اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

باسٹھ سال قبل7اکتوبر1958ء کو پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل (ر) سکندر علی مرزا نے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا

بری فوج کے کمانڈر انچیف محمد ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیاگیا،صوبائی اور قومی اسمبلیوں کو تحلیل کیا گیا

 

27 اکتوبر کی رات جنرل برکی، جنرل اعظم اور جنرل خالد شیخ نے سلیپنگ گاؤن ہی میں صدر سے پہلے سے ٹائپ شدہ استعفے پر دستخط لے لیے اور کہا کہ اپنا سامان اٹھا لیں، آپ کو ابھی اسی وقت ایوانِ صدر سے نکلنا ہو گا

لاہور(ویوز نیوز رپورٹ)62 سال قبل آج ہی کے دن پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل (ر) سکندر علی مرزا نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے بری فوج کے کمانڈر انچیف محمد ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔
7 اکتوبر 1958ء کو پاکستان میں پہلا ملک گیر مارشل لاء نافذ ہوا۔ یہ مارشل لاء صدر پاکستان میجر جنرل (ر) اسکندر مرزا نے نافذ کیا تھا اور بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان ملک کے پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر مقرر ہوئے تھے۔ اکتوبر 1958ء تک ملک کے سیاسی حالات بد سے بدترین تک پہنچ چکے تھے۔ مرکز میں وزارتیں ٹوٹنا روز کا معمول بن چکا تھا۔ مغربی پاکستان میں ایک سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب اور مشرقی پاکستان میں اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر شاہد علی اسمبلی کے ارکان کے ہاتھوں قتل ہو چکے تھے۔ بقول ایوب خان ’’وہ لمحہ جس کا مدت سے انتظار تھا، آخر کار آن پہنچا تھا اور اب ’’ذمہ داری‘‘ سے جان چرانا ممکن نہیں رہا تھا۔‘‘
7 اکتوبر 1958ء کو صدر پاکستان میجر جنرل (ر) اسکندر مرزا نے مرکزی و صوبائی حکومتوں اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کو توڑنے، 1956ء کت آئین کو منسوخ کرنے اور ملک میں مارشل لا نافذ کر کے جنرل ایوب خان کو اس کا منتظم اعلیٰ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا تاہم ملک کی صدارت بدستور اسکندر مرزا ہی کے پاس رہی۔ مگر ایوب خان مزید اختیارات چاہتے تھے چنانچہ 24 اکتوبر 1958ء کو انہیں ملک کا وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ ایوب خان نے اسی دن اپنے نئے عہدے کا حلف اٹھایا اور نئی کابینہ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ اس کابینہ میں جنرل ایوب خان کے علاوہ تین فوجی افسران لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان، لیفٹیننٹ جنرل واجد علی برکی اور لیفٹیننٹ جنرل کے ایم شیخ اور آٹھ سویلین وزراء منظور قادر، ایف ایم خان، حبیب الرحمان، ابوالقاسم، حفیظ الرحمن، محمد شعیب، مولوی محمد ابراہیم اور ذوالفقار علی بھٹو شامل تھے۔ مگر ایوب خان اور اسکندر مرزا کے درمیان حائل خلیج مزید وسیع ہوتی گئی۔
تین دن بعد 27 اکتوبر 1958ء کو صبح کے وقت ایوب خان کی کابینہ نے اپنے عہدوں کے حلف اٹھائے اور اسی دن رات دس بجے ایوب خان کی ایما پر تین فوجی جرنیلوں واجد علی برکی، اعظم خان اور کے ایم شیخ نے بندوق کے زور پر اسکندر مرزا سے ان کے استعفے پر دستخط کروا لیے۔ ملک میں طاقت کے تمام منابع جنرل ایوب خان کے اختیار میں آ چکے تھے۔
واضح رہے کہ اسکندر مرزا نے نہ صرف سفارش کر کے جونیئر افسر ایوب خان کو آرمی چیف لگوایا تھا بلکہ مارشل لا سے صرف تین مہینے پہلے ان کی مدتِ ملازمت میں دو سال کی توسیع کی تھی۔ انھی ایوب خان نے مارشل لا کے 20 دن کے اندر اندر اسکندر مرزا کو جہاز میں لدوا کر پہلے کوئٹہ اور پھر برطانیہ بھجوا دیا۔ جب یہ مارشل لا لگا، اس کے تین ماہ بعد انتخابات طے تھے۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم ملک فیروز خان نون کا حکومتی اتحاد جیت جائے گا، اور یہ بھی نظر آ رہا تھا کہ شاید اس کے قمری نہیں بلکہ زمینی ارکان صدر اسکندر مرزا کو دوبارہ صدر منتخب نہ کریں۔ چنانچہ صدرِ مملکت کو عافیت اسی میں دکھائی دی کہ جمہوریت ہی کو راکٹ میں بٹھا کر خلا میں روانہ کر دیں۔ اسکندر مرزا کو جمہوریت اور آئین کا کس قدر پاس تھا، اس کی ایک مثال ان کی سیکریٹری قدرت اللہ شہاب کی زبانی مل جاتی ہے۔ معروف سول سرونٹ اور صاحب طرز ادیب قدرت اللہ شہاب اپنی شہرہ آفاق آپ بیتی "شہاب نامہ” میں لکھتے ہیں کہ 22 ستمبر 1958 کو صدرِ پاکستان اسکندر مرزا نے انہیں بلایا۔
"ان کے ہاتھ میں پاکستان کے آئین کی ایک جلد تھی۔ انہوں نے اس کتاب کی اشارہ کر کے کہا، ‘تم نے اس ٹریش کو پڑھا ہے؟’ جس آئین کے تحت حلف اٹھا کر وہ کرسیِ صدارت پر براجمان تھے اس کے متعلق ان کی زبان سے ٹریش کا لفظ سن کر میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔”
23 مارچ 1956 کو منظور ہونے والے جس آئین کو مرزا صاحب نے کوڑا قرار دیا تھا وہ آئین پاکستان کی دستور اسمبلی نے انھی کی ولولہ انگیز قیادت میں تیار کیا تھا۔ اس آئین کے تحت پاکستان برطانیہ عظمیٰ کی ڈومینین سے نکل کر ایک خود مختار ملک کی حییثت سے ابھرا تھا اور اسی آئین نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا تھا۔
7 اکتوبر کو مارشل لا نافذ کرنے کے بعد اسکندر مرزا کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ آئین معطل کر کے اور اسمبلی تحلیل کر کے انھوں نے درحقیقت وہی شاخ کاٹ ڈالی ہے جس پر ان کا قیام تھا۔ چنانچہ اسکندر مرزا کے سات اور 27 اکتوبر کے درمیانی 20 دن بڑے مصروف گزرے۔ اس دوران انھوں نے پہلے تو فوج کے اندر ایوب مخالف دھڑوں کو شہ دے کر ایوب خان کا پتہ صاف کرنے کی کوشش کی۔ جب اس میں ناکامی ہوئی تو 24 اکتوبر کو ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سے الگ کر کے وزیرِ اعظم بنا ڈالا۔ لیکن ایوب خان کو برابر اسکندر مرزا کی ‘محلاتی سازشوں’ کی اطلاعات ملتی رہیں اور انہوں نے بھی بھانپ لیا کہ اگر آئین نہیں ہے تو پھر صدر کا عہدہ چہ معنی دارد؟ آئینی شاخ نہیں تو پھر صدارتی آشیانہ کیسا؟ چنانچہ 27 اکتوبر کی رات جنرل برکی، جنرل اعظم اور جنرل خالد شیخ اسکندر مرزا کے گھر پہنچ گئے۔ ملازموں نے بہتیرا کہا کہ صاحب اس وقت آرام کر رہے ہیں لیکن جرنیل اتنی آسانی سے کہاں ٹلتے ہیں۔ انھوں نے سلیپنگ گاؤن ہی میں صدر سے پہلے سے ٹائپ شدہ استعفے پر دستخط لے لیے اور کہا کہ اپنا سامان اٹھا لیں، آپ کو ابھی اسی وقت ایوانِ صدر سے نکلنا ہو گا۔ اسکندر مرزا نے اپنے عہدے کے بارے کچھ بحث کرنے کی کوشش کی لیکن بیگم ناہید ایک بار پھر زیادہ معاملہ فہم ثابت ہوئیں اور انھوں نے صرف اتنا پوچھا، "مگر میری بلیوں کا کیا ہو گا؟”

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button