کالم/بلاگ

”انگزی تعلیم کے ماحول کااثر“

میں نے ڈگری توبیشک حاصل کرلی،مگر اس کالج کی تعلیم کے دوران کالج کے ماحول کے رہنے سہن نے میرے اسلامی شعار اور طریقے کو بالکل ہی بدل دیا اور میں اسلامیات کو بالکل ہی بھول چکا تھا اس لیے یہ ماحول ہی نیا اور ایسا تھا کہ میں وہاں کا رنگ لیۓ بغیر نہ رہ سکا۔
میرا ذہن اورمیرے خیالات، جدید تعلیم وتربیت سے بے حد متاثر ہو چکے تھے۔
اب کیسا دین اور کیسے دین کی باتوں پر چلنا اور کیسا نماز،روزہ کرنا چند سالوں میں میری تنخواہ ماہ وار شروع ہو گٸ۔
ماڈرن بیوی: اب والدین نے میری شادی کی فکر کی وہ چاہتے تھے کہ کسی نیک اور دیندار لڑکی سے میری شادی کریں۔
جوگھر میں ایک اچھی بہو کی طرح رہے لیکن میری خواہش یہ تھی کہ وہ آج کل کی نٸی تہزیب اور نٸی تعلیم سے واقف ہو تاکہ موجودہ دور اور اعلی سوساٸٹی کے مطابق زندگی گزارے ہر ایک کے ساتھ کھلے عام باتیں کر سکے، ننگے ڈانس دیکھ سکے اور ننگے ڈانس کرسکے،سینہ تان کر بازاروں میں چل سکے اور ہر بےحیاٸی کے کام میں ترقی کرکے آگے بڑھ سکے۔
لہزا میں نے اپنی پسند کاذکر اپنی ماں کے ذریعے اپنے والد سے کردیا۔
لیکن انہوں نے اسے پسند نہ کیا اور برا مانا۔
لیکن مجھے نٸی روشنی کے سوا کچھ دکھاٸی ہی نہیں دیتا تھا ایسابھوت سرپرسوار تھا کہ کہا کا خدا کا خوف اور کہا کا دین کاشوق،نہ قرآن مجید سے محبت اور نہ نبیﷺسے الفت ہرطرف سے نفس اور شیطان نے پوری طرح سے رنگ چڑھا دیا اور میں اپنی ضد پر قاٸم رہا ماں باپ کی بات کسی طرح بھی میری عقل میں نہ آٸی تھی اورنہ ہی میں ماننے کےلیے تیار تھا بہرحال میں نے اپنے والدین کو باربار اصرار کر کے راضی کرلیا وہ میرے اصرار سے راضی ہوگے شاید اس وجہ سے کہ انہیں اندیشہ تھا کہ اگر وہ انکار کردیں تو شاید میں اپنی من مانی کروں اس خوف سے انہوں نے ہاں کردی۔
لہذا ایک فیشن ایبل،جاہل اور دین سے بے بہرہ لڑکی سے میری شادی ہو گٸی شادی کو ابھی دوچار مہینے ہوۓ تھے تھے کہ والد صاحب کے کارخانے میں گیس کی ٹینکی پھٹ جانے سے انکی دونوں آنکھیں جاتی رہیں اسلیۓ اب وہ کارخانے جانے سے معزور اوربےکار ہوگۓ اور کام کے کابل نہ رہے اور اب گھر میں ہی رہنے لگے اور ان کو کارخانے کی طرف سے ایک معمولی رقم معزوری الاٶنس کے طور پر ملنے لگی۔
میری بیوی کو اسلامی تعلیم تہزیب سے دورکا بھی واسطہ نہ تھا وہ صرف آزاد خیال اور تیز مزاج عورت تھی، وہ کیا جانے اسلام کیا ہے وہ تو پہلے ہی دن سےجاہل مطلق تھی کچھ اس کی سہیلیوں نے اس کے کانہ بھر دیۓ تھے کہ ارے دیکھوں ساس سسر کی خدمت کرنا تمہارا فرض نہیں، بلکہ ساس سسر تو تمہاری خدمت کے لیے ہیں ان سے جو چاہیے خدمت لینا لڑکیاں جاہل اور بے عقل ہوتی ہیں اپنے ساس سسرکی خدمت کیا کرتی تمہارا کوٸی حق نہیں ان کی خدمت کرنا۔
لیکن جب میں نے دیکھا کہ میری یہ محبوبہ بیوی میرے بوڑھے ماں باپ کی خدمت سے نفرت اور پرہیز کرتی ہے تومیں اس پر ناراض ہوا لیکن آہستہ آہستہ اس نے مجھ پر جادو کردیا کہ میں اس کی کسی بات حرکت پر اظہار ناپسندیدگی نہیں کرتا تھا میں اس کی تلخ مزاجی اورڈانٹ ڈپٹ کو برا نہ جانتا تھا خواہ وہ میرے سامنے میرے والدین کو کچھ بھی برا بھلا کہتی رہتی،لیکن میرے کان پر جوں نہ رینگتی اور مجھے ذرہ بھر بھی برا معلوم نہ ہوتا تھا اب میرے والدین پرآۓ دن طرح طرح کے الزامات لگانے لگی ۔
مجھے اس سے اتنی محبت ہوگٸی تھی کہ میں اسے کچھ نہ کہتا۔
لیکن کیا کرتا میں اب صرف نفس کا بندہ بن گیا تھا اور روحانی موت مرچکا تھا حتیٰ کہ زبان تک نہ اس کے سامنے ہلاتا بس ہروقت اسی کا کلمہ پڑھتا اور اسی کے محبت کےگن گاتا جو کچھ پڑادیکھتا رہتا میرے پیارے والدین نے بے بس اور مجبور ولاچار ہو کر اور نہایت تنگ آکر مجھ سے فریاد اور شکایت کی۔
میری بدبختی میں نے یہ کہہ کرٹال دیا کہ آپ کو
غلط فہمی ہے میری بیوی ایسی نہیں ہے۔
وہ بڑی عقلمند اور سلیقہ شعار ہے آپ کی عقل ٹھیک نہیں(مجموعہ افادات)
کاش کاش اس کے برعکس اگر بیوی اگرچہ اس نے انگریزی تعلیم کالج کے ماحول میں وقت گزارا لیکن محبوب ﷺکا دین پڑھ کرسمجھ لیتی اور اس پر عمل کرلیتی توگھر جنت کا منظر پیش کرتا والدین سے درخواست ہےکہ پریشانیوں اور برے وقت سے بچنا ہے تو اپنی اولاد کو دین کاعلم ضرور برضرور پڑهنا اللہ تعالی سب کے والدین کوپریشانی اور مصیبت سے بچاۓ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button