انٹرنیشنلاہم خبریںاہم خبریں

بلدیہ کی سینٹری ورکر خاتون مئیر کا انتخاب جیت گئی،روس میں تہلکہ مچ گیا

مرینا اڈگوڈسکایا کو محض خانہ پُری کے لئے چنائو میں کھڑا کیا گیا تھا، سرکاری امیدوار کو شکست

ماسکو (ویب ڈیسک) روس میں کوئی بلامقابلہ الیکشن نہیں جیت سکتا، کسی بھی الیکشن کے لئے کم ازکم دو امیدواروں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر واحد امیدوار ہو تو کوئی اور ڈمی امیدوار بھی کھڑا کیا جاتا ہے جسے ٹیکنیکل امیدوار کہتے ہیں، اس طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ جیتنے والے کو ووٹروں کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔
پوالخینو نامی ایک گاؤں میں پانچ سال مئیر رہنے والے دوبارہ امیدوار تھے، ان کے مقابلے میں کوئی نہیں آیا تو انہوں نے اپنے دفتر میں صفائی کرنے والی کی منت کی کہ وہ جھوٹ موٹ کھڑی ہو جائے۔ وہ کھڑی ہوگئی، لیکن مئیر صاحب کو یہ مہنگا پڑا، کیونکہ وہ خاتون بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گئی۔ مرینا اڈگوڈسکایا صفائی کرنے جس دفتر میں جاتی تھی، اب وہاں اس کے سربراہ کے طور پر جایا کرے گی.
مرینا کی زندگی تو بدلی ہی بدلی، یہ الیکشن اس لئے بھی پورے روس میں گفتگو اور تبصروں کا موضوع بن گیا ہے کہ ہارنے والے سابق میئر نیکولائی لوکتیف صدر پوتن کی پارٹی کے امیدوار تھے، ان کا کہنا ہے کہ انھیں شکست پر کوئی دکھ نہیں ہیں لیکن وہ پریشان دکھائی دیتے ہیں، وہ مرینا کو کھڑا کرنے پر یقیناً پچھتا رہے ہوں گے۔
انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جی میں نے ہی مرینا کو انتخاب لڑنے کا کہا تھا، میں نے چند اور لوگوں کو بھی کہا تھا لیکن انھوں نے انکار کر دیا، اگر میرے پاس کوئی اور چارہ ہوتا تو میں اسے کبھی نہ کہتا۔ لیکن مجھے اس کی جیت سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ انھیں بہت مبارکباد… لوگوں نے انھیں ووٹ دیا ہے تو پھر ٹھیک ہے.
میں گاؤں چھوڑ کے اب قریبی شہر میں کوئی نوکری ڈھونڈوں گا. وہ مئیر بننے سے پہلے پولیس میں تھے۔
یہ فتح مرینا کے لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ انھوں نے کوئی انتخابی مہم چلائی تھی نہ اپنی جیت کی کوئی توقع تھی۔
فتح کے بعد وہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے مجھے منتخب کر ہی لیا ہے تو میں ان کے لیے کام کروں گی۔
مرینا کی فتح کے فوراً بعد روس کی حزب اختلاف نے اسے پوتن کی جماعت کی شکست کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ ایک اپوزیشن رہنما ڈمتری گوڈکو نے کہا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ووٹرز صدر پوتن کی یونائیٹڈ رشیا پارٹی سے اکتا چکے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button