کالم/بلاگ

خبروں کی خبریت اور سرکاری مشینری

 ماضی قریب میں پرنٹ میڈیاء ایک بلند پایہ مقام رکھتا تھا الیکٹرونک میڈیاء میں صرف ریڈیوپاکستان و ایک آدھ غیر ملکی ریڈیو چینل کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن تھاترقی کا دور دور ہ ہواپھر پرنٹ والیکٹرونک میڈیاء کی بھرمار ہوگئی جب پرنٹ میڈیاء کادور تھا اچھے وقتوں میں خبروں کی خبریت پر صاحب اقتدارو افسر شاہی کی ٹانگیں کانپ جاتی تھیں۔الیکٹرونک میڈیاء نے عروج پکڑا تو رپورٹنگ کی دنیا میں انقلاب آگیا پہلے عوام صرف تصاویر کو دیکھ کر اور خبر کی خبریت سے مطمئن ہوتی تھی چونکہ خبر لانے والے اور خبر میں موتی پرونے والے دونوں ہی کمال کی مہارت رکھتے تھے الیکٹرونک میڈیاء نے سب کچھ لائیو دکھانا شروع کردیا مزید مصدقہ خبریت نے عوام کے اعتماد کو مستحکم کردیا۔ موجودہ دور میں جیسے ہی سوشل میڈیاء کی بھرمار ہوئی ہے خبر کی خبریت زوال پذیر ہوگئی راقم خود پرنٹ والیکٹرونک کیساتھ سوشل میڈیاء سے وابستہ ہے فی زمانہ واٹس ایپ گروپس میں آنے والی روزانہ کی خبریں پڑھ کر دماغ کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں اکثر خبریں صرف زاتیات کی گرد گھومتی نظرآتی ہیں رپورٹرز کی بھرمار ہوچکی ہے ۔جیسے جیسے خبر کی خبریت دفن ہوتی جاررہی ہے ویسے ہی پروفیشنل صحافت بھی زلت کے گہرے گڑھے میں دن بدن گرتی جارہی ہے چند معدودوں نے صحافت کی آتما رول دی ہے ایک وقت تھا صحافت میں خبریت کی وجہ سے علاقائی رپورٹرز کو معاشرے میں نمایاں مقام حقیقی حاصل تھا لیکن آج وہ مقام صرف گنتی کے چند افراد کے پاس رہ گیاہے گنتی کے چندلوگ جو خبر کومصدقہ حقائق کیساتھ جان جوکھوں میں ڈال کر سامنے لانے کے باوجود نمایاں مقام حاصل کرنے میں محض اس لیئے ناکام ہیں کہ جاہل اجڈ مڈل وپرائمری پاس سمیت صحافت کی الف بے سے مکمل نابلد عناصر نے جوالزامات و محض پروٹوکول نہ ملنے پر خبروں کا نہ رکنے والاسلسلہ شروع کیاہے وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہاہے۔
خبروں میں خبریت کی انحطاط پذیری نے حقیقی رپورٹر و حقیقی مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے جو کہ عوام الناس سمیت سرکاری ملازمین کیساتھ بھی سخت ذیادتی ہے سرکاری دفاتر میں ملازمین کوبھی مکمل سہولتوں حاصل نہیں ہوتی ہیں۔روزانہ کی بنیاد پر متعدد اضلاع کی سینکڑوں خبریں نظر سے گزرتی ہیں مسائل کا انبار دیکھ کر انتظامیہ کی نااہلی پر دو چارالفاظ نہ چاہتے ہوئے بھی دماغ سے زبردستی لیک ہوجاتے ہیں۔ماضی میں ایک خبر پر بھونچال آجاتاتھا مگر گزرتے وقت کیساتھ یہ بھونچال اب راکھ بن رہاہے محض اس لیئے کے رپورٹرز کے پاس ثبوتوں ودلائل کافقدان ہے زبانی کلامی دعوؤں پر مبنی خبریں دوران انکوائری باعث شرمندگی ہی نکلتی ہیں نااہل نکمے اور کام چور سرکاری ملازمین کو محفوظ رستہ مل جاتاہے سرکاری اداروں میں گڈ گورننس ناپید ہے عوام کو زلیل وخوار ہونا پڑتاہے عوامی مسائل کو سامنے لانا ایک حقیقی رپورٹر کا فرض ہے۔ہماری انتظامیہ کا رویہ بھی خبر کی خبریت کی طرح تبدیل ہوچکاہے افسران و ملازمین کی ان کوتاہیوں کو سامنے صرف ایک حقیقی رپورٹر ہی لا سکتاہے ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایک فریق کو سن کر ہی خبر داغ دیتے ہیں فریق ثانی کا موقف لینا صحافت کا اہم ترین اصول ہے اس اصول کو پس پشت ڈالتے ہیں تیسری بات رپورٹر کی اپنی صلاحیت کاہے کہ وہ فریقین کا موقف لینے کے بعد اگر اپنی رائے شامل کرتاہے تو کیا اس نے اس خبر کی مکمل تحقیقات کیں جس سے واضع ہوسکے سچ اور جھوٹ کیاہے۔ان عوامل کو سامنے رکھ اگر رپورٹنگ کی جائے تو انتظامیہ کو دن میں تارے دکھانامشکل نہیں ہے ماضی میں ڈھیٹ سے ڈھیٹ افسران و ملازمین کا قبلہ ایک رپورٹر کی حقیقی خبر درست کردیتی تھی آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام پرانے و نئے پڑھے لکھے تجربہ کاررپورٹرز جو حقیقی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کی اہمیت وافادیت کو ناگزیر سمجھتے ہیں ان چند معدودوں کو آئینہ دکھائیں جو پروفیشنل رپورٹرز کی جگ ہنسائی کا سبب بن چکے ہیں مزید بن رہے ہیں۔
پنجاب کی انتظامیہ کو چاہیے کہ ایک مہینے کیلئے تمام ڈسٹرکٹ انفرمیشن دفاتر کو یہ حکم جاری کیاجائے تمام چینلز وویب سائیٹ اور اخبارات سمیت سوشل میڈیاء جس میں واٹس ایپ فیس بک شامل ہیں کی خبروں پر نظر رکھ کر انکوائریز کروائی جائیں متعلقہ رپورٹر ز سے ثبوت جمع کرکے اگر خبر سچی ہے تو اس بدانتظامی پر سخت ایکشن لیکر صورتحال کو درست کروایا جائے ثبوت نہ فراہم کرنے پر اس رپورٹر یا ادارے کے خلاف قانونی کاروائی پریس لا ء رولز کو مدنظر رکھ کرکی جائے تاکہ حقیقی مسائل کو سامنے لانے والے رپورٹرز کی حق تلفی نہ ہو مع ملازمین کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو،سب سے اہم بات مفروضات پر مبنی رپورٹنگ سے جو عناصر اپنے ذاتی مفادات کاحصول یقینی بناتے ہیں ان کا خاتمہ ہوسکے۔مفروضات پر مبنی رپورٹنگ سے حقیقی رپورٹنگ کا گلہ گھونٹ دیاجاتاہے حقیقی مسائل کو بھی اس تناظر میں پس پشت ڈال کر بد عنوان کام چور نااہل نکمے عناصر کے بچ نکلنے کا راستہ بھی ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے۔اکابرین صحافت کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کا قلع قمع کرنے کیلئے خود میدان عمل میں اتریں مصلحتوں کو بلائے طاق رکھ کر عوامی مسائل کی ترجمانی کریں تاکہ ایسے زرد صحافت کے علمبرداروں کو پنپنے سے روکاجاسکے۔
ضلع قصور کی تحصیل قصور کے موضع بگری میں تقریبا 45 کنال رقبے کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عابد بھٹی نے واگزار کروایا،قابض گروپ نے خبر وں کا طوفان چلاکرافسر کی عزت پامال کرنے کی مذموم کوشش کر ڈالی جب کے حقائق کے مطابق کچھ قبضہ گروپس نے 45 کنال غیر مسلم شاملاٹ ریکارڈ میں ہیراپھیری کرکے الاٹ کروارکھی تھی شکایت پر سابقہ ڈپٹی کمشنر قصور اظہر حیات نے اسسٹنٹ کمشنر قصور کی زیرنگرانی ایک کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کروائیں،کمیٹی نے فیصلہ دیاکہ یہ سرکاری زمین ہے قبضہ گروپ نے فراڈ کرکے زمین چونکہ فروخت کردی تھی اس لیئے اب وہ اس فیصلے کے خلاف خبروں کا سہارا لے رہے ہیں بات آتی ہے خبرکی خبریت کی طرف تو یقینی بات ہے متعلقہ رپورٹرز نے سرے سے ہی نہ ہی انتظامیہ کا موقف لیاہے اور نہ ہی انکوائری کمیٹی کے فیصلے کی کاپی یوں یکطرفہ خبرچلاکر غیرجانبدارانہ صحافت و رپورٹرز کی عزت پر شب خون ماراہے۔اگر کمیٹی کے فیصلہ کی کاپی حاصل کی ہوتی یاکرنے کے بعد اگر فیصلہ انگلش میں لکھا ہواتھا خود پڑھ کر یا دوسرے دوستوں سے رہنمائی لی ہوتی تو خبر کا رخ کچھ اور ہوتاہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button