اہم خبریںاہم خبریںپاکستان

دوران سروس "مر” کر سرکاری مراعات سمیٹنے والا حساس ادارے کا "مردہ” گرفتار

دوسری شادی کی خوشیاں انجوائے کرنے کے لئے سارا ڈرامہ رچایا،موبائل کی وجہ سے پکڑا گیا

فیصل آباد(ویب ڈیسک) کچھ دن پہلے فیصل آباد میں ایک حساس ادارے کے ملازم کو قتل کر کے اس کی لاش جلا دی گئی تھی۔مقتول کی ناقابل پہچان لاش کے پاس سے اس کا ادھ جلا شناختی کارڈ، تقریبا ساری جلی ہوئی وردی اور سروس کارڈ ملے تھے۔ پولیس نے اس قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزم کیخلاف درج کیا۔حساس ادارے کے اس ملازم کی باقیات کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
اس اندھے قتل کا سراغ لگانے کیلئے پولیس نے تفتیش شروع کی۔مقتول کے موبائل نمبرز سے سی ڈی آر وغیرہ نکلوایا گیا۔ مقتول کے نام پر چلنے والے پرانے دونوں نمبر بند تھے تاہم اس دوران پولیس کو اس بات نے چونکا دیا کہ وقوعہ کے صرف دو دن بعد ہی گوجرانوالہ میں مقتول کے آئی ڈی کارڈ سے ایک نئی سم نکلوا کر ایکٹو کروائی گئی تھی۔ پولیس نے اس کلیو پر کام شروع کیا۔
گوجرانوالہ میں جس جگہ پر یہ نمبر ایکٹو تھا وہاں چھاپہ مارا گیا۔ یہ نمبر ایک گھر میں ایکٹو تھا۔ تاہم اس گھر کے مرکزی دروازے کو باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔ پولیس کسی طرح اس گھر کے اندر پہنچی۔ اہلکاروں کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب حساس ادارے کا مردہ ملازم ان کے سامنے زندہ موجود تھا۔
حساس ادارے کا مقتول ملازم زندہ ہے تو پھر جو لاش ملی تھی وہ کس کی تھی؟
چکر کچھ یوں تھا کہ ان ملازم صاحب نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے کر کچھ عرصہ قبل ہی دوسری شادی کی تھی۔ یہ اپنی اس نئی دنیا کو خوب بہتر طریقے سے انجوائے کرنا چاہتے تھے۔ ہنی مون وغیرہ کیلئے چھٹیاں اور لمبے اخراجات۔ کیسے مینیج ہو؟ سوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کے ملازم شخص ہیں۔ جمع پونجی کچھ خاص ہے نہیں۔ ادارے سے اچھی رقم ملے گی لیکن تب جب وہ ریٹائرڈ ہوں گے۔ یا تب جب ان کی دوران سروس اچانک وفات ہو جائے۔
اسی غور و فکر میں انہیں یہ بھی پتہ چلا کہ دوران سروس وفات کی صورت میں ان کی بیوہ کو ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی زیادہ چوڑے واجبات اور مراعات ملیں گی۔لہذا انہوں نے اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ مل کر ایک پلان بنایا۔
حساس ادارے کے ان ملازم صاحب نے ایک بس اسٹینڈ سے پیسے دینے کے لالچ میں ایک نشئی کو ساتھ لیا۔اسے قتل کیا اور اس کی لاش جلا دی۔ اپنی جلی ہوئی یونیفارم بھی وہیں پھینکی۔شناختی کارڈ اور سروس کارڈ کو بھی تھوڑا سا جلایا اور لاش کے پاس پھینک دیا۔یہ کارڈز اس طرح جلائے گئے تھے کہ اس کا نام اور شناخت ظاہر رہے۔
مقتول ملازم صاحب نے سرکاری اعزاز کے ساتھ اپنے آپ کو سپرد خاک کروایا اور گوجرانوالہ میں ایک مکان لے کر رہنا شروع کر دیا۔ ملازم صاحب نے گھر کے مرکزی دروازے کو باہر سے تالا لگوایا اور خود اندر آرام کیا کرتے تھے۔
اس انتظار میں تھے کہ نئی بیگم کاغذی کارروائی وغیرہ پوری ہونے کے بعد ادارے سے لمبی رقم لائیں تو یہاں سے کہیں اور نکل جائیں۔ لیکن موبائل کے چسکے نے کام خراب کر دیا۔ "مردہ” اب فیصل آباد پولیس کی حراست میں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button