کالم/بلاگ

”لڑکیوں والوں کےلیے خوشخبری“

حدیث شریف میں ہے کہ جب کسی کے یہاں لڑکی پیداہوتی ہے تو خدا اس کے یہاں فرشتے بھیجتا ہے کہ جوآکر کہتے ہیں۔اے گھروالو!تم پر سلامتی ہو،وہ لڑکی کو اپنے پروں کے ساۓ میں لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہتے ہیں یہ کمزور جان ہے جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوٸی جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خداکی مدد اس کے شامل حال رہے گی(طبرانی)
حضورﷺنے فرمایا جو شخص بھی لڑکیوں کی پیداٸش کے ذریعے آزمایا جاۓ اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرکے آزماٸش میں کامیاب ہو تو یہ لڑکیاں اس کے لیے قیامت کے روز جہنم کی آگ سے ڈھال بن جاٸیں گی(مشکوة)
سرکاردوعالمﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کرنے پرجتنے فضاٸل بیان فرمائے ہیں بیٹے کی پرورش پر اس قدر بیان نہیں فرمائے ”حضرت ابوسعیدخدریؓ سے مروی ہے کہ سرکاردوعالمﷺنے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تیں بہنیں ہو اور وہ ان کےساتھ احسان اور سلوک کا معاملہ کرے ان کے ساتھ اچھا برتاٶ اور اچھا معاملہ کرے(ان کے وجود کو اپنے لیے ذلت اور خواری کا باعث نہ سمجھے) تواسکی بدولت وہ جنت میں داخل ہو گا(ترمزی)
حضرت عاٸشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا جس شخص پر لڑکیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہو اور وہ اس پر صبر وتحمل سےانجام دے یہ لڑکیاں اس کے جہنم سے آڑ بن جاٸیں گی(ترمزی)
آج کل لڑکیوں کے پیدا ہوجانے کوعیب سمجھا جاتاہے لڑکا پیدا ہونے سے تو خوشی ہوتی ہے لڑکی پیدا ہونے سے خوشی نہیں ہوتی۔
کفار مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ لڑکی کی پیداٸش کو بہت برا سمجھتے تھے لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے یہی حال آج اس امت کا ہو رہا ہے کہ لڑکی کو منحوس سمجھتے ہیں۔
حالانکہ لڑکیوں پر خرچ کرنے میں جتنا ثواب ملتا ہے لڑکوں پر خرچ کرنے میں اتنا نہیں ملتا۔
ایک حدیث میں ہے کہ ایک صحابیؓ نے حضورﷺسے پوچھا کہ میرے مال کا سب سے اچھا مصرف کیا ہے حضورﷺنے ارشاد فرمایاکہ تیری وہ لڑکی جو تیرے طرف لوٹادی جاۓ۔
لڑکی کے باپ کے لوٹنے کی یہی شکل ہوتی ہے کہ یا تو وہ بیوہ ہو جاۓ یامطلقہ ہو جاۓ یا اس کا شوہر اس کو اچھی طرح رکھتا نہ ہو ایسی حالت میں بچاری کہاں جاۓ گی اپنے ماں باپ اور بھاٸ بھی اسکے نہ ہوں گے توکون ہو گا۔
بعض لوگوں کو دیکھا کہ لڑکی کی شادی ہو جانے کے بعد پھر اس کے ساتھ بیٹی جیسا سلوک نہیں کرتے اس کے ساتھ اجنبیوں جیسا برتاٶ کرتے ہیں اچھے خاصے پڑھے لکھے دیندار لوگوں تک اس میں مبتلا دیکھا گیا ہے۔
ارے اس بیچاری کی اگر بھاٸی کی بیوی سے نہیں بنتی تو ماں باپ اور بھاٸی توہیں ان کو خیال کرنا چاہیۓ تعجب ہے کہ وہ بھی نہیں خیال کرتے۔
ایک حدیث شریف میں آیا کہ جس کے گھر میں لڑکی پیدا ہوٸی اور اس نے اس کو اچھی طرح پالا،تربیت کی، شادی کی اس کے لیے جنت ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ وہ عورت بڑی برکت والی ہے جس کے پہلے لڑکی پیدا ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button