کالم/بلاگ

اصل خرابی

سابق چیف جسٹس آف پاکستان نسیم حسن شاہ نے اعتراف کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا دینے فیصلہ جنرل ضیا کے دباو پر کیا گیا ، ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہر جج اتنا بہادر نہیں ہوتا کہ اپنی نوکری جانے کا خطرہ مول لے سکے ، سادہ الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ججوں نے کرائے کے قاتل بن کر بھٹو جیسے بڑے اور عالمی لیڈر کو موت کے گھاٹ اتار دیا ، آج نسیم حسن شاہ بھی اس دنیا میں موجود نہیں ، وہ فوت ہوئے تو اہم ملکی شخصیات نے اظہار افسوس کیا ، جنازے میں جج اور وکلا شریک ہوئے ، یعنی جو شخص خود قتل جیسے قبیح جرم کا اعتراف کرچکا تھا ، وہ آرام سے اپنی طبی عمر گزار کر مر گیا ، یہی اصل خرابی ہے جس کے باعث آج 73 سال بعد بھی ہمارا ملک آگے بڑھنے کی بجائے مسلسل خرابی کا شکار ہوتا جارہا ہے ، حقیقی انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ایسا فیصلہ کرنے والے ججوں کو قانونی راستے کے ذریعے ہی نشان عبرت بنایا جاتا ،اگر ایک بار ایسا ہو جاتا تو پھر شاید ہی کسی جج کو آمر کا خنجر بننے کا حوصلہ ہوتا ، ہمارا یہی المیہ ہے کہ جنرل یحیی خان پاکستان کو توڑ کر مرا تو قومی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ، وہ عہدے سے اترا تو عدلیہ نے موقع غنیمت جان کر اسے غاصب قرار دے دیا ، جس کا اس پر کچھ اثر نہ ہوسکا ، ذرا تصور کریں اگر کسی فوجی آمر کو آئین توڑنے پر آئین ہی میں لکھی سزا دے کر عمل درآمد کرلیا جاتا تو کیا آج یہ حالات ہوتے ؟ کمزوروں کا احتساب اور طاقتوروں کے جوتے پالش کرنا ، بطور قوم ہمارا یہی کام رہ گیا ہے ، مقدس گائیں خود کو ہر طرح کے احتساب اور حساب کتاب سے بالاتر بنا کر ملکی وسائل کا کھیت مسلسل اجاڑ نے پر لگی ہیں اور اور اسی کھیت میں اپنی روزی روٹی تلاش کرنے والے کروڑوں عوام کو فاقوں کا خوف دامن گیر ہے ،پی ڈی ایم کی تحریک کو اسی لیے پذیرائی مل رہی ہے کہ معاشرے کے اصل مسائل اور ان کی حقیقی وجوہات کو کھل کر سامنے لایا جارہا ہے ، اب ملک میں کوئی ادارہ غیر جانبدار ہے نہ ہی غیر متنازعہ ، اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مخدوش ملکی ، علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کا موقع نہیں ، تو اس سے پوچھا جانا چاہیے کہ ملک کو موجودہ حالت تک پہنچانے اور حزب اختلاف کو کشتیاں جلا کر مقابلے پر آنے کے مجبور کرنے والوں نے کس کی خدمت کی تو ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا ، پی ڈی ایم بمقابلہ اسٹبلشمنٹ اس بازی میں دونوں فریق ایک دوسرے پر ایک جیسے الزامات لگا رہے ہیں ، اس صورتحال یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ قومی مفادات کے حوالے سے زیادہ حساس اور مخلص کون ہے ، اداروں کی ساکھ کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے کھلے اعتراضات سب کے سامنے ہیں ، آج دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ فیض آباد دھرنے کا فیصلہ دینے پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا جارہا ہے ، ایک طرف یہ نیک نام جج خود انصاف کی تلاش میں ہے تو دوسری جانب بعض حاضر سروس ججوں کی جانب سے چیف جسٹس ارشاد حسن خان جیسوں کی پذیرائی حیرت کا باعث ہے ، ملک میں آئین کی سربلندی اور عدلیہ بحالی تحریک کے لیے کام کرنے والوں کو امید تھی کہ مارشل کی توثیق کرنے والے جسٹس ارشاد جیسے کردار بھی کٹہرے میں آئیں گے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ، ہر طرف سے دروازے بند کردئیے جائیں تو پھر کہیں نہ کہیں سے تازہ ہوا کی کھڑکی کھلتی ہے جو بعض اوقات بڑھ کر آندھی کی صورت بھی اختیار کر جاتی ہے ، آج قدرت نے پی ڈی ایم کو یہ زمہ داری سونپ دی ہے کہ وہ صرف دھاندلی یا عمران حکومت گرانے کی بات نہ کرئے ، سب کا ایک جیسا احتساب اور ایک ہی ادارے سے ہونا چاہیے کا نعرہ بلند کرئے ، ملک میں خوفناک حد تک کرپشن جاری ہے ، نیب قوانین کو مزید سخت بنانے کی بات کی جائے ، سب سے پہلے نیب کے موجودہ تمام عہدیداروں کا احتساب کرنا ہوگا تاکہ وہ بتائیں کہ کون کب اور کیسے انہیں استعمال کرتا آرہا ہے ، غیر آئینی اقدامات پر سزاؤں کے لازمی اطلاق کے ساتھ بلا لحاظ ادارہ و محکمہ سب کی کرپشن کے مقدمات نیب میں لائے جانے چاہیے ، احتساب کو صرف سیاستدانوں اور ناپسندیدہ افراد کے خلاف ہتھیار بنانے کی بجائے سب کو کٹہرے میں لانے کا سلسلہ 1947 میں ہی شروع کردیا جاتا تو ملک ٹوٹتا نہ ہی آئے روز بحران پیدا ہوتے ، اقتدار اور وسائل پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے حکمران اشرافیہ کے ہتھکنڈوں کے سبب اب آئینی اور غیر آئینی کی بحث بھی غیر متعلقہ ہوتی جارہی ہے ، ایسے میں جب خصوصا جماعت اسلامی یہ کہتی ہے کہ حکومت کی تبدیلی تو ہم بھی چاہتے ہیں مگر یہ آئین کے دائرے کے اندر ہونی چاہیے ، تو سراج الحق سے پوچھا جانا چاہیے کہ 2018 میں الیکشن کی رات جب آپ کی اپنی جیت کو ناکامی میں بدلا گیا تو وہ کارو روائی آئین کی حدود میں رہ کر کی گئی تھی ؟ جماعت اسلامی کو خوب استعمال کرکے ووٹ حاصل کرنے کی دوڑ میںُ نئی نئی چھوٹی چھوٹی پارٹیوں سے بھی نیچے لایا گیا تو یہ اقدام آئینی تھا کیا ؟ سو اگر آپ نے اپنے طور پر یا پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر احتجاج نہیں کرنا تو بے شک نہ کریں مگر چیزوں کو گڈ مڈ بھی نہ کریں ،بدترین گورننس ،تمام وسائل پر مخصوص ٹولے کے قبضے کے بعد اب عام لوگوں کو فوری ریلیف کا فوری امکان نہیں ، ہر گرزتا دن پہلے سے زیادہ سخت ہوگا ، اگر حکومت بدل جائے تو ممکن ہے کچھ سکون ملے ، دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کوئی معجزہ اور اور امریکہ امداد بحال کردے ، لیکن اس کا کوئی امکان نہیں ، سو اب جو کرنا ہے وہ عوام نے خود ہی کرنا ہے ، اس تک کی سیاسی پیش رفت میں یہ بات تو واضح ہوگئی کہ حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم کی قیادت سے اور اتحاد میں شامل جماعتوں سے الگ الگ رابطے کیے جارہے ہیں ، دوسری جانب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اسٹلشمنٹ کے چند اہم عہدیدار حکومت کو یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ دو ماہ میں تحریک کے غبارے سے ہوا نکال دی جائے گی ، اسی لیے اپوزیشن جماعتیں اب کسی پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں اورمذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے , باقی رہ گئی اندرونی اور بیرون تھریٹس تو اتنا کہہ دینا ہے کافی ہے کہ انکی “ ٹائمنگ “ بہت قابل غور ہے ، ٹائمنگ سے یاد آیا مخبر اعلی شیخ رشید نے پانچ ، چھ ماہ پہلے دعوی کیا تھا کہ دسمبر تک تمام بڑے اپوزیشن رھنما عدالتوں سے نا اہل قرار پا جائیں گے ، یقیناً یہ اوپر سے فراہم کردہ خبر تھی جو حالات کا رخ تبدیل ہو جانے کے باعث اب تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکی ، خبر دینے والوں کو بھی اس وقت معلوم نہیں ہوگا کہ دسمبر آئے گا تو سب کو اپنی اپنی پڑ جائے گی ،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button