اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

سرگودھاریڈیو پروگرام ادب نامہ میں بزم الکرم اور دستک در مقفل پر بات چیت

سرگودھا(رپورٹ :رابعہ بصری، ارشدمحمودارشد )ریڈیو پاکستان ایف ایم 101کے پروگرام ادب نامہ میں آج سرگودھا کی نئی ادبی تنظیم” بزمِ الکرم “’ اور معروف کالم نگار اور شاعرہ محترمہ کنیز بتول کھوکھر کی کتاب” دستکِ درِ مقفل“ (منتخب کالموں کا مجموعہ ) پر تعارفی پروگرام اور گفتگو ہوئی۔
ادب نامہ ریڈیو پاکستان ایف ایم 101پر پیش کیا جاتا ہے جس کی میزبان منزہ انور گوئیندی اور پروڈیوسر فریحہ کنول ہیں۔مہمانوں میں ممتاز عارف ،ارشدمحمودارشد، ڈاکٹر محمد یوسف ، کنیز بتول کھوکھر نے شرکت کی ۔
پروگرام کے پہلے سیشن میں ” بزم الکرم “ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد یوسف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرگودھا ادب کے حوالے سے بہت زرخیز خطہ ہے اور یہاں کی مٹی میں کوئی ایسی خاصیت ہے کہ یہاں کے شاعر و ادب کے فن پارے اپنی الگ ادبی شناخت رکھتے ہیں۔
ہم نے یہ ادبی تنظیم ادب پروری کے جذبے سے بنائی ہے اور خاص ہمارے نوجوان جو ادب سے دور ہوتے جا رہے ہیں ہم انہیں ایک بہتر ادبی پلیٹ فارم مہیا کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہماری خوش قسمتی ہے کہ ملک کے معروف شاعر و ادیب جناب پروفیسر ڈاکٹر ہارون رشید تبسم نے ” بزمِ الکرم“ کی سرپرستی قبول فرمائی ہے اور دیگر عہداران میں جناب ڈاکٹر شفیق آصف ، جناب ذوالفقار احسن اور جناب ارشدمحمودارشد کا ہمارے ساتھ ہیں اور ہمارے کوشش ہوگی کہ ہم مثبت طرز پر ادب کی خدمت کر سکیں۔
ارشدمحمودارشد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد یوسف ادب دوست شخصیت ہیں اور ان کی دلی تمنا تھی کہ وہ ادب کی آبیاری میں اپنا حصہ ڈالیں امید ہے کہ ہم سرگودھا کی ادبی فضا کو متحرک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
محترمہ کنیز بتول کھوکھر نے بھی ”بزمِ الکرم“ کے قیام کو سراہا اور کہا کہ سرگودھا میں ادب کی فضا کو معطر کرنے کے لیے ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے۔
معروف شاعر ، صحافی اور براڈ کاسٹر جناب ممتاز عارف نے اظہارِ خیال کرتے ہوں کہا کہ ڈاکٹر یوسف اور ارشدمحمودارشد کا یہ ایک مثبت قدم ہے اور ہم سب کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئیے

 

 

 

انہوں نے کہا کہ بزمِ الکرم کے سرپرست اعلیٰ ملک کی ممتاز ادبی شخصیت ہیں اور دیگر عہداران ڈاکٹر شفیق آصف اور ذوالفقار احسن بھی متحرک ادبی شخصیات ہیں اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ” بزمِ الکرم “ سرگودھا میں ادبی جمود کی فضا توڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔” بزمِ الکرم“ انتظامیہ کو چاہئیے کہ وہ اپنے رفتگاں کو بھی یاد رکھیں اور انہیں نسلِ نو سے متعارف کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے سرگودھا میں مشاعرے کی روایت کی بنیاد رکھنے والے ممتاز شاعر جناب انور گوئیندی کی خدمات کا بھی تذکرہ کیا اور اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہئیے کہ اپنی نئی نسل کو ان کے کام سے روشناس کرائیں۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں محترمہ کنیز بتول کھول کی کتاب ” دستک درِ مقفل “ کا تعارف کراتے ہوئے پروگرام کی میزبان ، ممتاز شاعرہ و افسانہ نگار محترمہ منزہ انور گوئیندی نے کہا میں کینز بتول کو ان کی کتاب کی دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ اس نے اپنے کام کوضائع ہونے سے بچا لیا کیوں کہ عام طور پر اخباری کالم کی عمر طویل نہیں ہوتی لیکن کتابی شکل میں شائع ہونے سے انہیں طویل عمر نصیب ہو گئی ہے اور کنیز بتول کا یہ کام بہت اہم ہے۔
ڈاکٹر محمد یوسف نے بھی کنیز بتول صاحبہ کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد دی اور ان کے کام کو سراہا۔ ارشد محمود ارشد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کنیزل بتول سے میرا تعارف کوئی دس سال پہلے کا ہے اس وقت انہیں شاعری کا جنون تھا لیکن میں نے انہیں کالم نگاری کا مشورہ دیا اور آج مجھے خوشی ہے کہ ان کا پہلا کالموں کا مجموعہ کتابی شکل میں ہمارے سامنے ہے ان کے کالم اسلامی اور اصلاحی حوالے سے بھی بہت اہم ہیں اور ان کی اپنی الگ چاشنی ہے ۔
ممتاز شاعر جناب ممتاز عارف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ کنیز بتول ، جناب ڈاکٹر ہارون رشید کی شاگردہ ہیں اور ڈاکٹر صاحب نے کبھی اپنا کام ضائع نہیں ہونے دیا۔ ک
ینز بتول نے بھی ان کی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے کالموں کو محفوظ کر لیا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ کنیز بتول کے کالموں کا آہنگ الگ تھلگ ہے اس میں افسانے کی سی چاشنی بھی ہے اور اصلاح بھی۔
آخر میں محترمہ کینز بتول کھول نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جہاد کی ایک صورت قلمی جہاد بھی ہے معاشرے اصلاح کے لیے میں نے قلمی جہاد کا راستہ اختیار کیا راستہ کٹھن ضرور ہے لیکن میں ہمت نہیں ہاروں گی اور اپنے حصے کی شمع جلاتی رہوں گی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button