کالم/بلاگ

تخلیق کا سفر

اردو اور پنجابی کے ممتاز ادیب اور شاعر اظہر جاوید مرحوم کی ادبی خدمات کا سلسلہ ان کی وفات کے بعد بھی جاری ہے، ایک کہنہ مشق صحافی کی حیثیت سے ان کو زبان و بیان پر عبور غیر معمولی تھا، ماہنامہ تخلیق کے بانی مدیر کے طور پر ان کو عرصہ ادارت 1969 سے 2012 میں ان کے انتقال تک جاری رہا، اس دوران تخلیق ایک بین الاقوامی ساکھ کے حامل ادبی جریدے کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا، اظہر جاوید مرحوم کا اوڑھنا بچھونا ہی ادب تھا، ان کی شاہکار تصانیف ناکام محبت، بلغارین افسانے، بڑی دیر ہوگئی، حضرت رابعہ بصری، موت میرے تعاقب میں ہے، غم عشق گر نہ ہوتا پر انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس دیا گیا، اس جہان فانی سے اظہر جاوید کی رخصت انکے اہل خانہ کے ساتھ دنیائے ادب کے لیے بھی بہت بڑا صدمہ تھا، یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ شعر و ادب کے فروغ اور حوصلہ افزائی کا ایک باب بند ہو چلا ہے، ایسے میں ان کے ہونہار صاحبزادے سونان اظہر جاوید نے آگے بڑھ کر علم تھاما اور یہ چیلنج قبول کیا، اسی لیے تخلیق کا یہ سفر آج بھی پوری آب و تاب سے جاری ہے، اشاعت کو 50 سال گزر چکے مگر معیار پر کوئی فرق نہیں آیا، اس کے ساتھ ہی تخلیق ادبی ایوارڈ کے اجرا کا سلسلہ شروع کیا گیا، اب تک یہ ایوارڈ آٹھ نمایاں ادبی شخصیات کو دیا جا چکا ہے، ہر سال شفاف میرٹ سسٹم کے تحت ایک پینل کی مشاورت سے ایوارڈ کے لیے ادبی شخصیت کا انتخاب کیا جاتا ہے، تخلیق کے ادارتی بورڈ اور انتظامیہ کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس دور میں جہاں ادب سمیت ہر شعبے میں ہر کوئی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنائے ہوئے ہے وہاں یہ ادارہ ہر قسم کی گروپنگ سے پاک ہے، سونان اظہر جاوید اور انکے ساتھی تخلیق کے معیار کی طرح ادارے کے زیر اہتمام ہونے والی تقریبات کے معیار پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے، دنیائے ادب کے چاند ستاروں کی ہر نشست پہلے سے زیادہ باوقار ہوتی ہے، اہل شعر و ادب کے لیے تخلیق کی تقریبات میں شرکت اس لیے بھی زیادہ خوشی کا سبب بنتی ہے کہ وہاں ہر طرح کی ادبی شخصیات کیساتھ دانشوروں اور صحافیوں سے ملاقات ہو جاتی ہے، جس طرح تخلیق کے پڑھے بغیر تسکین نہیں ہوتی، ویسے ہی تقریبات میں شرکت کیے بغیر قرار نہیں آتا،رسالے کے سرورق پر سے پتا لگ جاتا ہے کہ نا صرف بہت زیادہ محنت کی گئی ہے بلکہ دل و دماغ دونوں سے کام لیا گیا ہے، ایک عمدہ ترتیب کے ساتھ اداریہ، حمد و نعت، مضامین، منظومات، افسانے، غزلیں، یاد رفتگان، موسیقی، جائزے، یادیں، روداد، خاکے، طنز و مزاح، پنجاب رنگ اور تبصرے شائع کیے جاتے ہیں، اداریے میں حالات حاضرہ پر مدیر کے خیالات زمینی حقائق کے عین مطابق ہوتے ہیں، انجمن خیال کے عنوان سے ایڈیٹر کے نام خطوط میں بہت مفید اور دلچسپ آرا پڑھنے کو ملتی ہیں، تخلیق کی تیاری اور اشاعت کے مراحل کی نہایت باریک بینی سے نگرانی کے عمل میں شامل شخصیات کے نام اتنے بڑے اور مستند ہیں کہ ذوق اپنے آپ بڑھ جاتا ہے، مدیر سونان اظہر جاوید کی ادب دوست اور مہمان شخصیت بالکل اپنے والد گرامی کا پر تو ہے،اسی لیے تخلیق کا سفر آن بان شان سے جاری ہے اور ان شااللہ جاری رہے گا، یہ سطور تحریر کرتے ہوئے تازہ شمارہ میرے سامنے میز پر پڑا ہے،“ غزل کے بانکپن کا شاعر بشیر بدر“ کے عنوان سے اظہر جاوید مرحوم کی ایک نایاب غیر مطبوعہ تحریر بھی شائع کی گئی ہے، ملاقاتوں اور شاعری کے مختلف حوالے دینے کے بعد مصنف لکھتے ہیں کہ ”حوالے دیتا جاؤں اور شعر درج کرتا جاؤں تو بشیر بدر کا ذکر پھیلتا جائے گا اور نہ میرا قلم تھکے گا نہ پڑھنے والے کا جی اکتائے گا، اتنے کم الفاظ میں اتنا زیادہ خراج عقیدت پیش کرنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ خود مصنف کا اپنا علمی اور ادبی مقام کیا ہے“۔
جیسا کہ عرض کیا ماہانہ تخلیق میں اہل ذوق کے لیے بہت عمدہ مواد ہوتا ہے، سو پیش ہے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی سلیمان خمار کی غزل
وہ ہم سے عشق کا اظہار کرکے
گیا ہے روح کو سرشار کرکے
اتارا ہے اسے روئے زمین پر
خدا نے حسن کا شاہکار کرکے
لڑکپن سے ہی ہم نے تخت دل پر
بٹھایا ہے اسے سرکار کرکے
میں اکثر سوچتا رہتا ہوں اس کو
خدا سے مانگ لوں اصرار کرکے
میں کب سے آکے ساحل پر کھڑا ہوں
چلے بھی آو دریا پار کرکے
نہ جانے کس گلی میں کھو گیا وہ
ہماری زندگی دشوار کرکے
وہ خود بھی پھر کہاں سویا سکوں سے
خمار آنکھوں کو شب بیدار کر کے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button