کالم/بلاگ

کیا سب متنازعہ ہوگئے ؟

 ابھی تین ماہ پہلے تک سابق سیکرٹری دفاع لفٹیننٹ جنرل ( ر) نعیم لودھی کی جو رائے تھی وہ اب بدل چکی ہے ، موصوف ڈنکے کی چوٹ پر مطالبہ کر رہے تھے کہ سسٹم لپیٹ کر ایک ادارے سے باقی تمام اداروں کو ٹھیک کرایا جائے ، اب خود یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ پورے پاکستان میں کوئی ایک ادارہ بھی ایسا نہیں بچا جو غیر متنازعہ ہو ، سو اب وہ نئے سوشل کنٹریکٹ کے لیے ایک قومی ڈائیلاگ کی تجویز پیش کر رہے ہیں ، ریاست کے منظور شدہ تجزیہ کار ائر مارشل ( ر) شاہد لطیف تو اس سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں ، ایک نجی محفل میں انکی گفتگو کا کلپ وائرل ہوچکا ، جس میں ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی بری کارکردگی کا بوجھ خود اٹھانے کے باعث پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے ، انہوں نے توسیع کے معاملے پر بھی اعتراض کیا، ان دونوں سابق فوجی افسران کے خیالات دراصل معاشرے میں پائی جانے والی عمومی رائے کی عکاسی ہیں ، لیکن رائے تو رائے ہوتی ہے کوئی حکم تو نہیں کہ جسے مان کر عمل درآمد کرلیا جائے ، اگر ہم حکومت کی طرف دیکھیں تو وہ مکمل طور پر اپنی ہی ڈگر پر چلتی جارہی ہے ، بے تحاشہ مہنگائی ، کم ہوتے وسائل کے بنیادی مسائل سے یکسر بے پرواہ ہوکر اقتدار کو طول دینے اور اگلی باری بھی لینے کے اعلانات کیے جارہے ہیں ، بڑے بڑے فیصلے پارلیمنٹ سے باہر ہو رہے ہیں ، اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے لیے اداروں کو اتنے برے طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے کہ 1971 کے حکمران ٹولے والی ڈھٹائی یاد آرہی ہے ، اس وقت ملک ٹوٹ رہا تھا اور جنرل یحییٰ اپنی حکومت کو طول دینے کے لیے نیا آئین نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا ، اس حکومت اور اسکے سرپرستوں کے دماغوں میں شاید کوئی ایسا ہی خاکہ ہے ، یہ سوچا جارہا ہے کہ چینی خواہ ڈھائی سو روپے کلو ہی کیوں نہ ہو جائے ہم نے اگلا الیکشن بھی جیت لینا ہے ، بعض حلقے یہ بھی بتاتے ہیں کہ مارچ 2021 میں سینٹ کا مکمل کنٹرول حاصل کرکے آئین کا بنیادی ڈھانچہ بدلنے پر غور ہو رہا ہے ، اسی لیے وقفے وقفے سے صدارتی نظام کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے ، اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا ؟ اس حوالے سے ‘‘ ترجمان ‘‘ شیخ رشید نے روڈ میپ دے دیا ہے ، فرزند راولپنڈی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کو مختلف مقدمات میں گرفتار کرنے کے بعد عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا، اس طرح ملک اور پارلیمنٹ حزب اختلاف کے وجود سے بڑی حد تک پاک ہو جائیں گے ، کہا جاتا ہے موجودہ حکمران گروہ کو اپنی حکومت اگلے کئی سالوں تک جاری رکھنے کا زیادہ یقین اس لیے بھی ہے کہ اقتدار کے غیر سیاسی سٹیک ہولڈروں کی باریوں کا بندوبست بھی ابھی سے کرلیا گیا ہے یہ تو ہے مجوزہ پلاننگ ، اب دیکھنا ہے کہ آخر ہوگا کیا ؟ آل پارٹیز کانفرنس اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے قیام کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ، مقدمات بننے سے لے کر ان کے عدالتی فیصلے تک پیشگی سنا دینے والے شیخ رشید کا اضطراب اسکی واضح مثال ہے ، شہباز شریف کی گرفتاری پر مریم نواز کی سخت پریس کانفرنس کا جواب دینے کی ڈیوٹی ملی تو موصوف کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھی ، اب تو وہ ‘‘ اہلکار ‘‘ اینکر بھی خطرات کی نشاندہی کرنے لگے ہیں جو اس سے پہلے حکومت کے لیے سکون ہی سکون کے دعوے کررہے تھے ، یہ حکومت خود اب تک کسی بھی بحران میں نہیں آئی ، اسکی واحد وجہ صرف ایک پیج ہی نہیں ، دو سال کی ‘‘ خوفناک ‘‘ کارکردگی اور سکینڈلوں کی بھرمار کے باوجود حکومت اس لیے بھی محفوظ ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں اب تک کسی بڑے اور فیصلہ کن اقدام کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہر طرح کے جھٹکے لگ چکے ، آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو آدھی رات کے وقت ہسپتال سے جیل منتقل کیا گیا ، مریم نواز کو نیب نے جیل میں اس وقت جاکر پکڑا تھا جب وہ اپنے قیدی والد سے ملاقات کررہی تھیں ، ایسے کارروائیوں کا مقصد یہ پیغام دیناتھا کہ سزا کے ساتھ توہین بھی برداشت کرنے کی عادت ڈال لیں ، اپوزیشن کے گھاگ سیاستدان اس کے باوجود اس امید پر رہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی ناقص کارکردگی سیلکٹروں کو ان کی جانب نظر کرم پر مجبور کردے گی ، ادھر حکومت کرنے والا کا پلان اور ایجنڈا بہت واضح اور لمبا ہے ، وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ سیٹ اپ میں کوئی خلل پیدا ہو ، عمران حکومت تھوڑا بہت بھی ڈلیور کررہی ہوتی تو ممکن تھا کہ سب ایسے ہی چلتا رہتا لیکن اب آسان نہیں ، اپوزیشن پارٹیوں خصوصا ن لیگ اور جے یو آئی نے حکومت کی بجائے اسے لانے والوں کو براہ راست ٹارگٹ کرلیا ہے ، برسراقتدار ٹولے نے وہی پرانے نیب وغیرہ کے حربے استعمال کرنے شروع کردئیے ، پی ڈی ایم نے ملک گیر احتجاج اور 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں پہلے جلسہ عام کا اعلان کردیا ، نیب کے حوالے سے دلچسپ صورتحال مولانا فضل الرحمن کے کیس کے حوالے سے دیکھنے میں آئی ، پہلے میڈیا کو خبر فیڈ کی گئی کہ مولانا کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے ، جے یو آئی نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نیب کو نہیں مانتے ، اور اسکے خلاف دھرنا اسی مقام پر دیں گے جہاں سے اس ادارے کو سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار بناکر چلایا جارہا ہے ، جے یو آئی کی دھمکی کے بعد کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی ، پھر خبر فیڈ کی گئی کہ کوئی نوٹس جاری ہوا ہی نہیں ، ایسا نہیں کہ نیب اور دیگر سرکاری اداروں کو استعمال کرنے والے فوری طور پر باز آجائیں گے ، ریکارڈ گواہ ہے کہ وہ اپنے شکار کے غافل یا کمزور ہونے کا انتظار کریں گے اور پھر ہلہ بولیں گے ،اس بات کا سیاستدانوں بھی اچھی طرح سے علم ہے ، اسی لیے اپوزیشن اتحاد میں شامل دس جماعتیں فوری اور فیصلہ کن تحریک چلانے کے حق میں ہیں ، اب تک کی اطلاعات یہی ہیں کہ پیپلز پارٹی اس امر پر رضا مند نہیں ، اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی حامی ہے ، حالات جس رخ پر جا رہے ہیں اس تو لگتا ہے کہ احتجاج سے باہر رہنے والوں کے لیے اپنے بچاو کی گنجائش کم سے کم ہوتی جائے گی ، تحریک اگر چل پڑی تو دنوں میں زور پکڑے گی ، پہلے مرحلے کے دوران اسی ماہ ہونے والے جلسوں میں کچھ ایسے مطالبات سامنے آسکتے ہیں کہ فریقین کو فیصلہ کن بازی کی جانب بڑھنا پڑ سکتا ہے ، سقوط کشمیر سمیت کچھ ایسی چیزیں اچھا لی جاسکتی ہیں کہ جس سے وہ بوری ہی پھٹ جائے گی جس میں ہر مخالف کو ‘‘ را کا ایجنٹ ‘‘ قرار دینے کا چورن بھرا ہوا ہے ، لفٹیٹنٹ جنرل ( ر) عاصم باجوہ کے بچوں کی کمپنیوں اور جائیدادوں کا معاملہ بھی شدت سے اٹھائے جانے کا غالب امکان ہے ، یہ معاملہ اصل حکمرانوں کے لیے بھی درد سر بن چکا ، اگر عاصم باجوہ سے استعفی لے کر ان کو صادق اور قرار دلوانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر باقیوں کے متعلق بھی مطالبات آئیں گے ، اگر معاملہ ایسے ہی چلانے کی کوشش کی گئی تو اسے باربار اچھلنے سے روکنا ممکن نہیں ، دونوں فریقوں کے پاس آپشن محدود ہیں ، پی ٹی آئی سیاسی میدان میں بھی پٹ رہی ہے ، عین ممکن ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کو انگیج رکھنے کے لیے ایم کیو ایم کو پھر کھڑا دیا جائے ، آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تمام ‘‘ محب وطن ‘‘ پراکسیز ‘‘ کو متحرک کردیا گیا ہے ، کوئی سیاستدانوں کے درپے ہے تو کوئی آزاد میڈیا پر حملہ آور، کوئی غیر جانبدار ججوں کو نشانہ بنا رہا ہے ، ظاہر ہے اس کا جواب تو آئے گا اور آنا شروع بھی ہوگیا ہے ، ایسے میں تمام شخصیات بھی سیاست زدہ ہوکر سامنے آئیں گی جو اپنے اداروں کی آڑ کر اس کھیل میں پوری طرح سے شریک ہیں ، کیامضحکہ خیز صورتحال ہے کہ حکومت وقت کے وزرا پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپوزیشن کو کسی غیر آئینی کارروائی ( مارشل لا ) سے ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں ، بعض احمق اور بوکھلائے وزرا کچھ طاقتور شخصیات کے حوالے دے کر کہہ رہے ہیں وہ سب کو مزہ چکھا دیں گے ، آنے والے دنوں میں ایسے ایسے واقعات رونما ہوسکتے ہیں کہ حکومتی رٹ کا تماشہ بن جائے ، گلگت بلتستان کے انتخاب ہو بھی گئے تو نتائج پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے ، الگ صوبہ بنانے کے معاملے کو کشمیر پر بھارتی کارروائی جائز قرار دینے کی کوشش کہہ کر اپوزیشن پہلے ہی اس بارے میں بڑا کارڈ کھیل چکی ہے ، یہ صرف دیگ کا ایک دانہ ہے ، اب نجانے کیا کیا متنازعہ ہوگا ، توقع کی جانے چاہیے کہ مختلف اداروں میں موجود شخصیات خود کو اپنے آئینی اور قانونی فرائض تک محدود رکھیں گی ، ادارے قوم کا اثاثہ ہیں کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ انہیں اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرے ، اس تمام معرکہ آرائی میں ایسا ہوتا نظر آرہا ہے کہ وہ بھی لپیٹ میں آجائیں گے جو پہلے کبھی نہیں آئے ، عمران خان کوئی تبدیلی لائے تو وہ یہی ہوگی کہ انکی حکومت کی منفی کارکردگی نے بڑے بڑوں کو نقاب کر ڈالا ، ‘‘ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے ‘‘والے حالات پیدا کردئیے ،سب کے یکساں احتساب کی بات عوام میں اتنی کھل کر پہلے کبھی نہیں ہوئی جتنی اب ہورہی ہے ، سیاستدانوں کے ساتھ ججوں ، جرنیلوں سمیت سب جواب دہ ہوں تو پھر جھگڑا ہی کیا رہ جائے گا ، آج عالم یہ ہے صرف مخالفین رگڑے جا رہے ہیں ، جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ کو ایف بی آر کے چکر لگوائے جارہے ہیں میر شکیل الرحمن کو ریاست نے یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے ، اب نظام چلے تو کیسے چلے ، عوامی احتجاج کے دوران حساس مقامات پر دھرنے دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو رکے گا نہیں ، جھجک کا پردہ پڑا رہے تو اچھا ہے مگر اس کا فیصلہ کسی ایک نے نہیں دونوں فریقوں نے کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر کرنا ہے ، لندن سے تیز وتند بیانات کے بعد حکومت نے نواز شریف کو اشتھاری قرار دینے کی کاروائی شروع کردی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فاضل جج محسن اختر کیانی نے کہا مجرم باہر بیٹھ کر عدالت پر ہنس رہا ہے ، یہ شرمناک ہے ، وہ جانتا ہے نظام کو شکست دے کر گیا ، جج صاحب کے ریمارکس اپنی جگہ مگر کس کو پتہ نہیں کہ نواز شریف باہر کیسے گئے ، کوئی جیل نہیں توڑی ، قطر کا شاہی طیارہ لے کر گیا ، یہ این آر او تھا تو فریقین کی رضا مندی سے ہی ہوا ، کیسے ہوا محمد زبیر کو بلا لیں ، مولانا عبدالغفور حیدری سے بھی پوچھا جاسکتا ہے ، حکومت نے صاف کہہ دیا تھا کہ ہمارا کوئی تعلق نہیں ‘‘ محکمہ زراعت ‘‘ سے پوچھیں ، شہزاد اکبر کمزور آدمی ہیں یہ بیان دے کر آدھی رات کو مکر گئے، عدالت کو تو اختیار حاصل ہے جسے چاہیے بلا کر سچائی جان سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button