کالم/بلاگ

”حضرت عثمان غنیؓ اورفکرآخرت“

جو رسولﷺ کے رفیق کار اور کاتپ وحی تھے جو
ان دس صحابہؓ میں سے تھےجنہیں حضرت عمرؓ نے
”اہل شورٰی“ تجوید کیا جن کو رسولﷺ نے بعض مواقع پر مدینہ میں اپنا قاٸم مقام تجوید کیا تھا جو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے مشیر خاص رہے جس ذات کے عقد میں نبیﷺ کی دوصاحبزادیاں{حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ}آٸیں اور جن کی وجہ سے آپ ذوالنورین کے لقب سے سرفراز ہوۓ۔
جس ذات نے قرآن کریم کو رسولﷺکے زمانے کے مطابق جمع کیا جس ذات نے کثرت کے ساتھ غلام آزاد کۓ اوراگر اتفاقاً سہو ہوا تو قضا ٕ کی جنہوں نے
مع اہل وعیال کے سب سے پہلے حبش کی جانب ہجرت کی ۔
جس پر رسولﷺ نے فرمایا:
”عثمانؓ مجھ سے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے بہت مماثل ہیں“۔
حضرت عثمانؓ اکثر فرماتے تھے
”دنیا میں قصاص کا ہو جانا اور اپنی غلطی کی سزا بھگت لینا آخرت کے قصاص اور عزاب سے بہتر ہے“
جن کی امداد کو غزوہ تبوک کے موقع پر رسولﷺنے دیکھ فرمایا تھا۔
{آج کے بعد عثانؓ کا کوٸی کام انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گا}
جن کی رفاقت کو حضورﷺنےاپنے لیے منتخب فرمایا آپﷺ نےفرمایا
{ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہو گا اور میرا رفیق عثمان بن عفانؓ ہوگا}
جس ذات کے متعلق حضرت عبداللہ بن شدادؓ کہتے ہیں
”میں نے حضرت عثمانؓ کو اس کے زمانہ خلافت میں جمعہ کے دن منبر پر خطبہ پڑھتے ہوۓ دیکھا اس وقت جو لباس وہ پہنے ہوۓ تھے اس کی قیمت چار، پانچ درہم سے زاٸد نہ ہو گی“۔
”میں نے زمانہ خلافت میں عثمانؓ کو دیکھاکہ مسجد میں لیٹے ہوۓ تھے اور سنگریزوں کے نشانات ان کے پہلو میں بن گۓ تھے لوگ کہتے تھے کہ یہ امیرالمومنین ہیں اور اسی حالت میں رہتے ہیں“
حضورﷺکے ساتھ بعض جنگوں میں شرکت کی جنگ بدر کے موقع پرحضرت رقیہؓ کی بیماری کی وجہ سے حضورﷺنے خود ان کی تیمارداری کا حکم فرما۔
مگر بدری صحابہؓ کے اجروثواب میں برابر کی خبر تھی۔
جنگ احدمیں حضرت عثمانؓ نے شرکت کی۔
صلح حدیبیہ کے موقع پرآپﷺکے سفیر کا اعزازحاصل کیا اور جنگ تبوک کے موقع جیش العسرة کو سازوسامان سے لیس کرکے خداوندتعالی کی ابدی رضا کا تمغہ حاصل کیا۔
حضرت عثمانؓ فطرتاً عفیف،پارسا،دیانت داراور
راست بازتھے حیااور رحم دلی ان کی خاص نشانی تھی۔
ایام جاہلیت میں جبکہ عرب کا ہر بچہ شراب میں مست تھااور جب کزب وافترا ٕفسق وفجور عالم گیر تھا آپ کا دامن ان دھبوں سے آلودہ نہیں ہوا رسولﷺکی صحبت نے ان اوصاف کواور چمکایا۔
خوف خدا،حب رسولﷺ،احترام مصطفی،اتباع سنت،حیاو پاک دامنی، زاہد،تواضع،ایثار،فیاضی،
اعزہ احباب کے ساتھ حسن سلوک اور صبر وتحمل کی صفات میں آپﷺکونمایاں خصوصیت حاصل تھی۔
ذوالحجہ کا مہینہ تھا اور جمعہ کا روز حج کو ابھی تین چارروز ہی گزرے تھے۔
حضرت عثمانؓ روزے سے تھے خواب میں دیکھا کہ رسولﷺاورحضرت ابوبکرؓ وغیرہ کہے رہے تھے کہ عثمانؓ صبر کیجٸے آج ہمارے ہاں افطار کریں گےآپ سمجھ گے کہ آج سفر آخرت کا دن ہے آپ ویسے تہبند باندھتے تے۔
پاٸجامہ منگواکر پہناکہ شہادت کے وقت سترنہ کھل جاۓغلاموں کو آزاد کیا قرآن کھول کرتلاوت میں مصروف ہو گے۔
محاصرہ کرنے والے مفسدین کے لیے ناممکن تھا کہ دروازہ سے داخل ہو حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ دروازے پر پہرہ دے رہے تھے اس لیے قاتلین چھت سے گزر کر آپ تک پہنچے مختصر سی گفتگو کے بعد بلوایٸو نے آپ کو شہید کر دیا
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button