کالم/بلاگ

اگرآپ محبّ رسولﷺ۔۔۔ سانحہ پشاور 27اکتوبر 2020

محبت کارشتہ بھی عجیب رشتہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کی ہر ادا اور انداز کا صرف احترام کرتا ہے بلکہ اگر کوٸی شخص کسی کے محبوب کے خلاف معمولی سی نازیبا بات بھی کہے تو انسان اپنے محبوب کی خاطر مرنے مارنے پر تیار ہوجاتا ہے۔
لیکن جب محبوب کے ساتھ احترام، اطاعت واتباع کا رشتہ بھی قاٸم ہوجاۓ توپھر توکسی صورت میں بھی بات برداشت نہیں کی جاسکتی۔یہ تو عام دنیا کا دستور ہے۔
لیکن جب یہ رشتہ ایک مسلمان کا اپنے پیارے حبیبﷺکے ساتھ قاٸم ہوتا ہے تو پھرایک مسلمان اپنا سب کچھ پیارے محبوبﷺکی ایک چھوٹی سی چھوٹی ادا پر قربان کرنے کو تیاررہتا ہے۔
کیونکہ اللہ رب العزت نے بھی قرآن مقدس میں واضع طور پر اس بات کاحکم دیتے ہوۓ فرمایا ہے کہ:
”اےمیرے نبیﷺفرمادیجۓ کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اورتمہاری بیویاں اورتمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کماۓ ہوۓ مال اور تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگریہ تمہیں اللہ سے اور اسکےرسولﷺسے اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالی اپنا عزاب لے آۓ اللی تعالی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا“{التوبہ24}
جس طرح کفار خصوصاً یہودی آۓ روز مسلمانوں کی سب سے محبوب ہستی کی توہین امیز خاکے اور بے حرمتی کرنے کی ناپاک جسارت کررہے ہیں اس کا اصل سبب ہماری اپنی ایمانی کمزوری ہے کیونکہ ہمارے قول وفعل میں تضاد واضح ہے۔
ابھی بھی ہمارے ملک کے وزیر یہ بیان نشر کررہے ہےکہ ہم فرانس سے سفیر کے معاملے پرغور فکر میں ہے افف ہے تمہاری وزارت پر اگر کوٸی قاٸد کے مزار پر نعرہ لگاے فورًاگرفتاری ورانٹ جاری خدا را فورًا فرانس سے مکمل باٸیکاٹ کااعلان کرنے اور تمام مسلمانوں سے اپیل ہے ان کی تمام مصنوعات کاباٸیکاٹ کر کے ایمانی جزبہ اور غیرت مند ہونے کا ثبود دیں۔ایک طرف تو ہم محبّ رسولﷺ ہونے کا دعوی دار ہیں تو دوسری طرف ہم دشمنان رسولﷺ کی تہزیب،کلچر، سیاست اورمعاشی ڈھانچے کو اسلامی نظام پر ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔
اگر ہم حقیقت میں محبّ رسول ﷺ ہیں اور اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو پھر آیۓ دشمنان رسولﷺکامکمل طور پر بایٸکاٹ کرتے ہوۓ اپنی زندگیوں کو اسوةرسولﷺکے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔
آیۓ اب جاٸزہ لیتے ہیں مختلف چیزوں کا کس طرح ہم سیرت رسولﷺسے انحراف کرتے ہوۓ دشمنان رسولﷺ کی پیروی کررہے ہیں۔
اللہ رب العزت نے واضع طور پر اعلان فرمایا کہ عریانی وفحاشی کے قریب بھی مت جاٶ خواہ پوشیدہ ہو یا ظاہری طور پر۔
اسی طرح نبی کریمﷺنے فرمایا جوشخص موسیقی سنتا ہے قیامت کے روز اس کے کانوں میں سیسہ پگھلاکرڈالاجاۓ گا۔
اسلام نے ہر اس راستے کو بند کرنے کا اعلان کیاہے جو مخلوط تعلیم اور رشتوں کے تقدس کو پامال کرتے ہوۓ خاندانی نظام کو تباہ کرنے والا ہو۔
سانحہ پشاور دیکھ لو مسلمانوں اب جاگنے کاوقت آگیا ہے ان پیاروں بچوں کا قصور کیا تھا۔
ہاۓشہید بچوں۔۔۔عظیم بچوں قرآن پڑھنے والے معصوم بچو۔
ان بچوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ مدرسے میں پڑھتے رسولﷺکی حدیث مبارکہ اور رب کا قرآن پڑھتے تھے۔
افسوس وقت کے حکمرانوں انصاف کا ترازو پکڑوں خود بھی انسان بنو ان کو بھی انسان سمجھوں رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
طلبا ٕ کالج،یونیورسٹی کے ہوں یامدرسے اور مسجد کے،مستقبل کا سرمایاہیں۔
میڈیاکالج اور مدرسہ والی فرقہ واریت ختم کرکے برابر آواز اٹھاۓ سانحہ پشاور سکول کاہو یامدرسے کا کیا یہ بچے پاکستانی نہیں ?
ان کی بھی ماٸیں ہیں یہ بھی کسی کے جگر کے ٹکڑے ہیں جن کو بم دھماکے میں اڑا دیا گیا
وطن عزیز میں پس پردہ دہشت گردی کے تسلسل کو برقرار رکھنے والے طاقت یقیناً وہی ہوسکتی ہے جس کا نااسلام سے کوٸی تعلق ناہی پاکستان سے خیرخواہی اورنا ہی شہریوں سے ہمدردی نہ سکول کالج اور مدارس سے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ موجودہ اور ماضی کی کسی حکومت نے تکلیف گوارہ نہیں کی کہ اسلام اور مسلمان دشمن جماعتوں کی خفیہ سرگرمیوں کا جاٸزہ لیا جاۓ ۔
اللہ تعالی ہمیں ہمارے محبوبﷺسے سچی عقیدت نصیب فرمائے جس بغیرت نے غلط جسارت کی اللہ تعالی اس کو نشان عبرت بنائے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button