کالم/بلاگ

سرکاری ملازمین سے زیادتی

تبدیلی حکومت نے اپنی انوکھی پالیسیوں اور عجیب و غریب کارکردگی سے یوں تو پورے ملک کو ہی گھما رکھا ہے ، لیکن کچھ ایسے طبقات بھی ہیں جو نیا پاکستان دیکھنے کے شوق میں ایسے رگڑ میں آگئے ہیں کہ اب بچائو کی کی صورت دکھائی نہیں دیتی ، بے تحاشا مہنگائی اور آمدن میں مسلسل کمی کے دونوں پہلو ایک ساتھ چل رہے ہیں ، ماضی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ سرکاری بلکہ نجی ملازمتیں کرنے والوں کو ایک سال کے بعد انکریمنٹ کی صورت میں کچھ ریلیف مل جاتا تھا ،پی ٹی آئی کی حکومت نے ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کردیا کہ ملک کے مالی حالات خراب ہیں ، تنخواہوں میں معمولی اضافہ بھی ممکن نہیں ، سرکاری ملازمین کے لیے یہ اعلان کسی صدمے سے کم نہیں ، خصوصا ایسے حالات میں کہ جب بجلی ، پانی گیس کے یوٹیلٹی بل ہی ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہوں ، تمام لوگ اپنی گزر اوقات اور معاشی منصوبہ بندی اپنے وسائل کے مطابق کرتے ہیں ، سرکاری ملازمین کا مکمل انحصار انکی تنخواہوں پر ہوتا ہے ، یکم تاریخ کو تنخواہ ملتی ہے تو پورے مہینے کی پلاننگ اور ادائیگیوں کا شیڈول بھی ساتھ ہی طے پا جاتا ہے ، مکان اپنا نہ ہو کرائے کی بروقت ادائیگی ، بچوں کی فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات ، خوراک ، لباس ادویات ، خوشی ، غمی کے معاملات پر صرف ہونے والی رقم معمول کی چیزیں ہیں ، ترقی اور معاوضوں میں اضافہ ہر کسی کی خواہش ہے ، کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اسکی تنخواہ کم ہو ،موجودہ حکومت نے اس موقع پر تنخواہوں میں اضافہ نہ کرکے دراصل لاکھوں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کردی ہے ، کیونکہ اخراجات غیر معمولی طور پر بڑھ چکے ہیں ، سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین اور عام لوگ بھی حیران و پریشان ہیں کہ ابھی دو سال پہلے تک سب کچھ روٹین کے مطابق چل رہا تھا ، زیادہ خوشحالی نہیں تھی تو زیادہ تنگی بھی نہیں تھی ، یہ اچانک کیا معاملہ ہوگیا کہ کرپشن اور مصنوعی ترقی کا نعرہ لگا کر ہر کسی کو مالی بحران میں مبتلا کردیا گیا ہے ، اس کے برعکس تمام تر دعوؤں کے باوجود حکمران اشرافیہ کے کھلے خرچے اور اللے تللے بے رحمی سے جاری ہیں ، وزیر اعظم ہاؤس سے لے کر وزارت اعلیٰ ہاوسز تک کے لیے بجٹ بڑھا دیا گیا ، پروٹوکول دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ، ملک میں کوئی کام نہیں ہورہا پھر بھی ریکارڈ قرضے لیے جاچکے ہیں ، یہ رقم آخر جا کہاں رہی ہے ؟ معاملات ایک حد سے زیادہ بگڑنے لگے تو معاشرے کے باشعور طبقات حرکت میں آجاتے ہیں ، یہی وہ موقع ہوتا ہے کہ جب ارباب اختیار کو زمینی حقائق کا سامنا کرتے ہوئے ان مسائل کا حل نکال لینا چاہیے ، کان نہ دھرے جائیں تو خرابی بڑھ کر بڑے بحران میں تبدیل ہوجاتی ہے ، ایسا بحران جس پر قابو پانا آسان نہیں رہتا، سرکاری ملازمین اس وقت نہ صرف معاشی طور پر تنگ ہیں بلکہ انہیں اپنا مستقبل بھی غیر محفوظ نظر آرہا ہے ، صورتحال کا بروقت ادراک کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے اہم رہنماؤں نے آل پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے قیام کا اعلان کیا ، اس تنظیم کے نمائندہ وفد نے اپنے رہنمائوں ایپکا کے خالد جاوید سنگھڑا چیئرمین ، پروفیسر ڈاکٹر طارق کلیم سیکرٹری جنرل اور حافظ عبدالناصر سرپرست اعلیٰ کی قیادت میں ایک نشست میں اپنے پروگرام سے آگاہ کیا ، ان کے مطالبات سن کر کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس چارٹر میں کسی کمی بیشی کی ضرورت ہے ، بالکل جائز اور واضح باتیں کی گئیں ،وفد نے بتایا کہ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ خالی خزانہ کو جواز بنا کر سالانہ بجٹ2020ء میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا مگر کئی طاقتور محکمہ جات ایسے بھی ہیں جن کے الاؤنسز میں بے تحاشا اضافہ کردیا گیا جس سے عملاً ان کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔جس میں عدلیہ اور بیورو کریسی کے ا یگزیکٹو اور یوٹیلٹی الائونس کی شرح اور ایف آئی اے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ،پولیس کیلئے ایگزیکٹوالائونس اور فوڈ اتھارٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کیلئے الائونس کا اجراء شامل ہیں۔ وفد نے ان خدشات کو دہرایا کہ آئی ایم ایف کے دبائو کے تحت اب سرکاری ملازمین کے لیے نئی پالیسی کا اجراء ہونے جا رہا ہے جس کے تحت ملازم کا60سال کی عمر تک سروس کرنے کا تحفظ ختم کرنا،سالانہ انکریمنٹ کو بنیادی تنخواہ نہ بنانا، ملازمین کو پنشن سے محروم کرنا اور ایسے کئی ملازم دشمن اقدامات زیر غور ہیں۔اسی تنظیم کے زیر اہتمام پچھلے ماہ ملتان میں پنجاب بھر کے ملازمین کی تنظیموں کا اجلاس ہوا جس میں آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن،متحدہ محاذ اساتذہ پنجاب ،تحریک اساتذہ پنجاب(کالج ونگ)لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن ،سب انجینئرز ایسوسی ایشن ،انجمن پٹواریان،تعلیمی بورڈ ایمپلائزایسوسی ایشن،کلاس فور ملازمین ایسوسی ایشن سمیت دیگر سرکاری ملازمین کی تنظیموں کے مرکزی عہدیداران نے شرکت کی۔ ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت پاکستان سے اپیل کی گئی کہ’’ دو نہیں ایک پاکستان‘‘بنانے کیلئے وسائل کی منصفانہ تقسیم کرتے ہوئے مختلف محکمہ جات کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تفاوت کاخاتمہ کیا جائے۔اجلاس میں پنجاب حکومت کے دوہرے معیار کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور ملازم دشمن پالیسیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفد کا کہنا ہے کہ اس سال اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں100%سے بھی زائد اضافہ ہو چکا ہے جس سے سرکاری ملازمین کی قوت خرید میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ سرکاری ملازمین کے افراد خانہ کے لیے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا نا ممکن ہو گیا۔کورونا کو جواز بنا کر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھانے کا افسوس نہ ہوتا اگر حکومت تمام ملازمین کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہوئے کسی بھی محکمہ کے ملازمین کو تنخواہوں یا الائونسز میں اضافہ نہ کرتی۔ اس لیے اب لازم ہوگیا ہے کہ تمام ایڈ ہاک ریلیف ضم کرکے نئے پے سکیلز کا اجرا کیا جائے، تمام ملازمین کو بلا تفریق ایگزیکٹو اور یوٹیلٹی الائونس وغیرہ کی ادائیگی کی جائے سکول ایجوکیشن میں ٹائم سکیل نوٹیفکیشن کی واپسی کا خاتمہ،تمام ملازمین کو تاریخ تقرری سے مستقل کیا جائے ، سب انجینئرز کے لیے ٹیکنیکل الائونس کا اجرا ،کالجز کو یونیورسٹیز میں تبدیل کرنے کی بجائے نئی یونیورسٹیز کا قیام عمل میں لایا جائے، چھوٹے گریڈ کے ملازمین کو بھی گروپ انشورنش اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں ، اس طرح دیگر جائز مطالبات بھی حکومت کے سامنے رکھے گئے ہیں ، مقام افسوس ہے کہ ابھی تک ان معاملات پر توجہ نہیں دی جارہی جو ملک بھر کے سرکاری ملازمین میں شدید اضطراب کا سبب بن چکے ہیں ، یہ باشعور طبقہ جانتا ہے کہ مطالبات منوانے اور اپنا حق لینے کے لیے کیا ، کیا جاسکتا ہے ، زیادہ خوش فہمی تو نہیں پھر بھی امید کی جانی چاہیے کہ حکومت ، سرکاری اداروں کے معاملات اچھے طریقے سے چلانے کے لیے یہ جائز مطالبات مان لے گی ، احتجاج کی نوبت آنے سے پہلے ہی ایسا کرلیا جائے تو بہتر ہوگا ، صرف مخصوص اور طاقتور سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں بڑھا کر باقی سب کو بہت ہی افسوسناک پیغام دیا گیا ہے، حکومت اپنی اس غلطی کی تلافی جتنا جلد کرلے اتنا اچھا ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button