اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

آٹھ  اکتوبر 2005جب پاکستان کے شہریوں پہ قیامت ٹوٹ پڑی تھی 

مظفر آباد، باغ، وادی نیلم، چکوٹھی اور دیگر علاقوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ خوفناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ آنے والے زلزلے نے ہر طرف تباہی مچا دی۔

آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ ریکٹر سکیل پر زلزے کی شدت 7.6 تھی اور اس کا مرکز اسلام آباد سے 95 کلومیٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویڑن کے درمیان تھا

مظفر آباد(ویوز نیوز) 8 اکتوبر 2005ء کی ایک چمکیلی صبح تھی۔صبح کے 8 بج کر 528 منٹ ہوئے تھے اور رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوا تھا کہ اچانک مظفر آباد، باغ، وادی نیلم، چکوٹھی اور دیگر علاقوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ خوفناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ آنے والے زلزلے نے ہر طرف تباہی مچا دی۔ آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ ریکٹر سکیل پر زلزے کی شدت 7.6 تھی اور اس کا مرکز اسلام آباد سے 95 کلومیٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویڑن کے درمیان تھا۔ صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 7.6 ریکٹر اسکیل کی شدت سے آنے والا زلزلہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور 2005ء میں دنیا کا چوتھا بڑازلزلہ تھا۔جب کہ اس سے قبل دسمبر 2004ء میں 9.0 ریکٹر اسکیل کی شدت سے انڈونیشیا کے زیر سمندر زلزلے کے باعث اٹھنے والی سونامی کی لہر کے نتیجے میں لاکھوں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ جب کہ ایران کے شہر بام میں 2003ء میں زلزلے سے 30ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس کی شدت 6.7 تھی۔جنوری 2001 میں بھارتی صوبے گجرات میں 20 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
جون 1990ء میں شمال مغربی ایران میں زلزلے کے نتیجے میں 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔جبکہ جولائی 1976ء میں چین میں آنے والے زلزلے سے ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس سے قبل مئی 1970 میں پیرو کے شہر ماونٹ ہواسکاران میں زلزلے اور مٹی کے تودے گرنے سے 70 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔اسی طرح دسمبر 1939ء میں ترکی کے شہر ایر زنکن میں تقریبا 40ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔جبکہ 1935 میں کوئٹہ میں آنے والے زلزلے سے 50 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 1927ء میں چین میں زلزلے کی تباہی سے 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔چین ہی میں 1927 میں ایک اور زلزلے میں دولاکھ افراد ہلاک ہو گئے۔ 1923ء میں جاپان کے شہر اوکلا ہوما میں زلزلے نے ایک لاکھ 40 ہزار افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔
جب کہ چین ہی میں 1920 میں آنے والے ایک زلزلے سے 2 لاکھ 35 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 1908 میں اٹلی میں ایک زلزلہ آیا جس نے 83 ہزار افراد کو ہلاک کر دیا۔
ہفتہ 8 اکتوبر 2005 کے روز آنے والا شدید زلزلہ مقبوضہ کشمیر و پاکستان میں گزشتہ 120 سال کے دوران آنے والا شدید ترین زلزلہ تھا
زلزلہ 2005 تمام ادوار میں ہونے والے زلزلوں میں المیے کے لحاظ سے چودہواں بڑا زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔ صرف پاکستان میں 3.3 ملین لوگ بے گھر ہوئے۔ پہاڑی علاقے میں آنے والے زلزلے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کی جس کی وجہ سے مواصلات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق 8 ملین سے زیادہ آبادی اس المیے سے متاثر ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق 5 ارب ڈالر کی مالیت کا نقصان ہوا، جو تقریبا 400 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ شدید زلزلے کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں آزاد کشمیر اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئیں، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل ہلاکتیں 74,698 تھیں۔ یہ ہلاکتیں 1935 میں ہونے والے کوئٹہ میں ذلزلے سے کہیں زیادہ تھیں۔
یہ زلزلہ بروز ہفتہ پیش آیا، جو علاقہ میں عام دن تھا، اور تقریباً تمام سکول اس دوران کام کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے یہاں زیادہ ہلاکتیں سکولوں اور ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی بتائی جاتی ہے۔ زیادہ تر بچے منہدم ہونے والی سکول کی عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے۔ تفصیلی رپورٹوں کے مطابق شمالی پاکستان میں جہاں یہ زلزلہ رونما ہوا، تقریباً قصبے اور گاوں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ جبکہ مضافاتی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔
اس زلزلے سے آزاد جموں و کشمیر اور صوبہ سرحد کی 15 تحصیلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور مجموعی طور پر 5 لاکھ 70 ہزار گھرانے متاثر ہوئے۔ زلزلے کے بارے میں اطلاعات جوں ہی ملک کے مختلف علاقوں میں پہنچیں سیاسی اور سماجی تنظیموں اور سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے متاثرین کے امداد کے لئے اپنے اپنے طور پر سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔
عالمی امدادی اداروں کے مطابق اس زلزلے میں کل 86,000 لوگ جاں بحق ہوئے لیکن اس کی تصدیق پاکستانی حکومت نے نہیں کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button