کالم/بلاگ

نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے

انعم ملک

 

چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے
نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے

نشہ کیا ہے؟ جب کوئی کسی چیز کا عادی ہو جائے اور وہ نہ ملے تو زندگی میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ کوئی چیز اچھی نہیں لگتی اور انسان چڑچڑے پن کا شکار ہو کر ڈیپریشن میں چلاجاتا ہے۔

دنیا میں جتنے لوگ نشہ کرتے ہیں، اتنی ہی نشہ کرنے کی وجوہات ہیں، جن میں سے چند ایک گھریلو ناچاقی، بیروزگاری، ذہنی اذیت کا شکار، رشتوں میں ناکامی، لاحصل کی تمنا، ڈپریشن اور ٹینشن ہیں۔ نشے میں مبتلا شخص اپنی ہر حرکت کو جائز سمجھتا ہے۔ نشے کی خاطر وہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے۔

سال بھر ہی بڑے پیمانے پر منشیات کو جلانے کی خبریں سامنے رہتی ہیں اور سال بھر ہی کسی نہ کسی نئے نشے کا بھی انکشاف ہوتا ہے۔ قوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 26 کروڑ 90 لاکھ افراد منشیات کا استعمال کرتے ہیں ۔منشیات کی وجہ سے ایک کروڑ 18 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مگر صورتحال کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی ٹوٹل آبادی میں سے 76 لاکھ افراد جن میں سے 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ہیں منشیات کے عادی ہیں جبکہ اس تعداد میں سالانہ 40 ہزار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 25 سے 39 سال کے 67 لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں۔

پاکستان میں نشہ آورافراد کی مختلف اقسام ہیں۔ زندگی کے ہر شعبہ کی طرح اس میں بھی مختلف کیٹگریز ہیں جو مختلف نشہ استعمال کرتے ہیں۔ سڑک کنارے پڑے شخص کا نشہ اگر انجکشن ہے تو الیڈ کلاس کا نشہ شیشے سے شروع ہو کر شراب، آکسی شاٹس، برانڈڈ شراب اور امپورٹڈ افیم ہیں۔ بدقسمتی سے شہروں میں موجود ہوسٹلز (خواہ لڑکوں کے ہوں یا لڑکیوں کے) نشہ استعمال کرنے کے بڑے ٹھکانے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ منشیات اب ہمارے سکولوں اور کالجوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات اعظم سواتی نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بڑھتے منشیات کے استعمال میں زیادہ تعداد خواتین طلباء کی ہے، انھوں نے کہا کہ طالبات کو اس لت سے بچانے کیلئے خفیہ مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل سابق وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے بھی اس بات کوبار ہا دہرایا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات پھیل چکی ہے۔ ان کے مطابق دارالحکومت کے بڑے تعلیمی اداروں میں 75 فیصد طالبات اور 45 فیصد طلبہ آئس کرسٹل کا نشہ کرتے ہیں اور یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے ایک بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے، پاکستان میں ایسے کئی ادارے ہیں جو منشیات کیخلاف کام بھی کر رہے ہیں اور اسی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے ایک فلاحی ادارہ چیمپ (چینجنگ ہارٹ اینڈ مائینڈ پاکستان) کافی سرگرم ہے۔
یہ ادارہ ذہنی امراض اورانسداد منشیات کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد تمام نوجوانوں کو منشیات کے مضر اثرات کی تعلیم دینا، اسکولوں، کالجوں میں سوشل ٹریننگ، علاج کے لئے جدید سائنسی پروگرامز متعارف کرانا ہے۔ ان کا عزم ڈرگ ٹریفیکنگ کو موثر طریقے سے روکناہے۔

CHAMP (Changing Hearts and Minds Pakistan)
یہ ادارہ وزارت انسداد منشیات کیساتھ ملکر تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کیلئے ڈرگ فری کیمپس مہم کا آغاز بھی کر چکا ہے اور انکا زیادہ کام تعلیمی اداروں سے متعلق ہی ہے۔ حال میں جی سی یونیورسٹی لاہور کو ڈرگ فری کیمپس قرار دیا ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی یونیورسٹی ہے جنہوں نے اپنے طلباء کی ایک اینٹی نارکوٹکس سوسائٹی کا باقادہ انعقاد کیا ہے۔ جو منشیات کے حوالے سے ہونے والی تمام ترسرگرمیوں پر نظر رکھے گی ۔ چیمپ اسی ماڈل کو پاکستان بھر کے دیگر تعلیمی اداروں میں متعارف کروانا چاہتی ہے۔ تاکہ ہر یونیورسٹی کے طلباء پر مشتمل ایک کمینوٹی اینٹی ڈرگز یا ڈرگز فری کے طور پر کام کرے اور طلباء میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکا جا سکے۔

چیمپ کمیونٹی کا ماننا ہے کہ جو لوگ منشیات کے عادی ہوچکے ہیں اُنہیں مجرم سمجھنے کے بجائے اُن کی زندگی کی نارمل صلاحیت کی بحالی میں مدد کی جائے۔ منشیات کا کاروبار کرنے والے افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔ جبکہ ہمارے ہاں تو امتناعِ منشیات آرڈینینس بھی موجود ہے جو 1979 میں پاکستان میں بنایا گیا۔ اب تو اس قانون کو بعض ترمیم کے بعد مزید سخت کردیا ہے اور اِس میں موت اور عمر قید تک کی سزائیں موجود ہیں۔ لیکن اِس کے باوجود اِن جرائم میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ نشہ آور چیزوں کی خرید و فروخت میں اسی وقت صحیح طور پر کمی آسکے گی جب لوگ از خود اس کی برائیوں کو سمجھیں اور ایک ذمے دار شہری ہونے کا فرض ادا کرتے ہوئے اس سے اپنے اور اپنے دیگر دوست واحباب کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں ورنہ انتظامیہ ہر شخص کا ہاتھ تھام کر اسے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی، یہ ممکن ہی نہیں۔ منشیات کے استعمال کے خلاف مہم میں انٹرنیٹ، موبائل فونز، ریڈیو اور ٹیلی وژن کا موثر استعمال لینا چاہئے۔ یہ بچے ہماری قوم کا اثاثہ ہیں انہیں بچانا ہمارا اولین فرض ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button