کالم/بلاگ

پی ڈی ایم کو خطرہ نہیں

 بلاول بھٹو کا بی بی سی کو انٹرویو دیکھتے ہی دیکھتے بڑا ایشو بن گیا ، حکومت اور اپوزیشن نے حقیقت حال کا کسی حد تک اندازہ ہونے کے باوجود اپنے اپنے معنی نکالے ، اس انٹرویو کے بعد اتنا پریشر آیا کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ خود میڈیا ہاوسز سے رابطے کرکے وضاحتیں پیش کرتی رہی ، بلاول بھٹو کی گفتگو کے چند نکات بجا طور پر پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں خصوصا ن لیگ کے لیے قابل اعتراض ہوسکتے تھے مگر کسی نے ایسا اظہار کرنے سے گریز کیا ، مریم نواز نے اس معاملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں یہ کہہ کر بات ہی ختم کردی کہ بلاول کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ، ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کی طرح پیپلز پارٹی بھی اپوزیشن اتحاد کے مقاصد کے حصول کے لیے یکسو ہے ۔ برطانوی خبر رساں ادارے کو پیپلز پارٹی کے چیئر مین کے انٹرویو میں کہا گیا تھا کہ گوجرنوالہ کے جلسے میں نواز شریف نے جب آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے نام لیے تو انہیں دھچکا لگا ، بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کو لانے کے لیے دھاندلی کا ذمہ دار کسی ایک فرد کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا ، انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں بطور پالیسی یہ طے پایا تھا کہ جلسوں میں کسی شخصیت یا ادارے کا نام لینے کی بجائے صرف اسٹبلشمنٹ کہا جائے گا ، بلاول بھٹو نے اسی انٹرویو میں یہ پیش گوئی بھی کی کہ جنوری 2021 کے بعد وفاق میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی ، بلاول بھٹو کے اس انٹرویو کا مرکزی خیال صرف اتنا ہے کہ شخصیات کے نام نہیں لینے چاہئیں ، اس سے ظاہر ہوتے ہے کہ انہوں نے ان دو شخصیات کو اپنی جانب سے مثبت پیغام بھیجا ہے جن کے نام نواز شریف باربار لے رہے ہیں ، اور مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان تقریبات اور جلسوں میں اس معاملے کو مزید کھول کر بیان کر رہے ہیں ، اب پتہ نہیں کہ وہ اپنے محسنوں سے دوستی دکھا رہے ہیں یا پھر ان کے لیے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں ، جہاں تک بلاول بھٹو کی بات ہے تو واقفان حال جانتے ہیں کہ ان کی طاقتور شخصیات تک رسائی ہے ، ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں ، پچھلے دنوں بھی ہوئیں ، ان اہم شخصیات کو سندھ کے حوالے سے کوئی کام ہو تو پوری طرح اکاموڈیٹ کیا جاتا ہے ، لگتا یہی ہے کہ بلاول بھٹو نے شخصیات کے نام نہ لینے کی علانیہ لائن گلگت بلتستان کے الیکشن کے پیش نظر لی ، جہاں وہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں ، ‘‘ نادیدہ قوتوں ‘‘ نے گلگت بلتستان کا الیکشن منیج کرنے کے لیے ن لیگ کے کئی الیکٹ ایبل امید واروں کا اٹھا کر وفاداریاں بدلنے پر مجبور کردیا ، یہاں پیپلز پار ٹی کی پوزیشن بھی اچھی ہے مگر اسے ٹچ نہیں کیا گیا ، فی الوقت بلاول بھٹو کی مقتدر حلقوں کے لیے خیر سگالی اسی حد تک ہے ، کیونکہ پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ اگر آج اس سے رابطے کیے جارہے ہیں تو اس کی واحد وجہ مضبوط اپوزیشن اتحاد کا قیام ہے ورنہ باربار فدویانہ رویہ اختیار کرنے کے باوجود اسے خوب رگڑا لگایا گیا ، آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو توہین آمیز طریقے سے گرفتار کیا گیا ، خورشید شاہ آج تک قید میں ہیں ، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کرنے کے لیے کئی مرتبہ مہم جوئی کی گئی ، مقتدر حلقوں کا خیال تھا کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے آدھے سے زیادہ ارکان لوٹے بنا کر یہاں بھی پی ٹی آئی یا بلوچستان کی طرح باپ ٹائپ اتحاد مسلط کردیا جائے گا ، شہباز شریف کی طرح آصف زرداری کو بھی مفاہمت کی پالیسی کی بھاری قیمت چکانا پڑی ، سو بلاول بھٹو کے انٹرویو سے حکومت کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ، اپوزیشن کے لیے ظاہر ہے کہ اس میں پریشانی والا کوئی معاملہ ہے ہی نہیں ، پیپلز پارٹی کے کئی اہم رہنما جن میں قمرالزمان کائرہ ، مصطفے نواز کھوکھر ، چودھری منظور بھی شامل ہیں کئی ٹی وی پروگراموں میں نواز شریف کے بیانیہ کی کھل کر حمایت کرچکے ہیں ، ایک دو مرتبہ ‘‘ اہلکار ‘‘ اینکروں کے پروگراموں میں جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ نواز شریف کے فوج مخالف بیانئیے کی حمایت کرتے ہیں ، تو جواب ملا فوج تو ہمارا اپنا ادارہ ہے اور نواز شریف کا بیانیہ بھی یہی ہے وہ صرف ان کرداروں کی بات کرتے ہیں جو آئینی حدود پار کرکے مداخلت کرتے ہیں ، خود بلاول بھٹو کا گوجرانوالہ کے جلسے میں یہی کہنا تھا کہ ہم نواز شریف کی تقریر سے رہنمائی حاصل کریں گے ، پیپلز پارٹی کو خوب علم ہے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد ہی اسکی طاقت ہے ، اس وقت یا آنے والے وقت میں اپوزیشن اتحاد سے نکلنا تو درکنار پی ڈی ایم کی کمزوری کا تاثر دینا بھی خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا ، آصف زرداری اس حوالے سابق ڈی جی آئی ایس آئی شجاع پاشا کے دور میں کافی سبق حاصل کر چکے ہیں ، جنرل شجاع پاشا کو ایوان صدر میں دوست کہہ کر بلایا جاتا ، مگر شجاع پاشا نے صدر زرداری اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا ،اس کے باوجود نیا پاکستان بنانے کے مشن میں ایک بار پھر مکمل طور پر مقتدر حلقوں کا ساتھ دینے کا تجربہ کیا گیا اور نتیجہ پہلے بھی خراب نکلا ، دعا دیں مولانا فضل الرحمن کو جن کے پہلے دھرنے سے اسٹبلشمنٹ کو کچھ پیچھے ہٹا پڑا اور اب یقیناً اس پر پہلے سے کہیں زیادہ دبائو ہے ورنہ اب تک سب کو عدالتوں سے نااہل قرار دلوا کر جیلوں میں ڈال دینے کے سکرپٹ پر بھی عمل ہو جانا تھا ، ترجمان اعلیٰ شیخ رشید نے اوپر سے ملنے والی ہدایات پر یہ اعلان بھی کردیا تھا کہ بلاول کے خلاف بھی پکے ثبوت موجود ہیں ، ان کو بھی سیاست سے آئوٹ ہونا ہوگا ،جہاں تک رابطوں کی بات ہے تو سننے میں یہی آرہا ہے کہ سب کے ساتھ الگ الگ پیغام رسانی کی جارہی ہے ، پیپلز پارٹی کا ذکر تو ہوچکا ، مولانا فضل الرحمن کو بھی سینیٹ الیکشن میں اپنے بندے اکاموڈیٹ کرانے کا پیکج پیش کیا گیا ہے ، ن لیگ کی قیادت کو بھی بعض تجاویز بھیجی گئی ہیں ، مگر کہیں سے بھی کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا ، ایسا نہیں کہ پی ڈی ایم میں شامل پارٹیوں کا ماضی بہت درخشاں اور اصولوں پر مبنی سیاست کا ہے ، یقیناً اس حوالے سے بہت تلخ یادیں وابستہ ہیں ، مگر اسٹلشمنٹ کی جانب سے ہر بار ڈاج کرائے جانے کے عمل نے ان سب کو بہت چوکنا کردیا ہے ، اسی لیے مختلف سیاسی نظریات رکھنے کے باوجود اس معاملے پر سب کا موقف ایک ہی ہے
اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا
ورنہ میں تیرا نہیں تھا اور تو میرا نہ تھا
اب اسٹیبلشمنٹ کا امتحان ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے پی ڈی ایم کو توڑے تاکہ نواز شریف کے بیانئیے کا زور ٹوٹ سکے ، دوسری جانب پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو یقین ہے کہ جو اس اتحاد کو کمزور بنانے کی کوشش کرئے گا اسے خود امتحان کا سامنا کرنا پڑے گا ، حالات اس قدر پیچیدہ ہوچکے ہیں کہ جہانگیر ترین کو بھی لندن سے طلب کرکے سیاسی رابطوں کی ڈیوٹی سونپ دی گئی ہے ، بظاہر اس بات کا امکان کم ہے کہ ہر طرح کی ریاستی سپورٹ ہونے کے باوجود ترین کوئی بڑا کام دکھا سکیں ، ایسے میں گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج متازعہ ہوگئے تو محاذ آرائی کہیں سے کہیں جا پہنچے گی ، اس موقع پر عوامی موڈ کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا اور لوگ کیا چاہتے ہیں اسکا اندازہ بلاول کے انٹرویو پر آنے والے ردعمل سے لگایا جاسکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button