کالم/بلاگ

چینج

 

ہم میں سے 95% لوگ changes کو ایکسپٹ کرنے سے ڈرنے ہیں وہ سمجھتے ہیں جو جیسا چل رہا ہے چلنے دو، انکی روٹین میں ذرا سا بدلاؤ ان کو چڑچڑا بنا دیتا ہے اور اگر یہی changes ان کو مجبوراً adopt کرنی پڑیں تو شروع میں تھوڑی بہت مشکلات ہوتی ہیں پھر اس کے بعد وہ ان کے ساتھ کمپرومائز کانا سیکھ جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب انکو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ والا وقت اور حالات پہلے والے سے کئی گنا اچھے ہیں

"جو آپ کو چھوڑ کر چلا گیا اسکی سزا آنے والے کو مت دیں”

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں نا کسی کے جانے سے آپکو اپنی جان نکلتی یا سانس رکتی محسوس ہوتے ہے تو آپ اس شخص کو آزاد کر کے دیکھیں، یقین کریں چند دن لگیں گے آپکو نارمل ہونے میں اور یہ سمجھنے میں کہ اسکا جانا ہی آپکے لئے بہتر تھا جو آپکو چھوڑ گیا اسے جانے دو اسکی سزا آپ آنے والے کو مت دیں آپ آنے والے کو کھلے دل سے accept کریں، جسے آپ کھونے سے ڈرتے تھے تب آپکو realize ہو گا کہ آنے والا اس سے زیادہ اچھا ہے جو آپ سے چھوٹ گیا تھا

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپکو چھوڑ جانے والا شخص آپ سے بہت محبت کرتا تھا تو آپ غلطی پر ہیں کیونکہ محبت کرنے والے حالات کیسے بھی ہوں چھوڑ کر نہیں جایا کرتے ہر حال میں ساتھ نبھاتے ہیں چاہے دنیا آپکے خلاف ہی کیوں نا ہو، میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ جانے والے کو بھول کر آنے والے کے ساتھ نبھائیں، بلکہ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ چھوڑ جانے والے کو ہمیشہ یاد رکھیں تاکہ آپ کا پچھتاوا ہمیشہ رہے کہ کیوں آپ نے کیوں کسی ایسے کو اپنے جذبات کی رسی پکڑا دی اور اسے اتنی اجازت دے کہ وہ آپ کے جذبات ساتھ کھیل جائے

سائیکالوجسٹ کہتے ہیں کہ breakup کے بعد لوگ شروع میں روتے ہیں، شکوہ کرتے ہیں، کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں، اور صرف اس پہ سوچتے ہیں کہ جانے والا آپکو کیوں چھوڑ گیا آپکے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا ؟؟؟
تب انسان کو زیادہ دکھ اپنی بے قدری پر ہوتا ہے، ہم کسی کو اس قدر اپنا مان لیتے ہے کہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ چھوڑ بھی سکتا ہے، ہم سامنے والے اتنا اعتبار کرتے ہیں کہ ہم ایک بار یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وہ ہمارا اپنا بھی رہا ہے کہ نہیں

ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہماری نیت صاف تھى اور صاف نیت والے سے اللہ کبھی بھی لاتعلق نہیں رہتا اس لئے اپنے رب پر یقین رکھیں کہ وہ آپکے جذبوں کو ضائع نہیں ہونے دے گا، وہ بس کسی بےقدرے سے جان چھڑا کر ہمیں کسی قدردان کے ہاتھ میں دینا چاہتا ہے

آپ یہ بات سمجھیں کہ آپ عام نہیں ہیں، آپ میں عام لڑکیوں سے بڑھ کر کچھ ہے ، آپ کی ذات میں ایک وقار اور غرور ہے جو آپ کو باقی سب سے منفرد بناتا ہے اپنے ساتھ ایسا مت ہونے دیں کہ جسے آپ اپنے پلکوں پہ اٹھا کے آسمان پہ بٹھانے جا رہے ہیں وہ آپکو آپکی اوقات یاد کروا دے، خود کو بے مول مت کریں آپ دنیا میں کسی کی ضرورت بن کر نہیں آئی ہیں آپ بہت خاص ہیں اور خاص ہی رہیں کس دوسرے کے لئے خود کو عام نا کریں

اللہ ہم سے بہت بہت زیادہ محبت کرتا ہیں ہے اس سے ہمیشہ گمان رکھیں کیونکہ یہ بات میں نے بھی بہت دیر سے سیکھی ہے کہ اللہ پہ یقین اور اپنی مشکل پر صبر کرو تو وہ امید سے بھی زیادہ نوازتا ہے، اس کے اتنے احسانات ہیں کہ اگر ہم ساری زندگی بھی جائے نماز پر گزار دیں تو اس کا شکر اد کر ہی نہیں سکتے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button