچہ اس حوالے سے متضاد دعوے کیے جارہے ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر کو وضاحت کے لیے خود سامنے آنا پڑا ، تو ملاقات کرنے والے لیگی رہنما محمد زبیر نے ان کے موقف کو غلط قرار دیدیا ، یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے اور شاید تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے۔تجزیہ کار اس تمام معاملے کو حالیہ سیاسی پیش رفت کے تناظر سے دیکھ رہے ہیں، آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے اس اس وقت تھرتھلی مچ گئی جب یہ بات سامنے آئی کہ علاج کے لیے لندن میں موجود نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے ، اس سے دو دن پہلے تو یہ بھی واضح نہیں تھا کہ مریم نواز بھی کانفرنس میں شریک ہونگی یا نہیں ، اطلاعات یہی تھیں کہ شہباز شریف کی قیادت میں پارٹی رہنماؤں کا وفد شریک ہوگا ، نواز شریف کی تقریر کے اعلان کے بعد حالات پلٹا کھا گئے ، پھر پتہ چلا سابق صدر آصف زرداری بھی کراچی سے بذریعہ ویڈیو لنک کانفرنس سے خطاب کریں گے ، اے پی سی کو بے کار مشق سمجھنے والی حکومت کو لالے پڑ گئے ، اعلان ہوا کہ نواز شریف کا خطاب نشر کیا گیا تو پیمرا حرکت میں آئے گی ، منتظمین نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے تقریر براہ راست دکھانے کے انتظامات کرلیے ، پھر ایک مرحلے پر حکومت کو بھی سمجھ آگئی کہ خطاب روکا نہیں جاسکتا کیونکہ بعض چینلوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ ٹیلی کاسٹ کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے ۔ نواز شریف کی تقریر کے متعلق جتنے بھی اندازے لگائے گے وہ ان سے زیادہ سخت ثابت ہوئی ، سابق وزیر اعظم نے پاکستان کے سول سیٹ اپ اور وزیر اعظم عمران خان کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے صرف اسٹبلشمنٹ کو مخاطب کیا اور تحریک چلانے اور حساب چکانے کا عزم کیا اور یہ بات تمام اپوزیشن جماعتوں سے منوا لی کہ ان سب کا سامنا صرف اور صرف اسٹبلشمنٹ سے ہے ، نیب ، عدالتیں ، ایف آئی اے ، اینٹی نارکوٹکس فورس اور پولیس محض آلہ کار ہیں ، اس حوالے سے مشترکہ علامیہ کسی بھی قسم کی مصلحت سے پاک جامع اور ٹھوس ہے، گیارہ پارٹیوں پر مشتمل اس اتحاد کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا نام دیا گیا ہے ، اس اتحاد نے کشمیر سمیت تمام داخلہ ، خارجہ اور معاشی پالیسوں کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم سے فوری استعفے اور سب کے احتساب کا مطالبہ کردیا ۔ اکتوبر سے ملک بھر میں جلسے اور ریلیاں نکالنے ، دسمبر میں احتجاجی مظاہرے اور ملک گیر احتجاج کرنے اور جنوری میں اسلام آباد کی جانب فیصلہ کن لانگ مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے ان سخت اور غیر متوقع فیصلوں سے حکومتی حلقوں میں تو کھلبلی مچنا ہی تھی ، اسٹبلشمنٹ نے بھی سخت برا منایا ، پارلیمانی جماعتوں کے وفود اور عسکری حکام کے درمیان کانفرنس سے چند روز قبل ہونے والی ملاقات کی تفصیلات ایک اور رنگ دے کر لیک کردی گئیں ۔ شیخ رشید اور چند’’ اہلکار ‘‘ اینکروں اور اینکرنیوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے سب خود درخواست کرکے معافی مانگنے گئے ہوں ، بات زیادہ آگے بڑھی تو دوسری جانب سے ملاقات میں شریک اپوزیشن کے سیاستدانوں نے بھی اشارے دینے شروع کردئیے کہ اس ملاقات کے متعلق جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے ۔ یہاں ابھی اتنا بتانا ہی کافی ہے کہ گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم لانے پر بات ہوئی ، اپوزیشن کے سیاستدانوں نے کہا کہ وہاں الیکشن ہونے والے ہیں ، دھاندلی نہیں ہونی چاہیے ، شرکا کے مطابق عسکری حکام نے اپوزیشن کی باتوں کو بہت لائٹ لیا اور کھانا کھلا کر رخصت کردیا ، آل پارٹیز کانفرنس کے علامیہ کے بعد سے یہ ملاقات بھی پس منظر میں چلی گئی ، اب نئی صورتحال اور نئے حالات ہیں ،پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل دو بڑی جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے کے اعتماد پر پورا نہیں اتریں ۔ مولانا فضل الرحمن دونوں سے شاکی رہے ہیں ، اسٹبلشمنٹ سے فیصلہ کن لڑائی کا پہلا موقع الیکشن 2018 ء کے فوری بعد اس وقت آیا جب مولانا فضل الرحمن نے بدترین دھاندلی کے خلاف اسمبلیوں میں نہ جانے اور تحریک چلانے کا مشورہ دیا مگر ن لیگ نہیں مانی ، پیپلز پارٹی اس وقت خود حکومت بنوانے والوں کے ساتھ تھی ، اس وقت مولانا کی بات مان لی جاتی تو جعلی الیکشن کا مکو ابتدا میں ٹھپا جاسکتا تھا ۔ نواز شریف اس وقت جیل میں تھے ، لندن جانے سے پہلے دوران حراست ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم نے مولانا کی بات نہ مان کرفاش غلطی کی تھی ، دوسرا موقع اس وقت آیا جب جے یو آئی نے لاکھوں نظریاتی اور جانثار کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد میںدھرنا دیا ، ایک طرف مقتدر حلقوں نے انہیں رام کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف پی پی اور ن لیگ والے عین موقع پر ادھر ، ادھر ہوگئے ، اب تیسرا موقع۔ مل رہا ہے ، مقابلہ براہ راست اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہے ، یدھ شروع ہونے سے قبل پہلے مرحلے میں وہی پرانا را کے ایجنٹ والا گھساپٹا راگ الاپا گیا، وزیر اعظم اور وزرا کے ساتھ ریاستی سوشل میڈیا بھی حرکت میں لایا گیا ، حتی کے نکرے لگے ق لیگ کے بزرگ قائدین چودھری شجاعت اور پروپز الٰہی کو بھی میدان میں اتارا گیا ،مولانا فضل الرحمن نے ہی اس کا فوری جواب دیا اور کہا کہ بھارت اور را کس سے خوش ہیں؟ عالمی اسٹبلشمنٹ اور یہودی لابی کس کے سرپرست ہیں ؟ یہ پوری دنیا کو پتہ ہے اور جب ہم نے شواہد پیش کرنا شروع کیے تو کسی کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی ، اس بار حکومتی حلقوں کو زیادہ جھٹکا اس لیے بھی لگا کہ اس سے پہلے کبھی نئے انتخابات کرانے ، تحریک چلانے اور احتجاج کی نوعیت کے متعلق پی پی ، ن لیگ اور جے یو آئی کے موقف بظاہر ایک جیسے نہیں تھے ، آج یہ نوبت ہے کہ اسمبلیوں سے استعفے دینے کے معاملے پر بھی اتفاق ہوگیا ہے ، ہر کسی کے ذہن میں یہی سوال ہے کہ آگے کیا ہوگا ؟ اگر یہ اتحاد اپنے فیصلوں پر قائم رہتے ہوئے احتجاج کی جانب بڑھا تو اسے روکنا بہت مشکل ہوگا , احتجاجی ماحول کو ملک میں چھائی معاشی بدحالی ، کمر توڑ مہنگائی ، عوامی سہولیات کی عدم دستیابی ،زیر عتاب میڈیا ، آزاد منش ججوں کے خلاف کارروائیاں ، سیاسی بے چینی ، بیڈ گورننس ، بڑھتے ہوئے جرائم ، نظام انصاف کا ناکارہ ہونا اور تمام تر اختیارات سمٹ کر محض چند افراد کے ہاتھ میں آجانے جیسے عوامل ایندھن فراہم کریں گے ، اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ سیاست بہت پیچھے رہ چکی ، ملک کی معاشی خودمختاری داو پر لگنے سے سالمیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے ، اس نظام کو مزید وقت دینا اپنے ہاتھوں سے تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ، اکتوبر کا مہینہ سر پر ہے ، جلسے شروع ہوئے تو چند ایسے غیر روایتی مطالبات بھی سامنے آسکتے ہیں کہ جن کا ماضی کی کسی تحریک میں تصور بھی نہیں کیا گیا ہوگا ، سیاسی ماحول کو کس حد تک گرمانا ہے اس حوالے سے گیند اب اپوزیشن کے کورٹ میں ہے ، حکومت کے پاس وہی پرانے ہتھیار مقدمے ، جیلیں ، نیب اور ہاں ‘‘ لڑائو اور حکومت کرو‘‘ والی ترکیب بھی موجود ہے ، یہ الگ بات ہے ان دوسالوں کے دوران اپوزیشن جماعتوں پر یہ سب فارمولے آزمائے جاچکے ، ایک طرف اسٹلشمنٹ ملکی نظام پر گرفت مضبوط کرنے میں لگی ہے ، تو دوسری جانب نواز شریف اور آصف زرداری ، مولانا فضل الرحمن ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ماضی کی ناکامیوں سے سبق سیکھ کر ہلہ بولنے کے لیے صفیں ترتیب دے رہے ہیں ، ایسا نہیں کہ سب اچانک ہی ہوگیا ہے ، کہا جاتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے پاس ہمیشہ پلان بی لازمی ہوتا ہے ، اس بار اپوزیشن کے پاس بھی اس کا اپنا پلان بی ضرور ہوگا ، عملاً تو اپوزیشن کے پاس اب پیچھے ہٹنے کا راستہ ہے ہی نہیں ، دیکھتے ہیں اب کوئی پھر سے اس دام میں آتا ہے یا پھر صیاد کو امتحان میں ڈال دیتا ہے ، اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق اپنے مطالبات منوانے کے لیے احتجاج شروع کردیا تو وہ مرحلہ جلد آسکتا ہے کہ مقدمات اور گرفتاریاں بے معنی ہو جائیں ، کیا کریں حالات ہی ایسے پیدا کر دئیے گئے ہیں ، آل پارٹیز کانفرنس کے فوری بعد نیب نے مولانا فضل الرحمن کو طلب کرنے کا اعلان کردیا ہے ، جے یو آئی کا کہنا ہے کہ اگر مولانا نے پیش ہونے کا فیصلہ کیا تو دس لاکھ کارکن ساتھ جائیں گے ، گویا نیب کو احتسابی ادارہ ماننے سے ہی انکار کردیا ہے ، یہ سلسلہ چل نکلا تو ‘‘ مخصوص ‘‘ ججوں کے حوالے سے بھی ایسا ہی رویہ سامنے آسکتا ہے ، یہی انارکی ہے ، ایک بات طے ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزرا ، اپوزیشن اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان محض دکھاوے کا پردہ بننے میں بھی ناکام ہوگئے ۔بالآخر حالات کا دھارا دونوں کو آمنے سامنے لے آیا ، یہ بات مانے بغیر بھی چارہ نہیں معاملات میز پر بیٹھ کر حل نہیں ہونگے اور پہلے احتجاج پھر مذاکرات یہی نوشتہ دیوار ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button