کالم/بلاگ

دوسری ہزیمت

 لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں درج کرائے گئے بغاوت کے مقدمے کی طرح کراچی میں گن پوائنٹ پر سندھ پولیس کو استعمال کرنے کی کارروائی بھی الٹا گلے پڑ گئی۔ پی ڈی ایم کے احتجاجی جلسہ عام میں شرکت کے بعد نجی ہوٹل میں مریم نواز کے کمرے پر چھاپے کا مقصد پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو رسوا اور ن لیگ کی قیادت کو ہراساں کرنا تھا ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب اعلیٰ سطح پر طے شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا ، پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ اور کراچی میں بڑے جلسہ عام کے بعد منصوبہ سازوں نے اپنی طرف سے بہت سوچ سمجھ کر پلان تیار کیا تھا ، ان کا خیال تھا کہ پولیس ریڈ کرے گی تو ہر طرف یہی تاثر جائے گا کہ صوبائی حکومت کسی نہ کسی طور پر ملوث ہے ۔کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر ووٹ کو عزت دو ، مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگوائے تو ریاستی سوشل میڈیا فورس ،حکومتی زعما اور فنکار پھٹ پڑے۔ اب یہ علم نہیں کہ انہیں زیادہ غصہ کس نعرے پر تھا ، یا پھر سرے سے غصہ تھا ہی نہیں بلکہ اوپر سے چابی ملی تھی ، بہر حال پارٹیاں بدلنے کے لیے مشہور پی ٹی آئی کے ایک لیڈر کے مفرور بھانجے نے اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کرادی ، یہ قابل ضمانت جرم تھا ۔ پیر کی صبح جس انداز میں مریم اور کیپٹن صفدر کے کمرے پر دھاوا بولا گیا اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرکے یہ ظاہر کرنا بھی مقصود تھا کہ آپ خود کو پاکستان کے کسی بھی حصے میں محفوظ نہ سمجھیں ۔ اس آپریشن کے دوران پولیس اہلکاروں نے پہلے تو منہ اندھیرے فائیو سٹار ہوٹل کا دروازہ بری طرح سے پیٹا ، جب کیپٹن صفدر باہر گئے تو انہیں گرفتاری کا بتایا گیا ، وہ ساتھ جانے کو تیار ہوگئے ، کپڑے بدلنے کے لیے کمرے میں واپس آئے تو مسلح اہلکار دروازہ توڑ کر اندر گھس آئے جہاں ان کی اہلیہ مریم نواز بھی موجود تھیں ۔ دونوں کے اصرار کے باوجود پولیس والوں نے باہر جانے سے انکار کردیا ، کیپٹن صفدر وہی نعرے لگاتے تھانے چلے گئے جو انہوں نے مزار قائد پر لگوائے تھے ،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پیپلز پارٹی کی قیادت اور صوبائی حکومت ہل کر رہ گئی۔ دوسری جانب وفاقی وزرا ، درجنوں ترجمان اور ٹاﺅٹ میڈیا پوری طرح حرکت میں لائے گئے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ یہ کارروائی سندھ حکومت کی رضامندی سے ہوئی ۔ دوسری جانب مریم نواز نے پی ڈی ایم کی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ اس کارروائی میں پولیس کو استعمال کیا گیا مگر انہیں ایک لمحے کے لیے بھی یہ بد اعتمادی نہیں ہوئی کہ اس تمام کھیل میں صوبائی حکومت کا کوئی عمل دخل ہے ۔ اسی دوران یہ خبریں بھی سامنے آگئیں کہ آئی جی سندھ کو صبح چار بجے ان کے گھر سے زبردستی ایک دفتر میں لے جایا گیا جہاں اسی طریقے سے لائے گئے ایڈیشنل آئی جی پہلے سے موجود تھے ، دونوں سے کہا گیا کہ وہ پولیس کے ذریعے کارروائی کرائیں ، سپورٹ اور ہدایات کے لیے ” دوسرے لوگ “ ساتھ موجود ہونگے ، معاملے کی تفصیلات سامنے آنے پر دباﺅ بڑھا ، کیپٹن صفدر کی تو اسی شام ضمانت ہوگئی ، منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ مختلف مقدمات میں پھنسی پیپلز پارٹی کی قیادت زیادہ چوں چراں نہیں کرے گی، یوں یہ معاملہ پی ڈی ایم میں اختلافات کی بڑی بنیاد بھی بن جائے گا مگر سندھ پولیس نے اپنے سربراہ کے اغوا پر سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا ، ایک ہی دن میں پہلے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو پریس کانفرنس کرنا پڑی اور بتانا پڑا پولیس کے ساتھ زبردستی کی گئی ، پی ٹی آئی کے رہنما اور ٹاوٹ میڈیا اچھلنے لگا کہ وزیر اعلیٰ کھل کر نام کیوں نہیں لیتے ، یہ خوش فہمی بھی جلد ہی دور ہوگئی جب بلاول بھٹو زرداری خود میڈیا کے سامنے آگئے اور انہوں نے سیدھا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیٹنٹ جنرل فیض حمید سے مطالبہ کردیا کہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے رات دو بجے آئی جی ہاو¿س کا محاصرہ کیا اور پھر زبردستی ساتھ لے گئے ، آرمی چیف نے جوابا ًبلاول بھٹو زرداری کو فون کرکے بتایا کہ کورکمانڈر کراچی کو انکوائری کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ اس پہلے سندھ پولیس کے تمام چھوٹے بڑے افسروں نے احتجاجاً چھٹی پر جانے کا اعلان کردیا تھا ، بلاول بھٹو ، مراد علی شاہ کے ساتھ آئی جی ہاو¿س گئے ، اظہار یکجہتی کیا اور انصاف کی یقین دھانی کرائی ۔ سو اب احتجاج دس روز کے لیے مو¿خر کردیا گیا ہے ، انکوائری سے کچھ نکلے نہ نکلے مگر اس تمام تماشے سے نئی تاریخ ضرور رقم ہوگئی۔ ایک بار پھر یہ بھی ثابت ہوگیا کہ وزیر اعظم کے عہدے کی اس وقت کیا حیثیت ہے ؟ اہم فیصلے ویسے بھی غیر منتخب اور مشکوک عہدیدار کر رہے ہیں ، امریکہ سے درآمد کردہ قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے حال ہی میں ایک بھارتی چینل کو انٹرویو دیا۔ مثبت رپور ٹنگ ڈاکٹرائن کے تحت اسے اندرون ملک خوب سراہا گیا ، اس انٹرویو میں معید یوسف نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے مذاکرات کے لیے پیغام بھجوایا مگر ہم نے فلاں فلاں شرائط رکھ دیں ، میڈیا کے لیے یہ اطلاع ایک بڑی خبر کی حیثیت رکھتی تھی ، اگلے ہی روز بھارتی وزرات خارجہ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کہہ رہا ہے ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارتی مو¿قف کو دنیا کے سامنے جھوٹا ثابت کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کے ثبوت سامنے لائے جاتے مگر اب تک ایسا کچھ نہیں کیا گیا، ایسی صورتحال پر ایک تجربہ کار سرکاری افسر کا یہ تبصرہ ہے کہ جنرل یحییٰ خان جیسا دور ہے ، جو فیصلے دن کی روشنی میں سوچ سمجھ کر کیے جانے چاہئیں وہ رات کی محفلیں برپا کرنے والے اسی عالم میں کر رہے ہیں ،مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر دفاع و خارجہ امور خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ گوجرانوالہ کے جلسہ میں ان کی تقریر کے بعد عمران خان نے پی ٹی آئی کے ڈار برادران سے کہا ہے خواجہ آصف کو”فکس“ کراو¿ کسی بھی طرح، اس کا ایکسیڈنٹ کروا دو، اس پر ڈرگز ڈلوا دو یا گاڑی سے اتار کر مارو یا اسے پکڑ کر اسکا منہ کالا کردو لیکن کچھ کرو اس کا۔ یقیناً یہ مخبری کسی نے اندر سے ہی کی ہے ، خود ڈار برادران چاہیں بھی تو ایسا رسک نہیں لے سکتے ، لیکن اس سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ حکمران ٹولے کو ملک چلانے میں کوئی دلچسپی ہو نہ ہو خانہ جنگی کرانے کا شوق ضرور ہے ،بعض لوگوں کے یہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ کشمیر کا معاملہ “ نمٹ “ چکا ، اب اگر عالمی فضا بدلنے کے دوران اسرائیل کو تسلیم کرلیا جائے تو بین الاقومی حمایت حاصل کرکے اقتدار پر کنٹرول کو مزید مستحکم بنایا جاسکتا ہے ، یہ وقت ہی بتائے گا کہ اس مفروضے میں کتنی جان ہے ، اس وقت تک تو حکمران ٹولے کے پاس ریاستی طاقت استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ، ایسی کوئی بھی کارروائی اپوزیشن کو مزید مشتعل کرے گی جو ہر صورت حکومت گرانے پر تلی بیٹھی ہے ، بعض حلقے کسی گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دے رہے ہیں ، یہ ماضی میں بھی پیش کی جاتی رہی، حتیٰ کہ پی ٹی آئی کے حامی اور اپوزیشن کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی اپنے دور میں ایسا ہی مشورہ دیا تھا ، آج عالم یہ ہے کہ کوئی فریق ، دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ، ایسے میں صدر علوی کو ثالث بنانے کی بات کرنا مضحکہ خیز ہے ، پی ٹی وی حملہ کیس کے حوالے سے ان کی آڈیو آج تک کسی کو نہیں بھولی ، نواز شریف نے گوجرانوالہ کے جلسے میں بعض شخصیات کا نام لیا اور پھر یہ بھی کہا کہ وہ عدلیہ کو بھی دبا رہے ہیں ،ایسے میں ثالثی کا کوئی امکان پیدا ہو بھی جائے تو میزبانی کون کرے گا ؟ انتقامی کارروائیاں کی گئیں تو اپوزیشن بھی مزید پتے شو کرے گی ، احتجاجی جلسوں کی کامیابی کے بعد سندھ پولیس کا معاملہ منصوبہ سازوں کے لیے دوسری ہزیمت بن کر سامنے آیا ہے ، ویسے ہزیمت کے لیے احساس کا ہونا ضروری ہے ، یہاں تو کئی ایسے واقعات ہوچکے جب ناکامیوں کو بھی تاریخی کامیابیاں بنا کر پیش کیا گیا، تو کیا کوئی نتیجہ طاقت کے استعمال سے ہی نکلے گا ، ایسا ہوا تو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button