کالم/بلاگ

”حضرت فاروق اعظمؓ اور فکرآخرت“

جوحضورﷺ کے زمانے میں مشیر خاص کے مرتبہ پر فاٸز رہے اور خلیفہ اول کے زمانہ میں اس منصب کے ساتھ ساتھ مدینہ کے قاضی رہے اور ان کےبعد خلیفہ دوم ہوۓ اپنے دس برس کے عہد حکومت میں اشاعت دین،رعایاپروری،عدل وانصاف،مساوات واخوت، صبروقناعت اور اہتمام امور دین کے سلسلہ میں جو خدمات انجام دی وہ تاریخ اسلامی کے واقف سے پوشیدہ نہیں،جس ذات نے نماز، روزہ،حج، زکوۃ اور صدقات کا ہمیشہ اہتمام رکھا۔

جس کے عہد میں ایک ہزار چھتیس شہر مضافات فتح ہوۓ ۔جس کے زمانہ میں چار ہزارمساجد پنج وقتی نماز کے لیے اور نو سو جامع مساجد بنیں۔ جس کے
عہدِ خلافت میں ایرانی وروم جیسی طاقتور حکومتیں مسلمانوں کے زیرنگیں ہوٸیں اورعرب کےباہر اسلام کی عظمت وشہرت کا سکہ بیٹھ گیا ۔جس کی خواہش کے احترام میں آیت حجاب اورآیت اذن نازل ہوٸی ۔جس کے ہاتھوں سینکڑوں مکاشفات وکرامات ظاہر ہوۓ اورپر نصرت الہی اور تاٸید غیبی کا ہمیشہ سایہ رہا جن کے لیے رسول اللہﷺنے زندگی میں جنت کی بشارت دی تھی اس ذات کا قیامت کے تصور اور آخرت کے حساب سے یہ حال تھا کہ ایک روز گھاس کا ایک تنکا زمین سے اٹھا کر فرمانے لگے” کاش میں یہ تنکا ہو تا، کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا“
ایک دن کسی کے گھر کی طرف گزرہوا وہاں کوٸی شخص نماز میں سورة والطور پڑھ رہا تھا جب وہ اس آیت پر{ترجمہ} بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔
توسواری سے اتر پڑے اور ایک دیوار سے ٹیک لگا کر دیر تک بیٹھے رہے اس کے بعد اپنے گھر آۓ تو ایک مہینے تک بیمار رہے لوگ عیادت کو آتے تھے اور بیماری کسی کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔
کبھی کوٸی بیت المال کا اونٹ گم ہو جاتا تو خود تلاش کرنے جاتے ایک مرتبہ گرمیوں میں دوپہر کے وقت گرم ہوا چل رہی تھی اور آپ ایک اونٹ کی تلاش میں جارہے تھے حضرت عثمان نے دیکھا فرمایا:
”اس وقت امیرالمومنین آپ کہا جاتے ہیں اس کام کو کوٸی اور کر لے گا?“
فرمایا قیامت کے دن باز پرس تو مجھ سے ہو گی۔
یمن کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے دریافت فرمایاکہ۔
کیا یمن کے رہنے والے سب چھوٹے بڑے اور امیر غریب یہ حلوہ مہیا کرنے اور کھانے پر قادر ہیں?
ابوموسیٰ اشعریؓ نے انکار کیا آپ نے فرمایا پھر تنہا عمرؓ ایسی قیمتی مٹھاٸی نہیں کھا سکتا اس سے حضرت عمرؓ کے احساس فراٸض کا اندازہ کر لیجۓ۔
آپ فرماتے تھے کہ اگر قیامت کے دن اعلان کیا جاۓ کہ سب لوگ جنت میں جاٸیں سواۓ ایک کے تومجھے خوف ہو گاکہ شاید وہ ایک میں ہوں۔
بلآخر حضرت عمرؓ ایک کافر کے ہاتھ سے زخمی ہوتے ہیں لوگ عیادت کو آتے ہیں اور آپ کو کتاب اللہ کی پیروی اور سنت رسولﷺپر عمل کا واسطہ دے کر مطمٸن کرنا چاہتے ہیں کہ آپ تو شہید ہو کر مررہے ہیں اور شہید کے متعلق حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جنتی ہے جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جاۓ۔
ان باتوں کے جواب میں آپؓ فرماتے:
اے کاش!
اگر میں برابر چھوڑدی جاٶں یعنی میری نیکیاں اور براٸیاں برابرہوجاٸیں اور میں بخش دیا جاٶں تو مجھ پر خدا کی انتہاٸی فضل ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button