کالم/بلاگ

”امتحانِ محبت“

مسلمہ قاعدہ ہے کہ انسان کو جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے وہ اسے دنیاکی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔
لیکن جہاں آپس میں تصادم ہو جاۓ ایک کی محبت کے حقوق ادا کرتا ہے تو دوسرا ناراض ہوتا ہے۔
دوسرے کی محبت کے حقوق ادا کرتا ہے تو تیسرا ناراض ہوتا ہے۔
غرض کہ ایک وقت میں سارے راضی نہیں ہو پاتے وہاں سچی اور جھوٹی محبت کا امتحان ہوتا ہے اس وقت پتہ چلتا ہے کہ اسے سچی محبت کس سے ہے اور جھوٹی محبت کس سے ہے۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں باربار یہ اعلان فرماتے ہیں کہ دیکھ لو خوب غور کرو تمہارے یہ کہنے سے کہ ہم مسلمان ہیں تو یہ اسلام کا دعویٰ ایسے ہی قبول نہیں کیا جاۓ گا۔
ہم امتحان لیں گے امتحان لینے کے بعد دعوے کی حقیقت سامنے آجاۓ گی۔
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم نے دنیا میں اسے بھیجا تو ہے لیکن ہم اس کی محبت کا امتحان نہیں لیں گے?
ہم کچھ قوانین بتاٸیں گے کہ یہ میری بات مانے،
میرا بندہ رہے، مجھ سے محبت کرے،میرے خلاف نہ کرے۔
محبت میں امتحان کی نوعیت یہ ہو گی۔خوف،فقروفاقہ،جانی اور مالی نقصان،زارعت وغیرہ میں نقصان ہوگا ۔
ایسے میں جو شخص ہمت سے کام لے گا کامیاب ہو جاۓ گا اور ہماری طرف سے اس پر دنیا اور آخرت میں انعامات کی بارشیں ہی بارشیں ہی ہوں گی آج کل کے معاشرے میں اللہ تعالی محبت کے کیسے کیسے امتحان لے رہے ہیں،اگر حرام آمدنی کے ذراٸع چھوڑیۓ تو مالی نقصان ہوتا ہے۔
اور کہتے ہے کہ ہم پکے دینداربن جاۓ تولوگوں سے تعلقات کٹتے ہیں جب تعلقات کٹیں گے تو معاشرے میں عزت نہیں رہۓ گی عزت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
لوگ طرح طرح کے طعنے دینگے لوگ کہیں گے کہ تم دنیا سے کٹ جاٶ گے سب تمہیں چھوڑ دینگے پھر وہ گھبرے گا کہ لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا۔
معلوم ہوا کہ ایمان ہے ہی نہیں اگر ایمان ہوتا تو
اللہ تعالی کے وعدوں پر یقین ہوتا فرمایا اللہ تعالی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو گناہوں سے بچتے ہیں پھر جب اللہ تعالی تمہارے ساتھ ہے پھر تم کیوں ڈرتے ہو?
انسان دنیا کمانے میں کیسی کیسی مشقتیں برداشت کرتا ہیں اللہ تعالی یہ قاعدہ سمجھاتے ہیں کہ اگر مجھے راضی کرنے کی مشقت کرلو تو دنیا کی ساری مشقتیں ختم ہو جاٸیں گی جب انسان اللہ تعالی کو راضی کرلیتا ہے ہر قسم کے گناہوں سے توبہ کرلیتا ہے اللہ کی سب نافرمانیاں چھوڑ دیتا ہے۔
تووہ ہر مشقت میں یہ سمجھتا ہے کہ یہ مولیٰ کی طرف سے امتحان محبت ہے محبت کی وجہ سے انعامات نوازنا چاہتا ہے اس لیے وہ پریشان نہیں ہوتا۔ دنیوی مقاصد کےحصول کے لیے لوگ مشکل سے مشکل امتحانات دینے کےلیےکیوں تیار ہو جاتے ہیں?
رات بھر محنتیں کیوں کرتے ہیں?
اس لیے کہ امتحان میں کامیابی کے بعد پھر کوٸی بڑا مرتبہ ملے گا عزت ملے گی دنیا کمانے مہیں جیسے مشقت برداشت کرتےہو تو کچھ اللہ کے لیے مشقت برداشت کر لو۔
”اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
ہم نے لوگوں کو مشقت میں پیدا کیا ہے“
اس کے بغیر نہ دنیا میں کامیابی ہو گی نہ دین میں کامیابی ہو گی۔۔
لوگ یہ تو کہے دیتے ہیں کہ ہم ایمان لاۓ مگرجب ہم امتحان لیتے ہیں تو اس میں ناکام ہوجاتے ہے امتحان کی مشقت برداشت نہیں کرتے، کسی سے ذراسی مخالفت کروادی بیوی سے،شوہرسے، بھاٸی سے،بہن سے والدین سے،اولاد سے فلاں کام اگر نہیں کروگے تو ہم ناراض ہو جاۓ گے ایک دیندار بن گۓ توہم ناراض
ہو جاٸیں گے ایسے مختلف مواقع پر مخالفت کا سامنا ہوتا ہے۔
کبھی میں یہ بھی پوچھ لیتا ہوں کہ وہ ناراض ہو جاٸیں گے توکیا ہوگا?
کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں ایسے ہی خواہ مخواہ بھاٸی کی رضا کو اللہ کی رضا پر مقدم رکھنا بس وہ ناراض نہ ہو،اللہ ناراض ہوتا ہے تو ہو جاۓ۔
اتنی موٹی سی بات عقل میں نہیں آتی کہ اگر وہ تیرا بھاٸی ہے تو کیا تو اس کا بھاٸی نہیں?
یک طرفہ فیصلہ کیوں کیا جاۓ?
تو اگر شریعت پر عمل کی وجہ سے مجھ سے ناراض ہو رہاہے تو میں بھی تیری بد اعمالیوں سے بیزار ہوں۔
شیطان کے بندے اپنے بھاٸی کی خاطر شیطانی کام چھوڑنے پر تیار نہیں تو جیسے اللہ تعالی نے ہداہت دے دی وہ بھاٸی کی خاطر اللہ کو کیوں ناراض کرتا ہے?
بات کچھ سمجھ میں آٸی?
رسولﷺ نے ارشاد فرمایا
”تم میں سے کوٸی سخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاٶں“ سو ایمان کے یہ معنی ٹھہرے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبت
ہو
ایک بار استغفار پڑھ لیجۓ توبات جلدی سمجھ آجاۓ گی۔
یااللہ! تو اپنے احکام کا اتباع کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرما (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button