کالم/بلاگ

جبری گمشدگیاں اور جعلی مقابلے

 عجب تماشہ ہے ، ایک طرف تو ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں اور بھارت کو ایک پیچ پر ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے ، دوسری جانب جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے ، وزیر اعظم سے کوئی پوچھے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈلوانے میں سیاسی جماعتوں کا کیا کردار ہے ، عام پاکستانی پہلے ہی بے آسرا ہے ، اب باقاعدہ قوانین بنا کر اسے سرکاری اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا کہاں کی انسان دوستی ہے ، اپوزیشن کی بات میں وزن ہے کہ اگر حکومتی موقف مان لیا تو بچی کھچی شھری آزادیاں بھی سلب ہو جائیں گی ،ان سطور کے تحریر کیے جانے تک سیکورٹیز اینڈ ایسچینج کمشن کے جوائنٹ سیکرٹری ساجد گوندل لاپتہ ہیں ، انہیں اسلام آباد سے اٹھایا گیا ، بظاہر یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں کو شک ہے کہ جنرل ( ر) عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے کاروبار کے بارے میں صحافی احمد نورانی کو کچھ معلومات ساجد گوندل نے فراہم کیں ، اب دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ ساجد گوندل صیح سلامت اپنے گھر لوٹ آئیں ،ملک میں آخر ہو کیا رہا ہے ، تربت کا واقعہ دیکھ لیں ، ماں ، باپ کے سامنے بے گناہ جوان بیٹے کو 8گولیاں مار دی گئیں ، مقتول حیات بلوچ کراچی یونیورسٹی میں شعبہ فزیالوجی میں فائنل ا ئیر کا طالب علم تھا۔ پچھلے ماہ آبائی علاقے میں والدین کے ساتھ مل کر کھجوروں کے باغ میں کام کررہا تھا۔ قریب سے ہی دھماکے کی آوازآئی اور کچھ ہی دیر کے بعد فرنٹیر کور کے اہلکار باغیچے میں گھس آئے۔ دھماکہ ان کی گاڑی کے قریب ہوا تھا۔اہلکاروں نے کوئی سوال جواب کیے بغیر حیات بلوچ کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔والدین منتیں کرتے رہ گئے مگر سننے والا کون تھا؟ سوشل میڈیا کا بھلا ہو۔اس خونریز واقعے کی پوری ویڈیو سامنے آگئی۔یوم آزادی کے موقع پر تمام حقائق کھل کر سامنے آ گئے تو ایف سی کے ایک اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا۔مقتول طالب علم کے والد نے اسکی شناخت بھی کرلی۔اب آئی جی ایف سی کاموقف ہے کہ یہ ادارے کی نہیں بلکہ ایک شخص کی غفلت ہے۔میجر جنرل سرفراز علی نے سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں ایف سی کے 3اہلکار زخمی ہوئے تھے۔حیات بلوچ اپنے والدین کے ساتھ کھجوروں کے باغ میں کام کر رہاتھا۔ہم نے اسے پوچھ گچھ کیلئے بلا کر سائیڈ پر بیٹھایا ہو اتھا کہ ایک اہلکار نے اچانک فائرنگ کردی۔ واقعہ پر احتجاج ہوا تو میجر جنرل سرفراز علی مقتول طالب علم کے گھر گئے اور انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ لیکن آگے کیا ہو گا وہ سب کو پتہ ہے۔ایس ایس پی راﺅ انوار کے ہاتھوں نقیب اللہ محسودکی جعلی مقابلے میں ہلاکت کے بعد خود آرمی چیف نے مقتول کے والد کو انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر سب وقت کے دھندلکوں میں گم ہو کر رہ گیا۔اب اگر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ادارے کی نہیں بلکہ کسی افسر یا اہلکار کی غلطی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخراس میں اتنا اعتماد کیسے آ جاتا ہے کہ کسی بے گناہ کو چھلنی کر دے۔یقیناً اسے خوب اچھی طرح سے علم ہوتا ہے کہ چاہے جتنا مرضی شور مچا لیاجائے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔وہ اگر گرفتار ہوگا تو راﺅ انوار کی طرح اپنے گھر پر رہے گا۔اگر جیل میں ہوگا تو تمام سہولتیں میسر ہونگی،اور جلد باہر آ کر بحال ہو جائے گا بلکہ ترقی بھی پائے گا۔یہی اعتماد اس معاشرے میں بڑے فساد کی جڑ ہے۔تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ وردی پوشوں کے ہاتھوں انسانی جانیں چلی جائیں تو صرف چند روز کیلئے خبر بنتی ہے اور اسکے بعد یہ باب ہی بند ہو جاتا ہے۔پاکستان میں طاقتور لوگ اور گروہ نہ صرف ہر طرح کے قانون سے بالا تر ہیں بلکہ وہ قانون کی اپنی من چاہی تشریح بھی کرا لیتے ہیں۔اس کا یہ مطلب ہر گزنہیں کہ باشعور طبقات ان گھناﺅنے مظالم کے خلاف آواز اٹھانا بند کردیں،زندہ معاشروں کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے عوام اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوتے۔اگر ہمارے ہی کچھ لوگ طاقتور گروہوں کا آلہ کار اور ٹاوٹ نہ بنیں تو سرکاری اداروں کی ایسی لا قانونیت سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ ،پولیس کو ہی دیکھ لیں ،جنرل ایوب خان کے دورسے جعلی مقابلے ہو تے آ رہے ہیں،شور مچتا ہے،خبریں آتی ہیں پھرسب کچھ معمول پر آجاتا ہے۔کیوں کہ مضبوط نظام انصاف ہماری حکمران اشرافیہ کی ترجیح ہے ہی نہیں۔ہر کوئی بس اتنا چاہتا ہے کہ وہ اپنا اور ا پنے جیسوں کا رعب ودبدبہ قائم رکھنے کیلئے پولیس کو استعمال کرے،جعلی پولیس مقابلے درحقیقت اس بات کا واشگاف اعلان ہوتے ہیں کہ عدالتی نظام کا جنازہ نکل چکا ۔ایسا نہیں کہ جعلی مقابلوں میں صرف بے گناہ ہی مارے جاتے ہیں یقیناً بعض شقی القلب مجرموں کو بھی موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔لیکن کیا پولیس جیسے کرپٹ،نالائق اور موقع پرست ڈیپارٹمنٹ کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ کسی کی زندگی اور موت کے فیصلے خود کرے،ہر گز ہرگز نہیں،تبدیلی کی دعویدار حکومت آنے کے بعد معاملات اور گھمبیر ہو گئے ہیں۔سانحہ ساہیوال کے بعد حکومت نے پورا زور لگا کر جس طرح سے بے گناہ خاندان کا قتل عام کرنے والے اہلکاروں کو بیل آﺅٹ کیا ۔وہ ریکارڈ کا حصہ بن چکا۔پولیس کلچر تو تبدیل نہ ہوسکا ہاں مگر وارداتوں میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو گیا۔ موجودہ حکمرانوں کو بھی لے دے کر صرف یہی بات سمجھ آتی ہے کہ پولیس کی کارکردگی ظاہر کرنے کیلئے جعلی مقابلے کیے جانا ضروری ہے،ان دو سالوں کے اندر دھڑا دھڑ پولیس مقابلے میں ہو رہے ہیں بعض مقامات پر پولیس کے ہاتھوں مرنے والوں کے ورثاءنے ایک دو دن تک احتجاج بھی کیا مگر پھر حکومت اور فورس کی طاقت کے سامنے جھکنا ہی پڑا، روٹین بن چکی کہ جعلی مقابلے میں کوئی بے گناہ مارا جائے تو ورثاءکے احتجاج کی شدت دیکھ کر ایک، دو اہلکاروں کی گرفتاری ڈال دی جاتی ہے۔ بڑے بڑے افسر مقتول کے ورثاءکو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہر صورت انصاف ملے گا۔اخبارات اور چینلوں میں خبریں چلتی ہیں کہ قصووار اہلکار گرفتار کرلیے گئے،گرفتار ہونے والے حوالات میں ہو ں یا جیل میں انہیں ہر طرح کی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں،اعلیٰ حکام ہر روز پیغام بھجواتے ہیں کہ بس چنددن اور جیسے ہی معاملہ ٹھنڈا ہوگا تم باہر آ جاﺅ گے اور بحال ہو کر پھر سے یہی کام کروگے،اس دوران ورثاءکو پہلے جھوٹی تسلیاں دی جاتی ہیں،پھر علاقے کے نام نہاد معززین کو بیچ میں ڈال کر دباﺅ میں لایا جاتا ہے۔انصاف کی تلاش میں دربدر مارے پھرنے والے ورثاءکو دھمکایا جاتا ہے،ایک مرحلہ وہ آتا ہے کہ زندہ رہنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم مرنے والے کے ساتھ تو مر نہیں سکتے،جو زندہ ہیں ان کو بچانے کیلئے مقدمے سے ہی دستبردار ہو جاتے ہیں،صرف جعلی مقابلوں کے ذریعے ہی لوگوں کو موت کے گھاٹ نہیں اترا جا تا بلکہ بعض کو جیتے جی مار دیا جاتا ہے،زندہ لاش بنا دیا جاتا ہے،ابھی چند ہفتے قبل لاہور میں ڈیفنس پولیس کے اہلکاروں نے چوری کے الزام میں ایک گھریلو ملازم کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا،ٹارچر سیل میں لے جا کرکئی جگ لسی کے زبردستی پلائے اور پھر اسکے عضو مخصوص کو رسیوں سے باندھ دیا،پیشاب رکنے سے انفیکشن ہوئی اور پیپ پڑ گئی تو اسے مانوالہ لے گئے،مقامی ڈاکٹر کے پاس اسکے سوا کوئی اور راستہ نہ تھا کہ ملزم کو ہمیشہ کےلئے مردانہ صفات سے محروم کرکے اسکی جان بچا لے،سو ایسا ہی ہوا، یوں ایک انسان زندہ لاش بن کررہ گیا، دو تین دن خوب شور مچا مگر اب معاملہ دب چکا ہے،یقیناً پولیس والوں نے اسے اور اسکے ورثاءکو اپنی طاقت اور نام نہاد معززین کی مدد سے اسے قسمت کا لکھا جان کر خاموش رہنے پر مجبور کردیا ہوگا،پولیس کے ٹاوٹ معززین بھی بہت بڑے وار داتیے ہوتے ہیں،تاجر برادری اس حوالے سے بہت آگے ہے، مارکیٹوں میں اکثر ایسے بینر لگے ہوتے ہیں جن بھی نئے آنے والے پولیس افسروں سپر ہیرو بنا کر خوشامد کی جاتی ہے،ہر طرح کے لو گ پولیس کے ٹاوٹ ہوتے ہیں صحافی بھی اس سے مبرا نہیں،ایک مرتبہ ایک کرائم رپورٹر سے کوئی ایسا کام کہا جس کی تفصیلات مکمل طور پر آگاہ تھا ،اس نے جوابا میرے “علم “میں اضافہ کرنے کی کوشش کی،تو مجھے تنگ آ کر کہنا پڑا میں نے آپکو کام کرانے کا کہا ہے ،پولیس کا موقف نہیں پوچھا۔
پولیس کے مظالم اور جعلی مقابلے آئے دن بڑھتے جا رہے ہیں ،سب سے خطرناک بات لوگوں کو غیر قانونی طور پر اٹھانا ہے،پولیس کا نظام درست کرنے کیلئے صرف لا قانونیت پر تلے اہلکاروں کا ہی نہیں ٹاوٹوں کا بھی گھیراﺅ کرنا پڑے گا۔سول سوسائٹی کی آواز اور عدالتوں کے انصاف سے ہی اس عفریت کوقابو کیا جا سکتاہے،ورنہ لا قانونیت کا جن کسی کو کہیں بھی نگل سکتا ہے، ایک حسب حال لطیفہ یاد آگیا ہے،کھاتے پیتے گھرانے کا ایک فرد عمدے کپڑے پہن کر قیمتی گھڑی باندھے ، مہنگے موبائل اورنوٹوں سے بھرے بٹوے کے ساتھ اپنی نئی گاڑی پر جا رہا تھا، موڑ کاٹتے ہی اسے دور ویرانے میں ایک ویگو ڈالے کے پاس سادہ کپڑوں میں چار ،پانچ مسلح بندے کھڑے نظرآئے،وہ دل ہی دل میں دعامانگنے لگا،یا اللہ یہ ڈاکو ہی ہوں۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button