صحت

سنگھاڑا مفید پھل ہی نہیں دوا بھی

لاہور(ویوز نیوز رپورٹ)سنگھاڑا پانی میں کیچڑ کے نیچے اگنے والا مخروطی شکل کا پھل ہے اور اپنی اس شکل کی وجہ سے ناپسندیدہ لفظ کے طور پر بولا جاتا ہے۔ اس پھل کو اردو میں سنگھاڑا اور انگریزی میں Water Chestnut کہتے ہیں۔سردیاں شروع ہوتے ہی منڈیوں اور بازار میں دکانوں پر گاہکوں کی نظر میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں عام طور پر اس میوے یا پھل کو سنگھاڑا کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ پانی پھل سمیت اس کے متعدد نام ہیں۔

سنگھاڑا پودے کی جڑوں میں اگتا ہے (آلو کی فصل کی طرح) اس کی سبز رنگ کی ٹہنیوں پر پتے نہیں اگتے اور یہ ٹہنیاں ایک سے پانچ میٹر اونچائی تک جاتی ہیں۔ اس کے اندر کا گودا سفید رنگ کا ہوتا ہے جسے عام طور پر کچا یا ابال کر کھایا جاتا ہے اور پیس کر آٹا بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چائنیز کھانوں میں سنگھاڑا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔

سنگھاڑا سردیوں میں منہ چلانے کے لیئے بہترین چیز ہے۔ چونکہ یہ ہلکے بہتے پانیوں پر اُگتا ہے اس لیئے پھل میں اس وقت کچھ نقصان دہ مواد ہو سکتا ہے جب اسے تازہ تازہ فروخت کیا جائے مگر مناسب طریقے سے دھونے کے بعد اس کا توازن بحال ہو جاتا ہے۔ اس کے چھلکے اُتارنے یا کسی مشروب میں ٹکڑے کر کے ڈالنے، سلاد میں اضافے، سوپ، سالن یا کری میں ڈالنے سے قبل سات منٹ تک اُبالا، بھونا یا بھاپ میں رکھا جائے تو بہتر ہے۔ اسے پیزا کی اوپری سجاوٹ کے لیئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ سالم مرغی میں بھرا جا سکتا ہے، اسے پاؤڈر بنا کر کیک اور پڈنگز بنانے کے لیئے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ اچار کے طور پر ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔

سنگھاڑے میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اور کاپر بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اور خستہ ہوتا ہے جب کہ اُبلا ہوا سنگھاڑا اور بھی زیادہ مزیدار اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔ سنگھاڑے کا ذائقہ (Taste) بالکل منفرد ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے بھوک میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ سنگھاڑے میں موجود کیلوریز دوسری سبزپتوں والی سبزیوں کی نسبت کم ہوتی ہیں تاہم اس میں موجود آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک اور فائبر کی مقدار اس کے استعمال میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔

سنگھاڑے کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہوتی اور جسم میں خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد عورت کے لیئے سنگھاڑے کے آٹے کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ سنگھاڑے کے آٹے کو گوندھ کر جسم کی سوجھی ہوئی جگہ پر لیپ کرنے سے تکلیف رفع ہوتی ہے۔ سنگھاڑے کے گودے سے بنایا ہوا سفوف کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔ پانی میں ابال کر پینے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ معدے اور انتڑیوں کے زخم کے لیئے مقوی ہے۔ سنگھاڑے کے استعمال سے بڑھاپے میں یادداشت کم ہونے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔

سنگھاڑا پوشیدہ امراض کے شکار مرد و خواتین کیلئے تحفہ الٰہی ہے۔ یہ کمزور مردوں اور خواتین کے ماہانہ نظام کے لیئے بھی مفید ہیں۔ سنگھاڑے کے سفوف میں دودھ یا دہی ملا کر استعمال کرنے سے پیچش سے آرام آتا ہے۔ ان کے استعمال سے دانت چمکدار اور مسوڑھے صحت مند ہوتے ہیں۔

نومبر کے دوسرے ہفتے سے فروری تک سردی پڑتی ہے، اس میں بھی سنگھاڑا زکام اور سردی کا مقابلہ کرنے میں معاون بنتا ہے۔ پیشاب کی زیادتی بڑے بوڑھوں کو بہت تنگ کرتی ہے۔ خصوصاً سردی کے موسم میں بار بار اٹھنا بہت تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس کیفیت میں چھٹانک پھر ابلے ہوئے سنگھاڑے کھائیے، آہستہ آہستہ مقدار بڑھا دیجیے مگر تین چھٹانک سے زیادہ نہ کھائیں۔ دو تین ہفتے تک کھا لیں۔ اس سے بدن میں طاقت آئے گی اور بار بار پیشاب کی حاجت ختم ہو جائے گی، تازہ نہ ملیں تو تولہ بھر سوکھے سنگھاڑے کا سفوف کھائیں۔

آج کل نوجون لڑکے چٹ پٹے بازاری کھانے اور بھنا گوشت بہت کھاتے ہیں۔ اس سے ان کا معدہ خراب ہوتا اور جسم میں گرمی بھی بڑھ جاتی ہے۔ پھر وہ جعلی حکیموں کے پاس جا کر علاج کراتے ہیں جس سے اور نقصان ہوتا ہے۔ جسمانی کمزوری بڑھتی جاتی ہے۔ طاقت بالکل نہیں رہتی۔ اعصاب ہر وقت تھکن کا شکار رہتے ہیں۔ کام کاج کرنے اور پڑھنے لکھنے میں دل نہیں لگتا بدن کھوکھلے کر دینے والے مادے صحت کو زنگ لگا دیتے ہیں۔ چڑ چڑا پن بڑھ جاتا ہے۔ نقاہت کسی کام کا نہیں چھوڑتی دماغی کمزوری کام نہیں کرنے دیتی۔ ان تمام خرابیوں کو دور کرنے کیلئے سنگھاڑا ایک نعمت ہے۔ صرف سات آٹھ دانے اُبلے ہوئے سنگھاڑے ناشتے میں کھائیں۔

سنگھاڑے کے دیگر فوائد
* سنگھاڑے کے استعمال سے دانت مضبوط اور چمک دار ہو جاتے ہیں۔ اس سے مسوڑھے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
* زخموں سے خون بہنے کو روکتا ہے۔ اسے اندرونی اور بیرونی طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بیرونی طور پر سفوف سنگھاڑا زخموں پر چھڑکا جاتا ہے۔
* گردے کی خرابی کی وجہ سے کھانسی کو فوراً روکتا ہے اور گردے کی اصلاح کرتا ہے۔
* دودھ بیچنے والے سنگھاڑے کے آٹے کو دودھ میں ملا کر ابالتے ہیں تا کہ ملائی زیادہ آئے۔
* سنگھاڑے کا آٹا تین تولے، گھی چھ تولے لے کر آٹے کو اچھی طرح گھی میں بھون لیں۔ بعد ازاں چھ تولہ چینی پانی میں حل کر کے چاشنی بنائیں اور بھنے ہوئے آٹے میں ملا دیں۔ بس سنگھاڑے کا حلوہ تیار ہے۔ جو بے حد مقوی باہ ہوتا ہے۔
* نشے اور خمار کو سنگھاڑا ادرست کرتا ہے۔
* جریان کے علاج میں سنگھاڑے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
* اسے زیادہ مقدار میں کھانے کی صورت میں قولنج یا درد شکم کی شکایت ہو جاتی ہے۔
* حلق کی خشکی کو دور کرتا ہے۔
* امراض قلب میں سنگھاڑے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
* جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے اور جسم کو فربہ کرتا ہے۔
* گردہ اور مثانہ کی پتھری کو توڑتا ہے۔
* صفراوی بخار میں چھ ماشہ سفوف سنگھاڑا ہمراہ پانی کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
* تپ دق، سل کو روکنے اور بیماری کی صورت میں سنگھاڑا کھانا مفید ہوتا ہے۔
* خونی پیچش آنے کی صورت میں سنگھاڑے کا استعمال بے حد مفید ہے۔ اگر تازہ نہ ملے تو خشک سنگھاڑا ایک تولہ رگڑ کر صبح دوپہر اور شام ہمراہ پانی لینے سے فوراً فائدہ ہوتا ہے۔ اسے دہی کے ساتھ بھی کھایا جا سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button